حکومت آپریشن بند اور ڈرون اور حملے رکوائے قبائلی جرگہ بدامنی کے ذمے دار حکمران ہیں فضل الرحمن

افغانستان میں بیرونی مداخلت بندکی جائے،سورش زدہ علاقوںمیںامن کیلیے پارلیمانی قراردادوںپرعمل کیاجائے،جرگے میںمطالبات۔


Monitoring Desk/Numainda Express December 17, 2012
ملک میں دہشتگردی ہورہی ہے،دہشتگردامریکا امن کاڈھنڈوراپیٹ رہا ہے،نئی خارجہ پالیسی بنائی جائے، سربراہ جے یوآئی کاخطاب۔ فوٹو: آئی این پی/ فائل

پشاورمیں قبائلی جرگے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کرتے ہوئے قبائلیوں پر ڈرون حملے بند کرائے اورفوجی آپریشنزکا سلسلہ ختم کیا جائے۔

جبکہ جے یوآئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پورے ملک میں دہشتگردی ہورہی ہے عوام گھروں میں بھی محفوظ نہیںبدامنی کے ذمے دار حکمراں ہیں دہشتگردامریکا پوری دنیا میں امن کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے ۔ اتوارکوہونیوالے جرگے میںتجویز دی گئی کہ فاٹاکے سیاسی مستقبل کا اختیارقبائلی عوام کا ہے اورحکومت ان کی مرضی کے بغیر ان پرکوئی فیصلہ مسلط نہ کرے، ایوان صدر،پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی فاٹاکے متعلق کوئی فرمان، قانون یا قراردادصادرکرنے سے پہلے جرگے کو اعتماد میں لیں۔جرگے میں مطالبہ کیاکہ افغانستان میںبیرونی مداخلت بندکی جائے ، فاٹا اور خیبر پختونخواکے شورش زدہ علاقوں میںامن کیلیے پارلیمنٹ کی قراردادوںپرعمل کیا جائے۔

01

قبائل کیلیے اپنے گھروں تک رسائی میںحائل تمام رکاوٹیں دورکی جائیں اوران کے جانی ومالی نقصان کا معاوضہ فوری اداکیاجائے، قیام امن کا مؤثر ذریعہ مذاکرات ہیںجرگہ موجودہ صورتحال میںتمام فریقوںکومذاکرات کی دعوت دیتاہے اور امریکا اور نیٹوکاانخلا یقینی بناکرافغانستان میںجامع سیاسی حل کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

دریں اثنا جرگے سے خطاب اورمیڈیاسے گفتگو میں مولانافضل الرحمٰن نے فاٹا میں قیام امن اور تمام فریقین کے درمیان رابطے بڑھانے کیلیے نمائندہ جرگے کے ذریعے کرداراداکرنیکا اعلان کیا اورکہا کہ قبائل کے سیاسی مستقبل سے متعلق فاٹا کے عوام اس وقت تک کوئی رائے نہیں دیںگے جب تک قبائل میں امن قائم کرکے ان کی سابقہ پوزیشن بحال نہ ہو۔ قبائل کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ نمائندہ جرگہ ہی کرے گا اور تمام قبائل اس کے فیصلوں کے پابندہوںگے۔انھوںنے پشاورایئرپورٹ پرحملے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ کہ گزشتہ 10سال میںدہشت گردی کم ہونے کے بجائے بڑھی ہے۔