منتخب حکومتوں کی اندھی حمایت

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں حکمرانوں کی کرپشن ایک معمول کی بات ہے


Zaheer Akhter Bedari November 06, 2016
[email protected]

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں منتخب حکومت کی حمایت کرتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ جان کربی نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکا سیاسی جماعتوں کے پرامن احتجاج کی بھی حمایت کرتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان میں ''منتخب حکومت'' کے خلاف سیاسی پارٹیاں تحریک چلا رہی ہیں۔

سیاسی پارٹیوں کا موقف یہ ہے کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کے خاندان نام آیا ہے، اس حوالے سے برطانیہ سمیت جن ملکوں کے حکمرانوں پر پانامہ لیکس میں ملوث ہونے کے الزامات لگے ہیں انھوں نے پارلیمنٹ میں اپنی صفائیاں بھی پیش کیں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیا۔ اصولاً تو ہونا یہ چاہیے تھا کہ امریکا پاکستان کے پانامہ لیکس میں ملوث حکمرانوں کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیتا۔ یہ فرما رہے ہیں کہ ہم منتخب حکومتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ بلاشبہ منتخب حکومتوں کی حمایت کی جانی چاہیے لیکن امریکی حکمران جو کسی کے گھریلو حالات سے بھی واقفیت رکھتے ہیں، کیا انھیں معلوم نہیں کہ پسماندہ ملکوں خصوصاً پاکستان جیسے ملکوں میں حکمران کس طرح منتخب ہوتے ہیں۔ پاکستان میں 2013ء میں ہونے والے انتخابات میں کیا کچھ نہیں ہوا، کیا امریکا کے حکمران اس سے واقف نہیں ہیں؟

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں حکمرانوں کی کرپشن ایک معمول کی بات ہے اور کرپشن اور سرمایہ دارانہ نظام لازم و ملزوم ہیں۔ چونکہ امریکا دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کا سرپرست ہے لہٰذا وہ کرپشن کو اہمیت نہ دیتا ہو لیکن غریب اور پسماندہ ملکوں میں کرپشن غریب عوام کے لیے ایک بدترین عذاب سے کم نہیں، کیونکہ ان ملکوں کے حکمرانوں کے لیے کرپشن روزمرہ کا معمول ہے۔ امریکا اور اس کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک وغیرہ پسماندہ ملکوں کو غربت کم یا ختم کرنے کے نام پر جو اربوں ڈالر دیتے ہیں اس کا بہت بڑا حصہ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے اور یہ نیک کام منتخب نمایندے ہی کرتے ہیں۔

پاکستان میں پانامہ لیکس کے حوالے سے عوام میں سخت ناراضگی تھی اور پاکستان کی سیاسی جماعتیں اس حوالے سے حکومت کے خلاف تحریک بھی چلا رہی ہیں اور دھرنے بھی دے رہی ہیں، اگر امریکی حکمران انصاف پسند ہوتے تو صرف منتخب حکومتوں کی آنکھ بند کر کے حمایت نہ کرتے بلکہ کرپشن کے مرتکب حکمرانوں کے خلاف غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کرتے کیونکہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کا اندرونی مسئلہ نہیں ہے بلکہ بیرونی ملکوں کے لیے اخلاقی اور اصولی مسئلہ بھی ہے۔ امریکا کے ترجمان نے یہ بھی کہا ہے کہ ''دھرنا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے''۔ بلاشبہ سیاسی جماعتوں کے دھرنے کسی بھی ملک کا اندرونی مسئلہ ہوتے ہیں لیکن امریکی حکمرانوں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ دھرنے کیوں دیے جا رہے ہیں؟

کسی بھی سیاسی جماعت کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی کسی قابل اعتراض کارکردگی کے خلاف احتجاج کرے اور منتخب حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے حق کو تسلیم کرے۔ لیکن ہمارے ملک میں حکومت کے خلاف احتجاج کو قابل سزا جرم سمجھا جاتا ہے، جس کی تازہ مثال تحریک انصاف کے یوتھ ونگ کا وہ کنونشن ہے جو چار دیواری میں پرامن طریقے سے کیا جا رہا تھا، اس کنونشن کے شرکا پر پولیس نے جس وحشیانہ طریقے سے لاٹھی چارج کیا اور بڑی تعداد میں کنونشن کے شرکا کو جس طرح گرفتار کیا، کیا منتخب حکومتوں کا یہی وتیرہ ہوتا ہے۔

دوسرے ملکوں میں ہونے والے معمولی معمولی واقعات سے امریکی حکمران واقف ہوتے ہیں، یوتھ کنونشن کے شرکا کے ساتھ پولیس کے سلوک کو تمام چینلوں پر دکھایا گیا کیا امریکی سفیر نے یوتھ پر ہونے والے پولیس کے مظالم کو نہیں دیکھا؟ اگر دیکھا تو پھر اپنے حکمرانوں کو ان سے باخبر نہیں کیا۔ محض منتخب حکومتوں کی حمایت سے کام نہیں چلے گا یہ دیکھنا ہو گا کہ منتخب حکومت کیا کر رہی ہے۔

امریکا سمیت ترقی یافتہ ملکوں نے دانستہ طور پر یہ جانے بغیر کہ منتخب حکومتیں کیا کر رہی ہیں اور عوام ان منتخب حکومتوں سے کس قدر بیزار ہیں منتخب حکومتوں کی حمایت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس سے منتخب حکومتوں کے ساتھ ساتھ جمہوریت بھی بدنام ہو رہی ہے اور عوام کا اعتماد اس نام نہاد جمہوریت پر سے اٹھتا جا رہا ہے۔

یہ ایک اوپن سیکریٹ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر خاندانی بادشاہتوں کو مستحکم کیا جا رہا ہے، ہر معروف سیاسی جماعت کے حکمران دھڑے سے ولی عہدوں، شہزادوں اور شہزادیوں کو مستحکم کر رہے ہیں۔ جو آنے والی کئی نسلوں تک جمہوریت کے نام پر عوام کے سروں پر مسلط رہیںگے۔ دلچسپ اور حیرت کی بات ہے کہ کسی سیاسی بیک گراؤنڈ اور عوامی خدمات کے بغیر ٹارزنوں کی طرح عوام کے سروں پر مسلط ہونے والے ان کھلنڈروں کو امریکا اور اس کے ترقی یافتہ جمہوری حکمران منتخب حکمرانوں کا پروٹوکول دے رہے ہیں۔

امریکا سمیت تقریباً تمام جمہوری ملکوں میں سرے سے ولی عہدی نظام موجود ہی نہیں ہے۔ امریکی صدر اوباما نے کسی شہزادے یا شہزادی کو عوام میں ولی عہد کے طور پر متعارف نہیں کرایا، جس سے سیاسی کلچر کو ترقی یافتہ ملک لعنت سمجھتے ہیں، اس کلچر کو پسماندہ ملکوں میں جائز کیوں سمجھتے ہیں؟ بات چلی تھی منتخب حکومتوں کی حمایت سے، کیا امریکا کی خفیہ ایجنسیاں یہ نہیں جانتیں کہ پسماندہ ملکوں کے انتخابات میں کتنے بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوتی ہیں اور دنیا کی واحد اور باخبر حکومت کی حمایت کا اعلان کرتی ہے تو کیا وہ بالواسطہ طور پر بد دیانت اور کرپٹ حکومتوں کی حمایت نہیں کرتی؟ پسماندہ ملکوں میں ابھی تک عوامی جمہوریت موجود ہی نہیں ہے؟ کیا اشرافیہ کی حکومتوں کو امریکا جمہوریت کی حکومت سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں