پانامہ ایشو اب عدالتی فیصلے کا انتظار کیا جائے

وزیراعظم نے تو سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا


Editorial November 04, 2016
۔ فوٹو؛ فائل

سپریم کورٹ نے جمعرات کو پانامہ لیکس کی انکوائری کے لیے دائر درخواستیں قابل سماعت قراردیتے ہوئے وزیراعظم کے بچوں کی طرف سے جواب جمع نہ کرانے پر برہمی کا اظہار کیا اور انھیں پیر تک مہلت دیدی۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بنچ نے قرار دیا کہ یک رکنی جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا جو عدالت عظمیٰ کے حاضر سروس جج پر مشتمل ہوگا اور اسے سپریم کورٹ کے اختیارات حاصل ہوں گے، عدالت کسی درخواست گزار یا رسپانٹنڈنٹ کے ضابطہ کار کی پابند نہیں، اس کا تعین وہ خود کرے گی۔

سماعت کے دوران سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے وزیراعظم نواز شریف، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور کیپٹن(ر) صفدر کی طرف سے جواب جمع کرایا۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ وزیراعظم نے تو الزامات مسترد کر دیے ہیں لیکن ان کے بچوں کے جواب کدھر ہیں۔ سلمان بٹ نے استدعا کی کہ اس کے لیے انھیں 7 روز کی مہلت دی جائے۔

عدالت نے ان کی استدعا مسترد کر دی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ عدالت کا وقت ضایع کررہے ہیں، ہم نے مہلت دی تھی لیکن آپ نے جواب جمع نہیں کرائے، کیا اگلے سال جمع کرائیں گے؟ آپ کا اصل جواب جس سے چیزیں واضح ہونا تھیں وہ نہیں آیا۔ سلمان بٹ نے کہا کہ ان کے بچے ملک سے باہر ہیں، رابطے کے لیے وقت چاہیے، جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا بیٹی تو پاکستان میں ہیں، ان کا جواب جمع کرا دیا جاتا، وزیراعظم پر یہ الزام ہے کہ انھوں نے مریم نواز کو اپنے زیرکفالت ظاہر کیا۔

جسٹس آصف کھوسہ نے کہا الزام یہ ہے کہ جب وہ زیر کفالت تھیں اس وقت وہ ایک کمپنی میں حصہ دار تھیں، الزام درست ہے یا غلط، جواب آنا چاہیے، اگر کوئی فریق الزامات کا جواب نہیں دیتا تو قانون کے تحت یہ تصور کیا جاتا ہے کہ اس نے الزامات قبول کرلیے۔ایک خبر کے مطابق جسٹس آصف سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق اگر جواب جمع نہ کرایا تو الزامات تسلیم کرلیں گے۔

تحریک انصاف ایک عرصے سے وزیراعظم اور ان کے خاندان پر کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے پانامہ لیکس کی تحقیقات کا مسلسل مطالبہ کرتی چلی آ رہی ہے۔ اس سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھرپور تحریک چلائی اور مختلف مقامات پر جلسے کیے یہاں تک کہ انھوں نے حکومت پر اپنا دباؤ بڑھانے کے لیے رائیونڈ میں بھی جلسہ کیا' اس کے بعد انھوں نے اپنا ایک اور سیاسی کارڈ استعمال کرتے ہوئے 2نومبر کو اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کی دھمکی دے ڈالی۔

عدالت نے ملکی حالات خراب ہوتے ہوئے دیکھ کر آگے بڑھ کر قدم اٹھایا اور پانامہ لیکس کی انکوائری کا اعلان کر دیا جس سے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے اعلان کے بعد جو سیاسی افراتفری' انتشار اور جلاؤ گھیراؤ کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا وہ تھم گیا۔ اب جمعرات کو سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی انکوائری کے حوالے سے تحریک انصاف' جماعت اسلامی اور دیگر افراد کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

ملک کو انتشار سے بچانے کے لیے پارلیمنٹ اور عدالت ہی بہترین فورم ہیں اگر اپوزیشن کو حکومت سے کوئی شکایت ہے تو اس کے حل کے لیے سڑکوں پر جلسے جلوس اور دھرنے دینے کے بجائے پارلیمنٹ اور عدالت کا فورم ہی استعمال کیا جانا چاہیے۔

وزیراعظم نے تو سپریم کورٹ میں اپنا جواب جمع کراتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا' انھوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کا نام پانامہ پیپرز میں نہیں وہ کسی آف شور کمپنی کے مالک ہیں نہ ہی کبھی اس سے فائدہ اٹھایا' پارک لین لندن اور پانامہ لیکس میں جس جائیداد کا ذکر کیا گیا وہ ان کی ملکیت نہیں' وہ قانون کے مطابق باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے اور انکم ٹیکس ریٹرن' دولت ٹیکس اور واجبات جمع کراتے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانامہ لیکس پر جوڈیشل بنانے کے لیے تین تجاویز پیش کیں کہ جوڈیشل کمیشن بااختیار ہونا چاہیے' 25دن میں تحقیقات مکمل ہونی چاہیے اور پانامہ لیکس کی رپورٹ حکومت کے بجائے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے۔ پانامہ لیکس انکوائری کے حوالے سے شروع ہونے والا کیس انتہائی حساس نوعیت کا ہے اس پر موجودہ حکمرانوں کے اقتدار میں رہنے یا نہ رہنے کا انحصار ہے۔

اس فیصلے کے ملک کے سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ عدالت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس مقدمے کو تاخیر کا شکار نہیں ہونے دے گی اور جلد از جلد اس کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔ عدالت کا فیصلہ جو بھی آئے اسے حکومت اور اپوزیشن کو خوش دلی سے قبول کرتے ہوئے مستقبل میں کسی قسم کی محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔

وقت آ گیا ہے کہ یہ بھی طے کر دیا جائے کہ اگر حکمرانوں پر کرپشن کے یا اور کوئی سنگین الزامات ہوں تو اس حوالے سے فی الفور انکوائری شروع ہو جانی چاہیے تاکہ اپوزیشن کی جانب سے ہنگامہ آرائی یا احتجاجی تحریک چلانے کی نوبت نہ آئے۔ اب فریقین کو سیاسی محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے اور اس معاملے کو آئین و قانون کے تقاضوں کے مطابق طے ہونے دینا چاہیے۔