توہین عدالت نہیں صدر کو صرف فوجداری کارروائی میں استثنیٰ ہے لاہور ہائیکورٹ

استثنیٰ حاصل نہیں،وکیل درخواست گزار،صدرپرجرم ثابت ہوجائے توکیاکارروائی روکی جاسکتی ہے، جسٹس نجم الحسن،دلائل مکمل


Numainda Express December 15, 2012
19دسمبرکووفاق کے وکیل کوجوابی دلائل کی ہدایت،لیپ ٹاپ تقسیم کیس میںپنجاب حکومت کاجواب داخل،سماعت21دسمبرتک ملتوی فوٹو: فائل

لاہور ہائیکورٹ کے5رکنی فل بینچ نے صدرزرداری کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران قراردیاہے کہ توہین عدالت کے کیس میں کسی کوبھی کلی طورپراستثنیٰ حاصل نہیں۔

جب آئین اورقانون کے مطابق چلناہے توپھریہ بھی دیکھناپڑے گاکہ اس میں کس کس کوآئینی تحفظ حاصل ہے اورعدالت اس کودیکھے بغیرکیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔فاضل عدالت نے یہ ریمارکس صدر مملکت زرداری کے خلاف دائرتوہین عدالت کیس میں درخواست گزاروںکے وکلاکے دلائل مکمل ہونے کے بعد وفاق کے وکیل وسیم سجادکوطلب کرتے ہوئے مزیدسماعت 19 دسمبر تک ملتوی کردی۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم5رکنی فل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔بینچ کے دیگرارکان میں جسٹس ناصرسعیدشیخ،جسٹس شیخ نجم الحسن،جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس سیدمنصور علی شاہ شامل ہیں۔عدالت کے روبرودرخواست گزار کے وکلا اے کے ڈوگر اور اظہر صدیق نے موقف اختیار کیاکہ سپریم کورٹ کے احکامات واضح ہیں۔

5

ہائیکورٹ انہی فیصلوں کومدنظر رکھتے ہوئے توہین عدالت کی کارروائی آگے بڑھاسکتی ہے۔ جسٹس شیخ نجم الحسن نے استفسارکیاکہ کیاتوہین عدالت کی کارروائی میں صدرپرجرم ثابت ہو جائے تو پھر جب تک وہ صدر ہیں کیاان کیخلاف کارروائی روکی جا سکتی ہے۔ اے کے ڈوگر نے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ملک میں کسی کو استثنی حاصل نہیں۔ چیف جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ صدراور گورنرکوفوجداری کارروائی میں استثنی حاصل ہے تاہم توہین عدالت کے کیس میں کسی کوبھی کلی طور پر استثنی حاصل نہیں۔ جسٹس سیدمنصور علی شاہ نے قرار دیا کہ جب آئین اورقانون کے مطابق چلناہے تو پھر اس میں یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اس میں کس کس کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور عدالت اس کو دیکھے بغیر کیسے آگے بڑھ سکتی۔

اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ توہین عدالت نہ دیوانی اورنہ فوجداری ہے بلکہ دونوں میں سے کوئی نہیں اور یہ Sui Generis ہے اور پوری دنیا میں اسی کے تحت توہین عدالت کی کارروائی ہوتی ہے۔ اظہرصدیق ایڈووکیٹ نے بتایاکہ توہین عدالت کی اس درخواست میں صدرکے عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے بارے میں اخباری تراشے اور دستاویزی ثبوت لگا دیے گئے ہیں حتیٰ کہ ملکوال میں ہونے والے جلسے کے تصویری ثبوت بھی لگائے گئے ہیں۔این این آئی کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عمر عطابندیال نے کہاکہ ہائیکورٹ صدرکے دو عہدوں کے کیس میں واضح کرچکی ہے کہ آئین کسی کو بھی توہین عدالت کے معاملہ میں مکمل تحفظ فراہم نہیں کرتا۔فاضل بینچ نے درخواست گزاروں کے وکلاکے دلائل مکمل ہونے کے بعد سماعت 19دسمبر تک ملتوی کرتے ہوے صدرکے وکیل کو بحث کے لیے طلب کرلیا۔

دریں اثنالاہورہائیکورٹ کے جسٹس محمد خالدمحمود خان نے حکومت پنجاب کی جانب سے طلبا و طالبات میں لیپ ٹاپ تقسیم اسکیم میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے خلاف دائردرخواست میں پنجاب حکومت کے جواب داخل کرنے کے بعدمزید سماعت21دسمبرتک ملتوی کردی۔