پاک بھارت تجارت چند سال میں 10ارب ڈالر ہوجائیگی کرن ووہرا

موجودہ حجم 5 ارب ڈالر کے قریب، باضابطہ تجارت 2 ارب ڈالر،رکاوٹوں کا جائزہ ضروری ہے


APP December 17, 2012
پاکستان اور بھارت کے درمیان کی جانے والی باضابطہ تجارت 2 ارب ڈالر ہے۔ جو استعداد سے بہت کم ہے۔ فوٹو: فائل

کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کے وفد کے سربراہ کرن ووہرانے کہاہے کہ پاک بھارت دو طرفہ تجارت آئندہ چند سال کے دوران 10رب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

پاکستانی تاجروں، صنعتکاروں اور برآمد کنندگان کے وفد سے ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ممالک کی براہ راست اور تیسرے ملک کی وساطت سے کی جانے والی تجارت کا موجودہ حجم 5 ارب ڈالر کے قریب ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کی جانے والی باضابطہ تجارت 2 ارب ڈالر ہے۔ جو استعداد سے بہت کم ہے۔ دونوں ممالک کے تاجر سنگاپور، دبئی اور دیگر ممالک کے توسط سے بہت زیادہ تجارت کر رہے ہیں کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تجارت پر عائد پابندیوں کے باعث وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

کرن ووہرا نے کہاکہ جیسے ہی دونوں ممالک کے سیاسی و اقتصادی تعلقات میں بہتری آئے گی تو دونوں ممالک کی براہ راست تجارت 10ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور استحکام کیلیے حکومتی، تاجروں اورعوامی روابطہ میں اضافہ کرنا بہت ضروری ہے۔ جس سے بڑے کم وقت میں بہترین نتائج حاصل ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وفد کے دورہ پاکستان کا مقصد براہ راست تجارت میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لینا ہے تاکہ ان کے خاتمہ سے ہمسایہ ممالک کے اقتصادی روابطہ کو مستحکم کیا جا سکے جس سے خطے کی ترقی و خوشحالی میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