سانحہ گڈانی گمشدہ مزدور کہاں ہیں

لواحقین کی جانب سے اب بھی 100سے زائد مزدوروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں


Editorial November 07, 2016
: فوٹو: فائل

گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں کھڑے جہاز کے آئل ٹینک میں دھماکے اور آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 24 ہوگئی ہے جب کہ 56 کے قریب افراد اب بھی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ دوسری جانب یہ امر بھی خلفشار پیدا کررہا ہے کہ لواحقین کی جانب سے اب بھی 100سے زائد مزدوروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں جب کہ وفاقی و صوبائی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں یا خود شپ بریکنگ یارڈ کی انتظامیہ کی جانب سے اب تک اس صورتحال پر کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ یہ گمشدہ مزدور کہاں ہیں؟ لواحقین کی جانب سے مزدوروں کی گمشدگی کے دعوے میں کتنی صداقت ہے؟ کیا واقعی یہ مزدور جہاز حادثے میں جل کر راکھ ہوگئے۔

حکومتی اور انتظامی سطح پر شپ بریکنگ یارڈ کے حادثے میں جو سنگین کوتاہی برتی گئی وہ ایک جانب، جہاز پر لگی آگ پر 4 دن میں قابو پایا گیا لیکن کیا مزدوروں کی رجسٹریشن کا کوئی مربوط نظام واقع نہیں تھا جو اب تک گمشدہ مزدوروں کے حوالے سے کوئی وضاحت نہیں کی جارہی۔ شکاگو کے مزدوروں نے اپنی جان کی جو قربانی دے کر دنیا بھر میں لیبر قوانین نافذ کرائے ان کا اطلاق پاکستان میں ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ بلدیہ کی فیکٹری ہو، کیمیکل گودام کے حادثات یا پھر شپ بریکنگ یارڈ ہر جگہ مزدور طبقہ استحصالی نظام میں پستا دکھائی دیتا ہے، ٹھیکیداری نظام اپنے نفع کی خاطر انسانی جانوں کو داؤ پر لگارہا ہے، مزدور یونینز مالکوں کے ساتھ وفاداری نبھا رہی ہیں۔

شپ بریکنگ کی صنعت سے اربوں کا ٹیکس لیا جاتا ہے لیکن اس آگ کو بجھانے کے لیے ان کے پاس انتظامات نہیں تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں خصوصاً وفاقی لیبر منسٹر اور صوبائی لیبر منسٹر نے جائے وقوع پر پہنچنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ تمام سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کی قیادتوں کی بے حسی بھی ان کے مزدوروں سے متعلق رویے کی عکاسی کرتی ہے۔ صائب ہوگا کہ حادثے کا شکار لواحقین کی دادرسی اور گمشدہ مزدوروں سے متعلق ابہام جلد دور کیا جائے۔