وزیر اعظم کے آنسو
ہمارے وزیراعظم بڑے غریب نواز انسان ہیں، عوام کی غربت دیکھ کر وہ تڑپ جاتے ہیں
ہمارے وزیراعظم بڑے غریب نواز انسان ہیں، عوام کی غربت دیکھ کر وہ تڑپ جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں وہ غریب عوام میں صحت کارڈ بانٹ رہے تھے کہ غریبوں کی بیماریوں اور علاج کی عدم دستیابی پر ان کا دل بھر آیا، آواز بھرا گئی اور آنکھ سے آنسو نکلنے لگے۔ غریب عوام کو سرکاری یتیم خانوں یعنی سرکاری اسپتالوں میں جو ''سہولتیں'' حاصل ہیں، وہ وزیراعظم سے پوشیدہ نہیں ہیں۔
چونکہ ہمارے ملک میں بھی اللہ کے فضل سے طبقاتی نظام قائم ہے، اس نظام میں انسانی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے مختلف قسم کے انتظام موجود ہیں، مثلاً اگر غریبوں کے لیے چٹائی کی ہوٹلیں ہیں، مڈل اور لوئر مڈل کلاس کے لیے 3-2 اسٹار ہوٹل ہیں، اور اشرافیہ کے لیے 5 اسٹار ہوٹل ہیں، اسی طرح اسپتال بھی چٹائی اسپتال (سرکاری اسپتال) ہیں، جہاں عوام سسک سسک کر مرتے ہیں لیکن اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں 4 اور 5 اسٹار اسپتال ہیں۔
جہاں اپرمڈل کلاس اور اشرافیہ اپنا علاج کراتی ہے، ان 5 اسٹار اسپتالوں میں ترقی یافتہ اسپتالوں کی سہولتیں اور اعلیٰ پائے کے ڈاکٹر موجود ہیں، لیکن ہمارا حکمران طبقہ جو نزلہ زکام کا علاج بھی ترقی یافتہ ملکوں کے اسپتالوں میں کرانے کا عادی ہے، اسے اپنے ملک کے 5 اسٹار اسپتال بھی اچھے نہیں لگتے اور وہ اپنا اور اپنے خاندان کا علاج ترقی یافتہ ملکوں کے اسپتالوں میں کراتا ہے اور اس علاج پر خرچ ہونے والا کروڑوں روپیہ یا تو حرام کی کمائی یعنی غریبوں کا خون پسینہ ہوتا ہے یا پھر سرکاری ہوتا ہے اور سرکار اور سرکار کے خاندان ان اسپتالوں سے مفت علاج کراتے ہیں۔ وزیراعظم پچھلے دنوں لندن کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں اپنا بائی پاس کراچکے ہیں ۔
میاں صاحب کے سیاسی حریف ان کے آنسوؤں کو پانامہ لیکس کے آنسو کہہ رہے ہیں، لیکن ہم ان الزامات کو نہیں مانتے، کیونکہ یہ اصلی آنسو بھی ہوسکتے ہیں جو اس احساس پر نکل آئے ہوں کہ پنجاب پر برسوں حکومت کرنے کے باوجود وہ غریب عوام کی علاج سے محرومی دیکھ رہے ہیں، انھیں دواؤں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مرتا دیکھ رہے ہیں۔
ہر سال معصوم بچوں، حاملہ عورتوں کو علاج اور غذا کی کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتا دیکھ رہے ہوں اور بھوک سے تنگ آئے ہوئے غریب عوام کو انفرادی اور اجتماعی خودکشیاں کرتا دیکھ رہے ہوں۔ ''دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں''۔ آخر میاں صاحب بھی انسان ہیں اور اپنے سینے میں ایک درد بھرا دل رکھتے ہیں، ہوسکتا ہے غریبوں کو صحت کارڈ بانٹتے وقت انھیں لندن کا وہ اسپتال یاد آگیا ہو جہاں ان کا بائی پاس ہوا تھا۔
