بھارتی مداخلت کے ثبوت

بھارت نے کشمیر سمیت دیگر دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور دوطرفہ حل کی راہ میں روڑے ہی اٹکائے


Editorial October 30, 2016
پاکستان کل بھوشن یادیو کے انکشافات پر مبنی دستاویزی ثبوت بھی مرتب کر رہا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس نیوز/فائل

پاکستان نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت ثابت ہو چکی ہے، اس ضمن میں تمام ڈوزیئر مناسب وقت پر اقوام متحدہ کو پیش کیے جائیں گے، بھارتی سفارتکار سرجیت سنگھ ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھا جو ہماری قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں تھیں۔ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لے، دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے جمعے کو پریس بریفنگ کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔

بھارت کی ہر حکومت کی پاکستاں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی حکمت عملی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مودی سرکار تو اس گھناؤنے کھیل میں نئے اداکار ہیں مگر کانگریس اور بی جے پی سمیت ماضی کے سیاسی رہنما اور وزراء و سیکریٹریز برائے خارجہ نے پاکستان کے خلاف سازشوں کے داخلی تانے بانے بننے سے کبھی ہاتھ نہیں کھینچا جب کہ برصغیر میں ایٹمی اسلحہ کی دوڑ شروع کرنے کا الزام بھی بھارت پر آتا ہے، پاکستان کے کبھی جنگجویانہ یا جارحانہ عزائم نہیں رہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی رعایت بھارتی ایٹمی پروگرام میں تیزی کی وجہ بنی جو نہ صرف ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے کی ساکھ پر دھبہ ہے بلکہ اس سے خطے میں اسٹرٹیجک توازن بھی متاثر ہوا ہے۔ کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر کی جانے والی فائرنگ اور گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ بھارت کو جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنا چاہیے اور عام شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے، ان کی اس رائے سے کون امن پسند انکار کرسکتا ہے کہ ایسی تمام بھارتی کارروائیاں مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔

بھارت نے کشمیر سمیت دیگر دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور دوطرفہ حل کی راہ میں روڑے ہی اٹکائے اور یہی اس کی پولیٹیکل فلاسفی ہے جس پر ہر بھارتی حکومت نے عمل کیا، تاہم آج کی جدید سائنس و ٹیکنالوجی اور اطلاعات و سراغرسانی کے ذرایع کی موجودگی میں اس کی خفیہ ایجنسی ''را'' کے ایجنٹوں کے ذریعہ مداخلت اور گن بوٹ ڈپلومیسی چھپ نہیں سکتی، رکھا، آج دہشتگردی کے عفریت نے خطے کو مسائل کے گرداب میں پھنسا دیا ہے اس تناظر میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارتی مداخلت میں بتدریج اضافہ شرم ناک ہے۔

اگرچہ پاکستان کی طرف سے بار باریقین دلایا جاتا ہے کہ تمام دہشت گردوںکے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہورہی ہے، مگر امریکا سمیت بھارت اور بعض قوتیں دہشتگردی میں پاکستانی عوام اور فوج کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کرتیں اور بھارت ہے کہ جس کا تیزی سے بڑھتا ہوا ایٹمی پروگرام خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بن چکا ہے اس لیے پاکستان کا یہ موقف منطقی ہے کہ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی جانب سے بھارت کو دی جانے والی رعایت بھارتی ایٹمی پروگرام میں تیزی کی وجہ بنی جو نہ صرف ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے کی ساکھ پر دھبہ ہے بلکہ اس سے خطے میں اسٹرٹیجک توازن بھی متاثر ہوا ہے۔ اس لیے بھارت کو جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنا چاہیے اور عام شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز کرنا چاہیے، ایسی تمام بھارتی کارروائیاں مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے حاصل معلومات یکجا کی جا رہی ہیں، انھوں نے کہا کہ پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں کے لیے دہشتگردوں کو غیرملکی فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں، کوئٹہ میں ہونی والی حالیہ دہشتگردی اس کی واضح مثال ہے۔ یاد رہے 2009 ء میں بھارتی وزیراعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کو مصری شہر شرم الشیخ میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان میں مداخلت کے شواہد دینے کی بات کی تھی جس پر دونوں وزرائے اعظم کا مشترکہ اعلامیہ چھپا اور اسے ''انڈیا ٹو ڈے'' نے من موہن کا ''بلوچستان بلنڈر'' قرار دیا تھا جب کہ کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کوئی پرانی بات نہیں، یقیناً اس کے تخریب کاری پر مبنی اعترافات کی ویڈیو بھی مجوزہ ڈوزئیر کے ہمراہ ہوگی۔

گزشتہ روز سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے ایک بیان میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل غیر مشروط مذاکرات میں پنہاں ہے اور برصغیر میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا قابل قبول اور منصفانہ حل تلاش کرنا ناگزیر ہے۔ اگر 2004ء کے لوک سبھا کے انتخابات میں این ڈی اے کو شکست نہ ہوتی تو مسئلہ کشمیر اس حد تک حل ہو گیا ہوتا کہ سبھی فریقین کو تسلی ہو جاتی۔

ظاہر ہے یشونت کے اس انداز نظر کو بھی اس وقت کی بھارتی حکومت نے فضول سمجھا ہوگا جب کہ اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستانی صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے اپنے دورہ کو تاریخ رقم کرنے سے تعبیر کیا تھا، اور سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری کے بقول بریک تھرو قریب تھا، کافی حد تک راہ ہموار ہوچکی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر کیا ہوا؟ اس وقت بھی کس کی ضد اور ہٹ دھرمی سے یہ تاریخی موقع ضایع ہوگا ، ظاہر ہے اٹل بہاری باجپائی کو بھی ہندوتوا کے رتھ پر سوار انتہا پسندوں ،اپوزیش جماعتوں اور اٹوٹ انگ کی حامی قوتوں نے منع کردیا کہ خبردار کشمیر کے حل کی طرف مت جانا۔ یہ ہے بھارتی رویہ۔