انسانوں کے تعمیرکردہ پانی کے ذخائرسے بارش کی شدت میں تیزی آ سکتی ہےسائنسدان

جن علاقوں میں انسانوں کے تعمیرکردہ پانی کے بڑے ذخائر ہیں وہاں بارش کا تناسب اسی قسم کے ان علاقوں سے بہت زیادہ ہے.


December 18, 2012
مصنوعی جھیل کے اثرات کے سبب آنے والے سیلاب سے بچاؤ کے انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔ فوٹو: فائل

لاہور: سائنسدانوں نے کہا ہے کہ انسانوں کے تعمیرکردہ پانی کے بڑے ذخائر سے بارش کی شدت میں تیزی آ سکتی ہے اور اس سے سیلاب پر قابو پانے کے لیے بنائے گئے بند ٹوٹ سکتے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے تحقیق کے دوران دریافت کیا کہ جنوبی امریکا کے ملک چلی کے جن علاقوں میں انسانوں کے تعمیرکردہ پانی کے بڑے ذخائر ہیں وہاں بارش کا تناسب اسی قسم کے ان علاقوں سے بہت زیادہ ہے جہاں پانی کے ویسے ذخائر نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جھیل کے اثرات کے سبب آنے والے سیلاب سے بچا ئوکے انتظامات متاثر ہو سکتے ہیں۔

کیونکہ عموما ڈیم تعمیر کرتے ہوئے جھیل کے اثرات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔تحقیق کو ہائیڈرولوجی نامی جریدے میں شایع کرنے کے لیے قبول کر لیا گیا ۔تحقیق میں کہا گیا کہ اس کے اثرات کافی اہم ہو سکتے ہیں۔ ایک تحقیق میں کہا گیا کہ ڈیم بننے کے ایک سال بعد اس علاقے کی فضا میں پائے جانے والے بخارات میں چار فی صد اضافہ ہوا۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خشک آب و ہوا والے علاقوں میں جہاں پانی کے ذخائر یا ڈیم تعمیر کیے گئے ہیں، وہاں شدید بارش ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں