ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے مالکان بھی شدید مالی مشکلات کا شکار

لاکھوں روپے سرمائے سے بنائے گئے ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے مالکان مالی مشکلات کے علاوہ قرض میں ڈوب چکے ہیں۔


Showbiz Reporter December 18, 2012
فلمی بحران پر موسیقار، گلوکار، سازندے اور ساؤنڈ ریکارڈسٹ بھی زد میں آگئے۔ فوٹو : فائل

لاہور: پاکستان فلم انڈسٹری کی بحرانی صورتحال نے اس شعبے سے وابستہ موسیقاروں، گلوکاروں، سازندوں، سائونڈریکارڈسٹ اوردیگرتکنیکی عملے کوشدیدمالی مشکلات سے دوچار کردیا ہے ۔

نگارخانوں سمیت دیگرمقامات پرقائم کیے جانے والے ریکارڈنگ اسٹوڈیوجہاں پر کبھی ملکہ ترنم نورجہاںِ ، مہدی حسن، نصرت فتح علی خاں، اقبال بانو اوردیگرعظیم گلوکار فلمی گیت ریکارڈ کروانے کے لیے جاتے تھے آج وہاں ویرانگی دکھائی دیتی ہے۔

2

لاکھوں روپے سرمائے سے بنائے گئے ریکارڈنگ اسٹوڈیو کے مالکان مالی مشکلات کے علاوہ قرض میں ڈوب چکے ہیں۔ اسی طرح فلم انڈسٹری میں بطورپلے بیک سنگراپنی پہچان بنانے والے چند گلوکاروںکے علاوہ بہت سے گلوکار مختلف کام کرکے اپنے گھروں کے چولہے جلا رہے ہیں۔ اسی طرح صدا بہاردھنوں کے خالق موسیقاربھی اپنے دفاتر میں محفلیں سجائے بیٹھے رہتے ہیں مگرکوئی ہدایتکاراورفلمساز ان کے پاس فلموںکا میوزک تیارکرنے کے لیے نہیں پہنچتا۔ فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والے معروف موسیقاروں، سازندوں اور گلوکاروں نے ثقافتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس شعبے سے وابستہ افراد کے لیے کچھ نئے پراجیکٹس شروع کریں ۔

مقبول خبریں