افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

کالجوں کے اسٹوڈنٹس اگر بس پر چڑھ کر کسی بڈھے دیہاتی کو دیکھتے ہیں تو اسے اٹھا کر خود بیٹھ جاتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq October 28, 2016
[email protected]

اکبرؔ الہ آبادی کا ایک شعر بلکہ ''شیر'' ہے کیونکہ وہ اکثر اپنے شعر کو ''شیر'' ہی کی طرح متعلقہ لوگوں پر چھوڑتے تھے جس ''شیر'' کا ہم ذکر کرنا چاہتے ہیں اسے لوگوں نے غلط سمجھا ہے پہلے ''شیر'' دیکھ لیجیے

یوں قتل پہ بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

لوگوں نے اگر اسے سمجھا ہے تو غلط سمجھا ہے۔ وہ کچھ بھی سمجھ سکتے ہیں بول سکتے ہیں اور لکھ سکتے ہیں، مثلاً آج مملکت اللہ داد پاکستان کے لوگ خود کو دو طرح کے لوگ سمجھتے ہیں۔ ایک وہ جو انسان سے بہت زیادہ اور خدا سے تھوڑے کم، محض انیس بیس کے فرق کے ساتھ ہوتے ہیں، حالانکہ وہ خود کو کبھی کبھی خدا سے بھی تھوڑے زیادہ ہو جاتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ جو جانوروں سے تھوڑے زیادہ اور انسانوں سے بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

اس لیے اگر لوگ اکبرؔ الہ آبادی کے اس ''شیر'' کو غلط مفہوم میں لیتے ہیں تو کوئی خاص بات نہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ اکبرؔ الہ آبادی نے بھی خود اپنے ہی شعر کو غلط معنوں میں لیا ہے، مرحوم حمزہ شنواری خود بتاتے تھے کہ ایک دن اسکول میں میرے پوتے سے استاد نے میرے شعر کے معنی پوچھے تو وہ نہ بتا سکا، استاد نے کہا تم کیسے ان کے پوتے ہو جو انھی کے شعر کا مفہوم نہیں سمجھتے؟ اس پر میرا پوتا بولا۔ میرے دادا خود بھی اپنے شعروں کا مفہوم نہیں سمجھتے، اور یہ سچ ہے کہ میں بہت سارے اپنے پرانے شعروں کا مفہوم نہیں سمجھتا، شاید اکبرؔ الہ آبادی بھی ''شیر'' کو کسی پر چھوڑنے کے بعد یہ بھول جاتے تھے کہ میں نے کسی پر یہ ''شیر'' کیوں اور کس لیے چھوڑا ہے۔

بظاہر تو اس ''شیر'' کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے کالج کو بچوں کا ایک آلہ سمجھ لیا تھا یہ بات کسی حد تک سچ تو ہے کیوں کہ ہم نے اکثر بسوں میں دیکھا ہے کہ جب کوئی بزرگ بس پر چڑھتا ہے اور جگہ نہیں ہوتی اور کوئی ان پڑھ دیہاتی کسی سیٹ پر بیٹھا ہو تو وہ فوراً اٹھ کر بزرگ کو اپنی سیٹ پر بٹھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن کالجوں کے اسٹوڈنٹس اگر بس پر چڑھ کر کسی بڈھے دیہاتی کو دیکھتے ہیں تو اسے اٹھا کر خود بیٹھ جاتے ہیں، لیکن پھر بھی اس ''شیر'' کا منہ کالجوں کی طرف نہیں ہے بلکہ کالجوں کے ذریعے ''نوجوانوں کا کہیں کا بھی نہ رکھنے'' کی طرف ہے کہ بچوں کو پکڑ پکڑ کر ویسا ہی نابود کرتے ہیں جیسا کہ فرعون یہودیوں کے بچوں کو کرتا تھا بلکہ ایک طرح سے ''فرعون'' تو یہودی بچوں پر احسان ہی کرتا تھا کہ پیدا ہوتے ہی انھیں ''آزاد'' کر دیتا تھا کیونکہ ان کے مقدر میں تو قبطیوں کی زنجیر پڑنا طے ہوتا تھا جیسا کہ آج ہر پیدا ہونے والے بچے کا بیروزگار، کسمپرس اور دربدر ہونا طے ہے۔

سوائے اس قلیل تعداد کے جو یا تو چائیلڈ لیبر جوائن کر کے کچھ نہ کچھ بن جاتے ہیں اور یا وہ جو وزیر ابن وزیر، افسر ابن افسر اور امیر ابن امیر ہوتے ہیں جو اگر بیروزگار بھی رہیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ نسل ہائے نسل سے وہ لوگوں کی اس کیٹگری میں چلے آ رہے ہیں جن کو ضرورت نہیں ہوتی، لیکن پھر بھی سیٹ ان کی مخصوص ہوتی ہے ضرورت نہیں ہوتی لیکن قرضہ لے کر پی جاتے ہیں، ضرورت نہیں ہوتی لیکن سرکاری مراعات بڑھتی رہتی ہیں، ضرورت نہیں ہوتی لیکن پھر بھی خدمت سے باز نہیں آتے۔

