ٹرمپ کارڈ جیت گیا
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پراسرار انتخابی ’’ٹرمپ کارڈ‘‘ استعمال کرتے ہوئے دنیا کو سرپرائز دے دیا
ISLAMABAD:
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا پراسرار انتخابی ''ٹرمپ کارڈ'' استعمال کرتے ہوئے دنیا کو سرپرائز دے دیا۔ انھوں نے ایک تحیر خیز، ناقابل یقین اور دور رس انتخابی اپ سیٹ کیا ہے۔ سیاسی اور انتخابی ماہرین اور تجزیہ کاروں کے نزدیک 8 نومبر صدارتی انتخاب کی امریکی تاریخ کے ایک اعصاب شکن مقابلہ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جس کے نتیجہ میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ مطلوبہ 270 الیکٹورل ووٹ حاصل کرکے امریکا کے 45 ویں صدر منتخب ہوگئے، جب کہ ان کی حریف ڈیموکریٹ کی ''فیورٹ'' امیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنی ہار مان لی اور فون کرکے ٹرمپ کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے ہلیری کو فون کرکے انھیں جیت کے لیے سخت محنت اور ملک کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔
حقیقت یہ ہے کہ یک قطبی کرۂ ارض کی ایک سپر پاور کے انتخابی سیناریو کو دنیا نے تجسس، توقعات، امید و خدشات اور امکانات و رجائیت کے کئی زاویوں سے دیکھا، ڈونلڈ ٹرمپ کے سٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کے تناظر میں ووٹنگ اور پولنگ پر پڑنے والے داخلی و عالمی اثرات ومضمرات کا بھی جائزہ لیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب پر دنیا بھر کے سربراہان مملکت و حکومتی عہدیداروں کے آرا اور تجزیوں سے محفلیں گرم ہیں۔
پاکستان سمیت ایشیا، افریقہ، مشرق وسطیٰ، سکینڈے نیوین اور یورپی ملکوں کے مدبرین کی جانب سے بحث و تمحیص اور مختلف الرائے سیاسی گروپوں کی رائے زنی ابھی جاری ہے، وہ ایک ارب پتی بزنس مین کی ہوشربا اور چیختی چنگھاڑتی انتخابی مہم کو دیدنی قرار دیتے ہیں۔ ٹرمپ کے بارے میں کہا گیا کہ ان کی جیت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انھوں نے امریکا کے التباس میں جکڑے ووٹرز کو، جو سسٹم سے نالاں اور بیزار تھے یکبارگی خواب غفلت سے جگا کر پولنگ بوتھ کی طرف بھیج دیا۔
نو منتخب صدر نے اپنے ابتدائی خطاب میں کہا کہ کوئی خواب بڑا چیلنج نہیں ہوتا، سب کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران روا رکھے جانے والے تلخ لب و لہجہ، جارحانہ طرز گفتگو اور امریکی نظام کے انحطاط پر نکتہ چینی کرتے ہوئے شعلہ نوائی کے برعکس انھوں نے قدرے مختلف انداز اپنایا اور بلا رنگ و نسل امریکی عوام کی خدمت کرنے کا وعدہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں پورے امریکا کا صدر ہوں۔ ٹرمپ نے خیر سگالی کے طور پر ڈیموکریٹ کیمپ کو بھی متحد ہوکر امریکا کے خواب پورے کرنے کی پیشکش کی۔
امریکی عوام نے دونوں امیدواروں کے لیے 18 ماہ پر محیط ایک انتھک اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور انتخابی مہم میں بڑے جوش و جذبہ، فتح کے جنون و اشتیاق سے حصہ لیا، کئی ریاستوں میں کانٹے کا مقابلہ ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک یہ مہم انتخابی نہیں بلکہ تحریک تھی، امریکی میڈیا اور کئی موقر روزنامے اور نشریاتی ادارے ٹرمپ کے خلاف کمربستہ تھے، ابتدائی انتخابی مہم اینٹی ڈونلڈ نظر آئی، کیونکہ ٹرمپ نے 'گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا' والی حکمت عملی اختیار کرلی تھی اور وہ سٹبلشمنٹ پر دو دھاری تلوار لے کر حملہ آور ہوئے، ان کی بیشتر تقاریر قابل اعتراض ٹھہرائی گئیں، وہ اپنی ماتحت، دوست اور امریکی معاشرے میں نمایاں مقام اور شہرت کی حامل خواتین سے بدکلامی کے مرتکب ہوئے، انھوں نے ہلیری کلنٹن تک کو نہیں بخشا، خواتین کے بارے میں نازیبا کلمات اور عالمی صورتحال کے تناظر میں سخت تلخ بیانات جاری کیے، جسے انھوں نے انتخابی مہم کی ضرورت سمجھا۔