گھوم پھر کر ذہن میں یہی سوال ابھر آتا ہے کہ غریب علاج سے کیوں محروم ہے؟ غریب کے بچے تعلیم سے کیوں محروم ہیں، غریب عیدین پر بھی نئے کپڑوں سے کیوں محروم ہوتے ہیں؟ غریبوں کا ناشتہ باسی روٹی اور پیاز پر مشتمل کیوں ہوتا ہے؟ اس قسم کے تمام سوالوں کا ایک ہی جواب سامنے آتا ہے کہ غریبوں کی محنت کی کمائی پر اشرافیہ نے قبضہ کیا ہوا ہے اور جب تک اس اشرافیہ کا ملک کی 80 فیصد دولت پر قبضہ باقی رہے گا غریب عوام علاج معالجے کی سہولتوں سے محرومی کی وجہ مرتے رہیں گے اور وزیراعظم عوام کی حالت زار پر آنسو بہاتے رہیں گے۔ اللہ کے فضل سے ہمارے وزیراعظم کے برادر خورد پنجاب پر عشروں سے حکومت کر رہے ہیں۔
اگر وہ چاہتے تو پنجاب کے ہر شہر میں جدید ترین سہولتوں سے لیس ایک آغا خان جیسا اسپتال بنا سکتے تھے، جہاں عوام کو مفت طبی سہولتیں حاصل ہوں۔ لیکن ایسا کیوں نہیں ہوسکا؟
وزیراعظم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غریب عوام کی علاج سے محرومی ہمیں ورثے میں ملی ہے لیکن اب یہ کہنا مشکل یوں ہو رہا ہے کہ عام آدمی بھی یہ سمجھ رہا ہے کہ یہ ورثہ ان تمام حکومتوں کا چھوڑا ہوا ہے جو ماضی میں برسر اقتدار رہی ہیں اور اسے ہم ''اتفاق'' کہیں یا ''حسن اتفاق'' کہ ماضی میں سب سے زیادہ عرصے تک میاں برادران ہی برسر اقتدار رہے ہیں۔ اگر یہ درست ہے تو پھر غریب عوام کی علاج معالجے کی سہولتوں سے محرومی کی سب سے زیادہ ذمے داری میاں برادران ہی پر آتی ہے۔
ہم نے اس حقیقت کی بار بار نشان دہی کی ہے کہ غریب عوام علاج سے دو وقت کی روٹی سے اور تعلیم وغیرہ جیسی بنیادی ضرورتوں سے اس لیے محروم ہیں کہ ان کی خون اور پسینے کی کمائی پر اشرافیہ کا قبضہ ہے۔ کیا اس روز روشن حقیقت سے ہمارے وزیراعظم ناواقف ہیں؟
ہمارے قومی بینکوں سے دو کھرب روپوں کا قرضہ لے کر معاف کرانے والے کون ہیں اور آج بھی اربوں روپوں کا قرضہ مختلف بہانوں سے معاف کرانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اربوں روپے ملک سے باہر بھیج کر آف شور کمپنیاں بنانے والے کون ہیں؟ سوئس بینکوں میں لوٹ مار کا اربوں روپیہ جمع کرانے والے کون ہیں؟ سرے محل کے مالک کون ہیں، جس کی قیمت اربوں روپے بتائی جاتی ہے، لندن میں اربوں روپوں کے فلیٹ کس کی ملکیت ہیں، دبئی میں اربوں روپے کی جائیدادیں کس کی ہیں؟ حالیہ انکشاف کے مطابق بیرون ملک کے بینکوں میں پاکستانیوں کے دو سو ارب روپے جمع ہیں۔ اس 200 ارب روپوں کے مالک کون ہیں، ملک کے بڑے بڑے منصوبوں میں اربوں کا فراڈ کون کر رہا ہے؟ یہ ایسے المیے ہیں جن کا خیال آنے پر آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں اور اس کچر نے غریب عوام کو علاج تعلیم روٹی اور روزگار سے محروم کر رکھا ہے۔ یہ کلچر آنسو بہانے سے ختم نہیں ہوگا، اس کے لیے عوام کو نیند سے بیدار ہونا پڑے گا۔