ملک کے کسی دوسرے حصے کا تو ہمیں علم نہیں ہے لیکن اپنے صوبے خیر پہ خیر میں ہم چیلنج کرتے ہیں کہ اگر دو فیصد بھرتی ہونے والے بھی ایسے دکھائے جائیں جنھیں ملازمت ''تعلیم'' کی وجہ سے ملی ہو تو جو چاہیے سزا دیجیے ہم قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جتنے لوگ سرکاری ملازمتوں سے سرفراز ہوئے ہیں ان میں یا وزیروں، منتخب نمایندوں یا ان کے اہل خاندان نے ''اپنے'' لوگ بھرتی کیے ہیں یا مقررہ نرخ نامے کے حساب سے قیمت ادا کر کے حاصل کر چکے ہیں اور یہ نرخ نامہ ایک دو سے شروع ہو کر بیس لاکھ روپے تک ہے جس کے آخری سرے کے کاؤنٹر پر کوئی وزیر منتخب نمایندے کا کوئی بھائی یا بھتیجا بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔

پہلے ہمارا خیال تھا جو سراسر غلط تھا کہ یہ ''چائیلڈ لیبر'' کے خلاف سرگرمیاں صرف فیشن کے طور پر کی جاتی ہیں کہ مغرب جو کچھ کرتا ہے وہ ہم بھی کرتے ہیں بلکہ اس سلسلے میں ہم اپنے ایک دوست کو بھی دشمن بنا چکے ہیں جو چائیلڈ لیبر کے کسی این جی او سے منسلک تھا اس موضوع پر اس کے اور ہمارے درمیان

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی

ہم نے کہا کہ یہ چائیلڈ لیبر وغیرہ بڑی بڑی اچھی بات ہے بشرطیکہ جن بچوں کو آپ از راہ کرام نوازی چائیلڈ لیبر سے نکال کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تو اس ''زیور'' کے لیے کوئی مارکیٹ بھی مہیا کریں ورنہ آپ اسے چائیلڈ لیبر کے ذریعے ''ہنر مندی'' سے نکال کر ایک کاغذی ڈگری دے کر ایسے جنگل میں چھوڑ دیتے ہیں جہاں وہ بیروزگاری کے درندوں کے مقابل نہتے کھڑے ہو جاتے ہیں کیونکہ کاغذ کے اس ٹکڑے سے درندے کا بال بھی بیکا نہیں ہو سکتا۔

خدا کے لیے اس بے ثمر، بے قیمت اور بے وقعت ''زیور تعلیم'' کے بجائے ان کو چند برس سختیاں جھیلنے کے بعد کسی ہنر سے لیس ہونے دیں، تمارا تو چائیلڈ لیبر کا فیشن پورا ہو رہا ہے لیکن قوم کی نسل کو آپ یہ رولڈ گولڈ زیور تعلیم دے کر کہیں کا نہ رہنے دے رہے ہیں، ظاہر ہے کہ اسے تو خفا ہونا ہی تھا کہ ہم اس کے فیشن ایبل دھندے پر اعتراض کر رہے تھے لیکن بعد جب ہم نے سوچا اور بہت سوچا تو نادم ہوئے کہ ہم تو سراسر غلطی پر تھے کہ اس قسم کے این جی اوز اور نعروں کو ''فیشن'' تصور کیے ہوئے تھے بات تو اس سے بھی گہری بلکہ زیادہ گہری نکلی، یہ تو فشن نہ تھا نہ ہے بلکہ خاص لوگوں کی بہت ہی خاص الخاص اسکیم اور منصوبہ بندی ہے۔

اب چائیلڈ لیبر کے ذریعے کوئی ہنر سیکھ کر کسی اچھی ہنر مندی سے لگنے والے تو اپنے اپنے دھندوں کو چھوڑ کر نہ جلسوں کی رونق بڑھا سکتے ہیں نہ جلوسوں کو کامیاب کرا سکتے ہیں نہ دھرنوں میں اپنا چلتا ہوا دھندہ چوپٹ کر سکتے ہیں کیونکہ دو تین یا چار پانچ سال کی سختی جھیل کر استاد اور ہنر مند بن جانے والے تو ایک گھنٹہ بھی ان فضول کاموں کو نہیں دے سکتے جب کہ زیور تعلیم سے آراستہ اور ایک عدد بے حامل ڈگری والے جتنی تعداد میں چاہو دستیاب ہوتے ہیں اور جس طرح کوئی چاہے استعمال کر سکتا ہے۔

جہادی بنا سکتا ہے، ڈاکو بنا سکتا ہے اور ''کارکن'' بنا سکتا ہے، اگر کہیں کہیں سرکاری ملازمتوں میں چانس ہو سکتا ہے وہاں ''اپنے'' بٹھانا تو اس لیے ہاتھ میں ہوتا ہے یوں کہیے کہ زیور تعلیم والے تو ''سیکھنے'' کا زمانہ اس بے ثمر زیور اور ڈگری کے لیے برباد کر چکے ہوتے ہیں اب وہ نہ اس عمر میں چائیلڈ لیبر بن سکتے ہیں نہ ہنر مند نہ کاریگر اگر بن سکتے ہیں تو مستقبل قریب میں ''سبز باغوں'' کے سوداگر اور رنگین خوابوں کے تاجر۔ ان کے لیے اپنے قافلوں میں داخلے کا دروازہ کھلا چھوڑے ہوئے ہیں

نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ مے خانہ
تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

فقیروں کے لیے تو ایک دروازہ بند ہوتا ہے اور ہزاروں کھلے ہوتے ہیں لیکن ڈگری کا کشکول گلے میں ڈالنے والے ''فقیروں'' پر سب دروازے بند اور ''کارکن'' بننے کا واحد دروازہ کھلا ہوتا ہے۔