سی پیک منصوبہ پہلا آزمائشی تجارتی قافلہ پاکستان پہنچ گیا

ملک کو اقتصادی طور پر مزید استحکام کی ضرورت ہے


Editorial November 02, 2016
فوٹو: فائل

خوش کن خبر یہ ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا پہلا آزمائشی تجارتی قافلہ سوست پہنچ گیا ہے ، جو چلاس اور پھر بشام جائے گا، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حفیظ الرحمٰن اور فورس کمانڈر ملک محمود نے 50ٹرکوں کے قافلے کا پرتپاک استقبال کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 51 ارب روپے کے سی پیک منصوبے میں سے اب تک 11 ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سی پیک سے گلگت بلتستان میں غربت کا خاتمہ ہوگا۔اب 50ٹرکوں کا چین سے پاکستان پہنچنا اس امر کا عندیہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ترقی کے سفر کا آغاز ہو گیا ہے جس کا ایک عرصے سے بے چینی سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پیر کو اسلام آباد کے قریب واقع ٹھیلیاں کے مقام پر منعقد ہونے والی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کی گولڈن جوبلی تقریبات (50سالہ تقریبات) میں شرکت کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی پیک کی 1000 کلومیٹر تک سڑکوں کی تعمیر ایف ڈبلیو او کا اعزاز ہے۔ انھوں نے کہا کہ کئی سالوں سے قومی اہمیت کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے زبردست صلاحیت سے ایف ڈبلیو او کو اسٹرٹیجک تنظیم بنا دیا گیا ہے۔

سی پیک منصوبہ کو گیم چینجر اسی لیا کہا گیا ہے کہ ملکی سیاسی صورتحال کی گمبھیرتا کے باوجود سی پیک کی ایک ہزار کلومیٹر سڑکوں کی تعمیر کا کام خاموشی سے جاری رہا کیونکہ یہ قومی اہمیت کے ان منصوبوں سے مربوط ہے جس سے نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک کی معاشی تقدیر بدل جائے گی، ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل راحیل شریف نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قراقرم ہائی وے، افغانستان اور وزیرستان کے درمیان سینٹرل ٹریڈ کوریڈور کی تعمیر، کوسٹل ہائی وے اور متعدد ہائیڈل پراجیکٹ کی تعمیرکا اعزاز ایف ڈبلیو او کو حاصل ہے۔

جو سیاسی حلقے سی پیک کے بارے میں غلط اطلاعات فراہم کررہے ہیں انھیں قومی اہمیت کے اس منصوبہ کی ہمہ گیر ملکی افادیت اور امکانی اقتصادی ثمرات پر نظر ڈالنی چاہیے اور اس بات پر اس تعمیراتی ادارہ کے کارکنوں اور ماہرین کو شاباش دینی چاہیے جو انہماک اور تندہی سے اس کی شاہراہیں اور سڑکیں بنا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کو اقتصادی طور پر مزید استحکام کی ضرورت ہے۔