ٹرمپ کا زور بیاں عظیم اور گریٹر امریکا کے محور پر گھومتا رہا، وہ ہلیری کی ای میلز، ان کے وزیر خارجہ اور خاتون اول بننے کے مراحل کے ناقد رہے، ہلیری ان کے ہر الزام کا جواب تدبر اور تحمل سے دیتی رہیں، ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کو ویسٹرن کاؤ بوائے فلم کے اسکرپٹ کی طرح جاندار، سموتھ اور جنگجویانہ رکھا، یہ دھمکی بھی دی کہ وہ اگر ہارے تو شکست تسلیم نہیں کریں گے، صدر اوباما کو بھی ہدف تنقید بناتے رہے، گویا وہ مضبوط امریکی فوج، مستحکم معیشت اور عالمگیریت کے نئے پیراڈائم کے ساتھ دنیا سے نمٹنے کا عزم ظاہر کرتے رہے۔ یہ ان کی انتخابی مہم کا وہ نسخہ کیمیا تھا جو ان کے انتخابی مشیر خوب بروئے کار لائے۔
پاک امریکا تعلقات کے خاصے تکلیف دہ دورانیے کے پیش نظر اہل وطن بھی امریکی الیکشن کی گہماگہمی سے لاتعلق نہیں رہے، اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے اگرچہ اپنی انتخابی مہم کلی طور پر امریکا کے داخلی معاملات، مسائل اور امریکیوں کو درپیش مصائب اور ممکنہ معاشی ریلیف پر مرکوز رکھی جب کہ صحت، تعلیم، بیروزگاری اور غیر ملکی تارکین وطن کے خلاف تلخ انداز نظر پر رکھی، تاہم وہ اپنے عالمی ایجنڈے پر مشرق وسطیٰ اور یورپ کو سرفہرست رکھے ہوئے تھے، وہ شام، عراق، سعودی عرب، ایران کے حوالے سے اپنی آہنی پالیسی کا برملا اظہار کرچکے ہیں، وہ بار بار امریکی زوال اور انحطاط کا ذکر کرتے ہوئے امریکا کی گن بوٹ ڈپلومیسی سے زیادہ عملی طاقت اور بالادستی کو منوانے کا عہد ووٹروں سے کرچکے ہیں، پاکستان کو براہ راست انھوں نے ٹارگٹ نہیں کیا۔
اسامہ کا حوالہ یا پاکستان کے داخلی معاملات کے بارے میں وہ بے نام سے عندیے دے چکے ہیں، اس حوالہ سے ٹرمپ کے اسلام اور مسلمانوں یا تارکین وطن کے حوالہ سے قوم پرستانہ بیانات امریکا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نیز عالم اسلام کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں، پاکستانی امریکن یہ سوچتے ہیں کہ ٹرمپ کا انتخاب امریکا میں نفرت کی توثیق ہوگا، لیکن مبصرین اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے ابھی ''دیکھو اور انتظار کرو'' کی پالیسی ہر اس ملک کو اختیار کرنا چاہیے جو ٹرمپ کی بنیادی پالیسیوں کے امکانی خطرات و خدشات سے کافی مضطرب ہیں، بعض کا کہنا ہے کہ کسی کے صدر بن جانے سے امریکی عالمی مفادات کی تزویراتی، عسکری، اقتصادی یا سیاسی ترجیحات پر یو ٹرن نہیں لیتیں۔
کانگریس اور سینیٹ کی موجودگی ٹرمپ کو بھی قابو میں رکھ سکتی ہے، جب کہ طاقتور امریکی سٹیبلشمنٹ صدارتی اختیارات کو متوازن رکھنے کے لیے انھیں قائل کرلے گی۔ بلاشبہ ہلیری اور ٹرمپ صدارتی مسابقت مفادات کا تصادم بھی ہے، یہ بعض امریکی میڈیا مبصرین کا نقطہ نظر ہے، ٹرمپ کے حامیوں نے اپنے امیدوار کی جیت کو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی دھڑن تختہ قرار دیا ہے، کچھ قدامت پسندوں کی دلیل ہے کہ امریکی بھی آخرکار ایک خاتون کے سربراہ حکومت بننے سے گریزاں رہے۔
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی دارالحکومتوں اور بڑے شہروں میں میڈیا مالکان، سیاسی پنڈتوں، تجزیہ کاروں اور اینکرز کو ٹرمپ کی فتح کے امکانات موہوم سے نظر آتے تھے، اور میڈیا نے منگل کی صبح تک ہلیری اور ٹرمپ کے مابین مقابلہ کی اعصاب شکنی کا ٹیمپو برقرار رکھا تھا مگر پھر وہ خوابیدہ ووٹر باہر نکلا اور اس نے ہسپانوی اور فلاڈیلفیا سے لے کر شمالی کیرولینا، اوہائیو، پینسلوانیا اور فلوریڈا سمیت کئی ریاستوں میں ٹرمپ کی سنسنی خیز برتری کے تجزیے پیش کرنا شروع کردیے، کچھ مبصرین کا خیال تھا کہ ہسپانوی اور سیاہ فام سمیت مسلمانوں کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات ان کی شکست کا باعث بنیں گے۔
