پاکستانی ہائی کمشنر کی نئی دہلی میں علی گیلانی سے ملاقات

کشمیرکوئی اقتصادی یا تجارتی مسئلہ نہیں ، یہ ایک قوم کی موت و حیات سے جڑا مسئلہ ہے.


INP December 16, 2012
کشمیرکوئی اقتصادی یا تجارتی مسئلہ نہیں ، یہ ایک قوم کی موت و حیات سے جڑا مسئلہ ہے. فوٹو : فائل

کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر سلمان بشیر سے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کی موجودہ کشمیر پالیسی کشمیریوں کی قربانیوں اور خواہشات کے ساتھ کسی بھی طور میل نہیںکھاتی ہے۔

پاکستان کشمیری حریت پسندوں کو دی جانے والی عمر قید سزائوں اور دیگر جبر و زیادتیوں پر مجرمانہ خامو شی اختیار کرکے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کررہا ہے ۔ حریت ترجمان کے مطابق گیلانی کی رہائش گاہ واقع مالویہ نگر نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمشنر ،ڈپٹی ہائی کمشنر اور دیگر عہد یداروں کے ساتھ تفصیلی ملاقات میں گیلانی نے کہا کہ کشمیر پر بھارت کا جبری قبضہ جاری رہا تو مستقبل میں پاکستان کو ملنے والا یہاں کے دریائوں کا پانی بھی روک دیا جائے گا اور اس ملک کی زمینیں بنجر بن کر رہ جائینگی ۔

حریت چیئرمین نے مز ید کہا کہ ہم کشمیر میں کوئی اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کا دورہ کرنے والے لیڈروں کے ساتھ اختلاف کرتے بلکہ ہمار ایک اصولی اختلاف ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک بھارت اپنی ہٹ دھرمی والی پالیسی میں لچک لاکر کشمیر کی متنازع حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا، کوئی بھی مذاکراتی عمل سود مند ثابت نہیں ہوسکتا ۔

04

اس اہم ملاقات میں سلمان بشیر نے گیلانی سے کہا کہ پاکستانی حکومت اور عوام ان کا بے حد احترام کرتے ہیں اور وہ ان کے دورہ پاکستان کی بھی زبردست خواہش رکھتے ہیں۔ پاک بھارت تجارتی تعلقات اور LOCٹریڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ کشمیرکوئی اقتصادی یا تجارتی مسئلہ نہیں ،بلکہ یہ ایک قوم کی موت و حیات سے جڑا ہوا مسئلہ ہے،یہ ایک سنگین سیاسی اور انسانی مسئلہ ہے،جہاں ایک قوم کو جبراً غلام بنا لیا گیا ہے اور اس جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے نتیجے میں ان کے سروں کی فصل کو بھی کاٹا جارہا ہے ۔