بائیں بازو کا احیا

بیسویں صدی کے آخری عشرے تک دنیا میں بائیں بازوکی نظریاتی سیاست کا دور دورہ تھا


Zaheer Akhter Bedari October 28, 2016
[email protected]

بیسویں صدی کے آخری عشرے تک دنیا میں بائیں بازوکی نظریاتی سیاست کا دور دورہ تھا، بائیں بازوکی سیاست کبھی نان ایشوز پر نہیں ہوتی تھی۔ بائیں بازو کی سیاست نظریاتی ہوتی تھی جس کا بنیادی مقصد سرمایہ دارانہ، استحصالی نظام کا خاتمہ اور ایک ایسے نظام کا نفاذ ہوتا تھا جو غریب عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا خاتمہ کر سکے۔

بائیں بازو کی قیادت سیاسی محاذ کے علاوہ مزدوروں، کسانوں، طلبا، ڈاکٹروں، وکلا غرض ہر شعبہ زندگی میں فعال رہتی تھی اس طرز سیاست کی وجہ عوام میں ایک عمومی بیداری موجود ہوتی تھی۔ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اور پیروکار بائیں بازو کی سیاست کے دشمن ہوتے تھے اور بائیں بازو کے کارکنوں اور رہنماؤں کے خلاف ریاستی مشنری کا استعمال عام تھا۔

پاکستان میں بائیں بازو پر بھرپور حملہ پنڈی سازش کیس کے بہانے کیا گیا، ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا گیا اور ہزاروں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔ بائیں بازوکی طلبا تنظیموں، مزدور اورکسان تنظیموں پر پابندیاں لگا دی گئیں حتیٰ کہ ادیبوں اور شاعروں کی معروف تنظیم انجمن ترقی پسند مصنفین بھی پابندیوں کی زد میں آ گئی اور اس ریاستی جبر کے ذریعے بائیں بازوکی سیاست کو ختم کر دیا گیا۔

عشروں کی غیر فعالیت کے بعدکراچی میں پچھلے دنوں پاکستان ورکرز پارٹی کی دو روزہ کانگریس منعقدہ ہوئی جس میں چاروں صوبوں کے علاوہ فاٹا کے مندوبین بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ تنظیمی اجلاسوں کے بعد 16 اکتوبر کو آرٹ کونسل میں ایک اوپن نشست منعقد کی گئی جس میں چاروں صوبوں اور فاٹا کے چار سو سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی۔ مندوبین اور عام شہریوں کی اس نشست میں شرکت اور گہما گہمی سے ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان میں بائیں بازوکی سیاست کا احیا ہو رہا ہے۔

سوشلسٹ بلاک کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد ساری دنیا میں بایاں بازو بے عملی کا شکار رہا ہے اس کی ایک بڑی وجہ یہ رہی کہ بائیں بازو کے نظریہ ساز نظریاتی انتشارکا شکار رہے۔ بائیں بازو کی سیاست روس، چین انقلاب کے نظریے پر استوار تھی، بلاشبہ 1917ء اور 1949ء کے روسی اور چینی انقلابات نے دنیا بھر کے محکوم اور استحصال کے شکار عوام میں امید کی ایک کرن پیدا کر دی لیکن بائیں بازو کے نظریہ ساز یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔

بائیں بازو کی سیاست کا بنیادی مقصد سرمایہ دارانہ استحصالی نظام کا خاتمہ رہا ہے اور آج بھی بائیں بازو کی سیاست کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے عوام کو سرمایہ دارانہ استحصال نظام سے نجات دلانا ہی ہے لیکن یہ بڑا کام کیا روایتی انقلابات کے ذریعے ہی کیا جائے گا یا پارلیمانی سیاست کے ذریعے کیا جائے گا؟ اس حوالے سے دنیا بھر میں آج بھی ایک نظریاتی انتشار موجود ہے اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ دنیا کی کمیونسٹ پارٹیوں نے نئی حالات کے تناظر میں تبدیلیوں کے لیے کوئی واضح گائیڈ لائن نہیں فراہم کی جس پر بائیں بازوکا اتفاق ہو۔

روس، چین اور سابق سوشلسٹ بلاک سے منسلک ملکوں نے سرمایہ دارانہ معیشت اختیار کر لی ہے ہو سکتا ہے ان کا یہ فیصلہ جدید دنیا کی ضرورتوں کے مطابق ہو لیکن ہم اسے نظریاتی غداروں کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دے سکتے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اب انقلاب کا روایتی تصور دھندلا گیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا بھر کے غریب اور مفلوک الحال عوام کے مسائل سرمایہ دارانہ نظام میں حل ہو سکتے ہیں؟

اس کا واضح اور غیر مبہم جواب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ استحصالی نظام عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتا بلکہ ان میں اضافہ کر سکتا ہے اورکر رہا ہے اس روز روشن حقیقت کو تسلیم کرنے کے بعد سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آج کے حالات میں تبدیلیوں کے لیے راستہ کون سا اختیار کیا جائے؟ اس سوال کا جواب عالمی سطح پر بائیں بازو کے اکابرین کو تلاش کرنا چاہیے اور جواب اس قدر مدلل نظریاتی اور قابل عمل ہو کہ دنیا کے عوام اسے قبول کر لیں اور دنیا بھر کی پارٹیوں کا بھی اس پر اتفاق ہو۔

اس میں ذرا برابر ابہام نہیں ہے کہ دنیا کے 7 ارب انسان سرمایہ دارانہ نظام سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں لیکن اس بڑے کام کو مربوط کرنے کے لیے کوئی ایسی ہوشمند اور مخلص قیادت نظر نہیں آتی۔ اس مسئلے پر کوئی دو رائے نہیں ہے کہ دنیا کے 7 ارب عوام سرمایہ دارانہ استحصال سے نجات چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ایسی قیادت کی ضرورت ہے کہ جو دنیا کے مظلوم عوام کو ایک لڑی میں پرو دے، سرمایہ دارانہ نظام جنگوں کے کلچر پر استوار ہے۔

دنیا کے ملکوں میں اختلافات اور علاقائی تنازعات سرمایہ دارانہ نظام اوراس کی ریڑھ کی ہڈی ہتھیاروں کی صنعت کو خوراک فراہم کرتے ہیں ان تضادات کا مثبت حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ورکرز پارٹی کی اس دو روزہ کانگریس کے شرکا میں جو جوش ولولہ دیکھا گیا اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے اس میدان میں فعال کارکن موجود ہیں ان کی درست سمت میں رہبری کی ضرورت ہے۔ میں بیماریوں کی وجہ سے غیر فعال ہوں لیکن منظور رضی کے ذریعے بائیں بازو کی سرگرمیوں کی خبریں ملتی رہتی ہیں، منظور رضی جیسے متحرک رابطہ کار کارکنوں کی شدید ضرورت ہے۔

16 اکتوبر کو عابد حسن منٹو سے بات ہوئی میں نے انھیں مشورہ دیا کہ زرعی اصلاحات اور انتخابی اصلاحات کے مسائل پر عوام کو متحرک کیا جانا چاہیے جو آج کے پاکستانی مسائل ہیں، بنیادی حیثیت کے حامل ہیں اور 'اسٹیٹس کو' کو توڑنے کی سیاست کرنے والی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بننا چاہیے۔

مقبول خبریں