ہلیری کے مخالفین کا کہنا تھا کہ اگر وہ جیت جاتی ہیں تو وہ امریکی سامراج اور اشرافیہ کے استعماری مفادات کی محافظ بننے کا کردار بدستور ادا کرتی رہیں گی۔ چند سیاسی تجزیہ کاروں نے کہا کہ امریکی سلطنت کے زوال کا عمل تیز ہوگیا ہے، امریکی قوم خوفزدہ ہے، ٹرمپ کی فتح نفرت و خوف کا نتیجہ ہے۔ تیسری دنیا سمیت ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کی نگاہیں امریکی پالیسیوں میں آیندہ ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں پر مرکوز رہیں گی، جب کہ کسی کو اس بات کا ابھی تک یقین نہیں ہے کہ ٹرمپ نے جو باتیں انتخابی مہم کے دوران کی ہیں ان کا امریکی اسٹبلشمنٹ کی آیندہ حکمت عملی اور عالمی پالیسیوں میں کتنا عمل دخل ہوگا۔
کئی سیاسی دانشور یہ کہتے ہیں کہ امریکا کو عالمی صورتحال کا ادراک کرنے کی اس لیے ضرورت ہے کہ دنیا نائن الیون کے بعد سے امریکی پالیسیوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہے اور امریکا کو بھی ایک سیاسی، معاشی، عسکری اور سفارت کارانہ مسیحا کی ضرورت ہے، جو امن عالم، غربت، جنگ و جدل اور دہشتگردی اور پراکسی وارز کے خاتمہ کے لیے عظیم تر اشتراک عمل میں پہل کرے اور نہ صرف ڈیموکریٹ بلکہ تمام عالمی قوتوں کو ٹرمپ ساتھ ملا کر امن کا نیا روڈ میپ تیار کریں۔
بائیں بازو کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ہلیری اور ٹرمپ کی صدارتی دوڑ سے امریکی قوم کی تقسیم گہری ہوگئی ہے، ایک مبصر کے نزدیک نسلی تفریق کو امریکا میں ہوا ملی، امریکی عوام ملک کے مستقبل کے حوالہ سے ابہام اور مایوسی کا شکار ہیں، ہلیری کی شکست اور ٹرمپ کی کامیابی سے امریکی نشریاتی اداروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ووٹروں کے نزدیک دونوں ناقابل اعتبار ہیں، امریکی عوام کلنٹن ورثہ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں، بعض انتخابی نتائج کو امریکا کے زوال سے تعبیر کررہے ہیں۔
غرض یہ کہ تجزیوں کا ایک سیل رواں ہے اور عالمی افق پر امریکا کے انتخاب سے متعلق بے نام سے وسوسے بھی دامن گیر ہوتے جارہے ہیں، وجہ اس کی امریکا کی عالمگیریت اور اس کی چیرہ دستیاں ہیں، لہٰذا جو حلقے ٹرمپ کی آمد کو ایک ہولناک تجربہ سے منسلک کرتے ہیں ان کے خدشات کی بھی ایک منطقی بنیاد ہوگی، اس لیے کہ عالمی سیاست، بین الاقوامی اسٹرٹیجک اور جیوپولیٹیکل صورتحال سے امریکا کبھی لاتعلق نہیں رہا، گلوبل سیاسی تناظر میں امریکی الیکشن کے نتائج بے نتیجہ نہیں رہ سکتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کی ٹیم کس طرح کی ہوتی ہے، ان کے مشیران باتدبیر پاکستان سمیت دنیا کے دیگر سیاسی اور قومی معاملات سے کس طرح نمٹنے کی تدبیر اختیار کرتے ہیں، اس لیے امید و یقین کا دامن تھامے رہنے کی جو تلقین کی جارہی ہے وہ بلا ضرورت نہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت چشم کشا بھی ہے، ہمارے ارباب حکومت کو پاک امریکا تعلقات میں سردمہری کے ازالہ کے لیے اپنی اسٹرٹیجی از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تبدیل شدہ صورتحال میں پاک امریکا تعلقات کا نیا دور شروع ہو۔ ٹرمپ کو افغانستان کے چیلنجنگ مسئلہ کا سامنا ہوگا، خطے میں امن کے لیے نو منتخب صدر سے خیر سگالی کی توقع خارج از امکان نہیں۔
پاکستان ایٹمی قوت ہے، افغان مسئلہ کی کلید اس کے پاس ہے، امریکی عزائم اور امریکی پالیسیوں میں پیراڈائم شفٹ، دہشتگردی خطرات اور اندیشے اپنی جگہ لیکن پاکستان آج بھی امریکا کی اسٹرٹیجیکل ضرورت ہے، امریکا کو قائل کیا جاسکتا ہے کہ بھارت نوازی پاکستان جیسے حلیف کے لیے سوالیہ نشان ہے۔ امریکا تعلقات کے مستحکم ہونے کی گیند ڈونلڈ ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔ خطے کا امن امریکی تدبر سے مشروط ہے۔