مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ذمے دارفوج نہیں بھارتی مصنفہ

فوج نے مشرقی پاکستان کاکنٹرول لیکرسیاسی حل کاموقع دیاتھا،سرمیلابوس کاکتاب میں انکشاف


INP December 16, 2012
فوج نے مشرقی پاکستان کاکنٹرول لیکرسیاسی حل کاموقع دیاتھا،سرمیلابوس کاکتاب میں انکشاف فوٹو: اے ایف پی/فائل

بھارت کے عظیم قوم پرست رہنمانیتاجی بوس کی بھتیجی اورنامورمصنفہ سرمیلا بوس نے اپنی کتاب میں 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے متعلق مزیدانکشاف کیاہے کہ پاکستانی فوج نے اپریل ،مئی تک واضح طورپرمشرقی پاکستان کاکنٹرول واپس حاصل کرتے ہوئے معاملے کے سیاسی حل کاموقع پیداکردیاتھا مگرپاکستانی حکمران اورسیاستدان وقت اورموقع کافائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔

پاکستان کو دولخت ہونے سے بچانے میں سیاسی وسفارتی ناکامی کی ذمے دارفوج نہیں ،مشرقی پاکستان میں مشکلات کے باوجودبلندحوصلے اورجوانمردی سے لڑنے والے فوجیوں کوعزت دینے کی بجائے ان کی تذلیل کرناناقابل فہم ہے،پاکستانی حکمران اورسیاستدان موقع کافائدہ نہ اٹھاسکے۔حال ہی میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں سرمیلا بوس نے رچرڈسیسن،لوئی روز اوررابرٹ جیکسن کے تجزیوں کے حوالے بھی دیے اورکہاکہ 1971کے واقعہ کے حوالے سے ٹھوس اور دانشورانہ جائزے نایاب ہیں۔

06

تاہم رچرڈسیسن اورلوئی روز اوررابرٹ جیکسن نے اس حوالے سے بہترین کام کیا جبکہ بعض بھارتی افسروں نے اس سلسلے میں غیرمعیاری کتابیں لکھیں جن میں کئی خامیاں ہیں۔مصنفہ نے لکھاکہ بنگالی باغی (مکتی باہینی)بھارت کی مددحاصل ہونے کے باوجودپاکستانی فوج کومشرقی پاکستان اوربھارت کی سرحدپرواقع تمام اہم مراکزکاکنٹرول دوبارہ حاصل کرنے سے نہیں روک سکے، 1971میں جوکچھ ہواپاکستان کیلیے اس بارے میں جاننے کیلیے بہت کچھ ہے لیکن اس وقت مشرقی پاکستان میں بہادری سے لڑنے والے فوجی جوانوں کی تذلیل کرناناقابل فہم ہے۔