عمران خٹک… پیش گوئی اور مشورہ
آج کل ہماری سیاست صحافت مذہب اور سوشل لائف میں دو چیزوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے
آج کل ہماری سیاست صحافت مذہب اور سوشل لائف میں دو چیزوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، ایک پیش گوئیاں کرنا ... اور دوسری مشورے دینا ... اور پھر خاص طور پر کالم نگاری تو انھی دو ستونوں پر ٹکی ہوئی ہے، چونکہ ہمارا تعلق بھی اس قبیلے سے ہے اس لیے اگر زیادہ نہیں تو کچھ تھوڑی سی تلچھٹ ہمارے اندر بھی ان دو چیزوں کی پائی جاتی ہے۔
ہم اتنے ''بڑے'' تو نہیں کہ امریکا، روس، چین و جاپان اور اوباموں، پیوٹنوں اور مودیوں کو مشورے دے سکیں یا ان کے بارے میں کچھ پیش گوئیاں کر سکیں، لیکن اپنے چھوٹے دائرے میں کبھی کبھی کالم نگار ثابت کرنے کے لیے غنیمت تجربے اور ہر فن مولیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ دال ساگ کر لیتے ہیں۔ فراق گورکھپوری نے عاشقوں یا شاعروں کے بارے میں کہا تھا کہ
یوں تو ہنگامے اٹھاتے نہیں دیوانے لوگ
مگر اے دوست اٹھائیں تو ٹھکانہ بھی نہیں
اور یہ ہم اپنے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ ہم زیادہ پیش گوئیاں اور مشورہ بازیاں تو نہیں کرتے لیکن جب کرتے ہیں تو سو ڈیڑھ سو فیصد سچ کرتے ہیں مثلاً ہم نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ سورج مشرق سے نکلے گا اور مغرب میں غروب ہو گا، رات کے بعد دن آئے گا اور دن کے بعد رات آئے گی، اور یہ سو فیصد سچ نکلیں، اس طرح ہم نے جتنے بھی مشورے دیے تھے وہ بھی سب کے سب انھوں نے مان لیے ہیں، مثلاً ہم نے پاکستان والوں کو مشورہ دیا تھا کہ بیروزگاری کو ختم کرنے کے لیے گداگری کو فروغ دو اور پاکستانیوں نے دل و جان سے ہمارا مشورہ قبول کرتے ہوئے اس روزگار کے ذریعے بیروزگاری کا خاتمہ کر دیا۔
ایک مشورہ ہم نے پاکستانیوں کو یہ دیا تھا کہ باتیں کرو اور باتوں کے سوا کچھ نہ کرو اور وہ دل و جان سے یہی کر رہے ہیں، سیاست دانوں کو ہم نے مشورہ دیا کہ تماشے کرو اور وہ آج کل سب کے سب تماشے کر رہے ہیں، اور آج ہم پھر ایک پیش گوئی اور ایک مشورہ لانچ کر رہے ہیں جو خالص ہمارے اپنے حقہ انتخاب جس میں ہم بطور ووٹر کے پائے جاتے ہیں سے متعلق ہیں سب سے پہلے تو ہم اپنے ایم این اے ۔۔۔ ڈاکٹر عمران خٹک کے بارے میں یہ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ وہ اچھے لیڈر بھی بن نہیں پائیں گے، کیوں کہ ان کے ''لچھن'' بالکل بھی سیاسی نہیں ہیں، وہ سیاست کے بنیادی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنے حلقے میں واہی تباہی پھرتے ہیں، ہر جگہ پہنچتے ہیں اور ہر کسی سے خود جا کر ملتے ہیں اور ہر وقت ہر جگہ دستیاب رہتے ہیں اور یہ بات سیاست کے مسلمہ اصولوں کی سراسر خلاف ورزی ہے کہ الیکشن جیتنے کے بعد بھی کوئی ایم این اے اپنے ووٹروں سے ناطہ رکھے، کم از کم پانچ سال سے پہلے تو کسی ووٹر کے ہاتھ لگنا بھی سخت سیاسی ''بدپرہیزی'' ہے چہ جائیکہ کہ کنواں خود چل کر پیاسوں کے پاس آنے لگے۔
اس بات کی سن گن تو ہمیں کافی عرصے سے مل رہی تھی کہ عمران خٹک وہاں تھا، یہاں تھا، فلاں گاؤں، محلے یا مقام پر تھا یعنی ایم این اے ہو کر عوام کے اندر پایا جاتا تھا لیکن یقین نہیں آتا تھا بھلا کوئی ایم این اے ایسے کیسے کر سکتا ہے یہ تو سیاسی قوانین کی سراسر خلاف ورزی ہے، منتخب نمایندے منتخب ہو کر اسلام آباد، حیات آباد یا کسی بھی ''آباد'' مقام کے بجائے ''غیر آباد اور خراب آباد'' حلقے میں نظر آئے؟ یہ تو سیاست، جمہوریت، ایم این اے، کونسلری، ممبری اور لیڈری کی سراسر توہین والی بات ہے، اس لیے محض افواہیں سمجھ کر سن لیتے تھے لیکن جب ہمارا علم الیقین اچانک عین الیقین اور حق الیقین میں بدل گیا اور اسے ہم نے اپنے خراب آباد میں اپنی آنکھوں سے دیکھا تو خوشی بھی ہوئی کہ
وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں
اس نے کسی سے سنا تھا کہ ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے یعنی تھوڑی سی پیاس لگتی ہے اور کنواں خود چل کر پیاسے کے سامنے تھا، لیکن ''کنوئیں'' کا تو مستقبل تاریک ہو گیا، لوگ اسے گھر کی مرغی دال برابر کر دیں گے کہ وہ اس کے عادی ہی نہیں ہیں، اب تک تو یہ ہوتا رہا ہے کہ کنواں گلی گلی سے پانی اکٹھا کر کے لبالب بھر جاتا تھا اور پھر اپنے اوپر فولاد کا ڈھکن ہی نہیں چڑھاتا تھا بلکہ اس ڈھکن کے اوپر خاص قسم کے لوگ بٹھاکر چوکیداری پر لگا دیتا کہ مبادا کوئی بھولا بھٹکا پیاسا پانی کی کوئی بوند نہ چرا لے... ڈھکن کے اوپر بیٹھنے والوں کو صرف ایک فقرہ ازبر ہوتا کہ صاحب گھر پر نہیں ہیں اسلام آباد انعام آباد یا اکرام آباد گئے ہوئے ہیں، اور یہ ہم کوئی سنی سنائی نہیں کہتے اپنے اوپر بیتی ہے۔
یہ موبائل فون سے پہلے والے زمانے کی بات ہے کہ ہمیں ایک ٹیلی فون لگانے کی ضرورت پڑی لوگوں نے بتایا کہ وزیر مواصلات کی دعا اور آشیرباد کے بغیر یہ گل بکاؤلی حاصل کرنا مشکل ہے، خود اس تک پہنچنا تو کوہ قاف پہنچنا تھا لیکن اس کا بیٹا خان صاحب اپنے بنگلے میں عوام الناس کی دسترس میں ہوتا ہے۔ ہم بھی گئے، عجیب سماں تھا کئی قطاروں میں کرسیوں پر سائل بیٹھے تھے، ہم بھی ایک آخری کرسی پر بیٹھ گئے'خان صاحب ایک جگہ بیٹھے تھے ایک سائل پیش ہو جاتا تو اس کی خالی کرسی پر پاس والا پڑوسی بیٹھ کر نمبر پر آجاتا تھا، اس طرح ساری کرسیوں کے مکین کرسی بدلی کر دیتے تھے یوں قطار کرسی بہ کرسی آگے کھسکتی آخر کار ''حضور'' میں پہنچ جاتی۔
ہم نے حساب لگایا تو ہمارے آگے پچاس ساٹھ کرسیاں تھیں جن سب پر بیٹھے بیٹھے آگے کھسکتے ہوئے منزل مراد پر پہنچنا تھا، اندازہ لگایا تو ہماری باری آنے میں کم از کم چار گھنٹے لگنا تھے اور اتنا حوصلہ ہم میں تھا نہیں اور سن گن لینے پر پتہ چلا کہ یہ سب کچھ کرنے کے بعد ہماری درخواست پر صرف ریکیمنڈڈ کی مہر لگنا تھی، سو چلے آئے اور ایسے چلے آئے کہ پھر کسی بھی کنوئیں کے پاس جانے کی توبہ کر لی۔ ایوب خان کے دور سے لے کر آج تک ہم پیاسے رہے کہ کنووؤں تک پہنچنا ممکن نہ تھا اور یہ قسم نبھانا کچھ زیادہ مشکل بھی نہ تھا ہم نے ''توقعات'' پالنا ہی چھوڑ دیا
جب توقع ہی اٹھ گئی غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
اب یہ ایک ڈاکٹر عمران ہے جسے ایم این اے یا سیاست کی الف بے بھی نہیں آتی خود ہی اپنے حلقے میں پھر پھر کر خود کو ارزاں کر رہا ہے ،اس لیے ہم نے پیش گوئی کر دی کہ یہ شخص ہر گز لیڈر بننے والا نہیں ہے، ہاں اگر ہمارے مشورے پر عمل کرے تو پیش گوئی غلط بھی ہو سکتی ہے، چونکہ ہمارے پاس آکر اس نے ہمیں ممنون کر دیا ہے اس لیے ہم بھی احسان کا جواب احسان سے دیتے ہوئے بالکل مفت مشورہ دے رہے ہیں کہ سیاست میں اگر ضروری حصہ لینا ہے تو اپنا طریقہ اپنا مزاج اور اپنی چلت پھرت فوراً بدل ڈالو اور ''آدمی'' کے بجائے لیڈر بننے کی راہ پر نکلو، عوام سے کم از کم اتنا فاصلہ رکھو جتنا لیڈر اور عوام میں ہوتا ہے، یہ کیا کہ زمین کا گز بن کر ہر جگہ ہر مقام پر پائے جاتے ہو، سارے وھیل، وھیکلز پھینک کر ''ویل'' یعنی کنواں بن جاؤ اپنے اوپر موٹا سا فولادی ڈھکن رکھ دو اور اس ڈھکن کے اوپر ایک بڑا سا پتھر رکھ کر چوکیداروں کی ڈیوٹی لگا دو کہ کوئی پیاسا کنوئیں کے قریب بھی نہ پٹخنے پائے۔
اگر ایسا کر لیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ لیڈر لوگ بھی اپنی قطاروں میں جگہ دے دیں اور عوام بھی یقین کر لیں کہ تم آدمی نہیں لیڈر ہو، لیکن اگر یوں آدمی بنے رہے تو کسی اور جگہ تو شاید فٹ ہو جاؤ لیکن سیاست کی دنیا میں ان فٹ ان فٹ اور ان فٹ ... کیوں کہ یہ سیاست ہے جس میں فصل اور فاصلے کا اصول چلتا ہے کوئی تصوف نہیں جس میں فصل کے بجائے ''وصل'' کا اصول چلتا ہو اور وصل بھی عوام سے؟