کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
لکشمی بلکہ مہا لکشمی جی ہمارے گھر ’’ساکشات‘‘ پدھاری تھیں
کچھ سنا آپ نے؟ لکشمی بلکہ مہا لکشمی جی ہمارے گھر ''ساکشات'' پدھاری تھیں اور اس نے ہماری پیٹھ کو اپنے پوتر ہاتھوں سے تھپتھپاتے ہوئے دھنے واد دیا ہے کہ لکشمی خوش ہوئی، اس طرح پوجا اور بھگتی کرتے رہو کلیان ہو گا، آپ تو جانتے ہیں کہ دیوی لکشمی اور اس کا پتی دیو وشنو بھگوان جب بھی دنیا میں کوسنکٹ ہو تو کوئی اوتار لے کر آ جاتے ہیں اور ''ادھرم'' کو مٹا کر ''دھرم'' کا بول بالا کر دیتے ہیں چنانچہ اب کے لکشمی ماتا نے جس اوتار میں جنم لیا ہے اس کا نام ''کرسٹین لا گارڈ'' معلوم ہوا ہے جو پچھلے دنوں پہلی مرتبہ پاکستان کو اپنے ساکشات درشن دے کر گئی ہیں، لکشمی کی اوتار کرسٹین لاگارڈ نے درشن دے کر پاکستان کو ایسا ''دھینہ'' کر دیا ہے کہ بے چارے کا وہی حال ہوا کہ
کسی کے آتے ہی ساقی کے ایسے ہوش گئے
شراب سیخ پہ ڈالی کباب شیشے میں
اب وہ یہاں جو بول بچن دے کر گئی ہیں وہ ہوا میں کچھ ایسا گڈمد ہو گیا ہے کہ فلموں کا وہ منظر نگاہوں میں گھوم گیا ہے جب کسی کردار کے دونوں جانب شیطان اور فرشتے دکھائی دیتے ہیں فرشتہ اس کے کان میں کچھ کہتا ہے اور شیطان کچھ ۔ یا کسی کردار کے اندر ''نیک و بد'' دونوں روحیں بیک وقت گھس جاتی ہیں کبھی ایک روح کے اثر میں وہ بھیانک نظر آتا ہے کبھی دوسری روح کے اثر میں خوب صورت نظر آتا ہے۔
چنانچہ ایک طرف مہا لکشمی کرسٹین لاگارڈ نے پاکستان کی تعریف کی ہے تو دوسری سانس میں قرضوں کے حجم پر تشویش کا اظہار کیا ہے ایک طرف اس نے پاکستانی معیشت میں زبردست ترقی کا راگ الاپا ہے تو دوسری طرف ٹیکسوں کے نظام میں پری ورتن یعنی پھیلاؤ کو مزید پھیلاؤ اور پھلنے پھولنے کا عندیہ دیا ہے، ویسے ہمارے وزیراعظم پر شاید مہا لکشمی کا رعب کچھ زیادہ طاری ہو گیا تھا ورنہ جب اس نے پاکستان پر بڑھتے ہوئے قرضوں کے حجم کی بے پناہ بڑھوتری کی بات کی تھی تو وزیراعظم یہ جواب دے سکتے تھے کہ کیسا قرضہ کہاں کا قرضہ؟
جن پر قرضہ ہے اور جن کو یہ قرضہ ادا کرنا ہے ان کو ہم نے پکڑ کر باندھ لیا ہے اور ماہر قصائیوں کو ان پر چھوڑ دیا ہے کہ ان کی کھالوں سے قرضہ وصول کر لیں، آپ فکر نہ کریں تھوڑا سا قرضہ اور تاکہ ہم ان قصائیوں کو زیادہ معاوضہ دے کر زیادہ سے زیادہ کھالیں اتارنے پر لگائیں ان کی تعداد بڑھائیں اور تیز سے تیز چھریاں فراہم کریں، ویسے لکشمی دیوی کرسٹین لاگارڈ کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستانی حکومت کی ''کھال اتروائی'' پالیسی سے اچھی خاصی مطمئن ہو کر گئی ہیں لیکن پھر بھی اگر اسے مزید یقین دہانی کرائی جاتی کہ پاکستانی کھالیں ہیں بھی بہت، آسانی سے اتاری بھی جا سکتی ہیں اور بار بار اتاری جا سکتی ہیں تو وہ کچھ اور زیادہ مطمئن ہو کر تھوڑا سا مال اور ادھر کھسکا دیتیں تاکہ کھال اتارنے والے کچھ اور مستعدی سے کام لینا شروع کر دیں۔
ویسے تو مہا لکشمی نے پاکستان کی موجودہ ''کھال اتاری'' کو سراہا ہے کہ پاکستان معاشی بحران سے نکل آیا ہے اب یہ تو ہمیں معلوم نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ باتیں ہمارے لیول سے اونچی ہیں کہ پاکستان معاشی بحران میں کب پھنسا تھا کیسے پھنسا تھا اور کس نے پھنسایا تھا اور اب نکل کیسے آیا، کتنا نکل آیا اور کہاں نکل آیا ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ چنے کی دال 170 روپے کلو ہو گئی ہے اور آٹا پچاس روپے کلو سے زیادہ ہے یعنی
دل ول پیار ویار میں کیا جانوں رے
جانوں تو جانوں اتنا کہ تجھے ''دشمن'' جانوں رے
یہ شرح نمو، زرمبادلہ کے ذخائر، معیشت میں ترقی، وزیر خزانہ کو بہترین کارکردگی کے ایوارڈ وغیرہ مل کر بھی نہ تو ہمارے پیٹ میں آٹا دال ڈال سکتے ہیں نہ مہنگائی کو نکیل ڈال سکتے ہیں نہ لوڈ شیڈنگ ختم کر سکتے ہیں نہ بیروزگاری کا روز بروز بڑھتا ہوا پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں جرائم جوائن کرنے کا رجحان ختم کر سکتے ہیں بلکہ کم بھی نہیں کر سکتے کیوں کہ لکشمی جی کی آشیرواد سے تعلیم کے ذریعے بیروز گاری انڈسٹری دن دونی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے، ویسے تو لکشمی جی کا سارا بیان جو سرکاری چھلنی سے ہو کر آیا ہے نہایت ہی دل خوش کن ہے کہ اس میں حکومت کو کئی تمغے لگائے گئے ہیں لیکن چھلنی میں شاید کوئی سوراخ ہو گا کہ یہ بات بھی نکل آئی ہے کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے قرضوں پر ہماری اس شبھ چنتک کرسٹین لاگارڈ کو تشویش ہے۔
اس سے کچھ زیادہ نقصان تو نہیں ہو گا کیونکہ ''کھال دار'' جانور بہت بھی ہیں بے زبان بھی ہیں اور بندھے ہوئے بھی ہیں لیکن تھوڑی سی چنتا اس بات کی پیدا ہو سکتی ہے کہ جب معیشت مثالی ہو رہی ہے ۔ وہ خوش ہوا کہ میں امر ہو گیا ہوں لیکن یہ خیال ہی نہیں کیا کہ اس فہرست میں انسان کا نام نہیں تھا اور پھر ایک انسان رام چندر نے اس کا ودھ کر دیا، پاکستان کی معیشت الحمد اللہ، شرح نمو سبحان اللہ پالیسیاں ماشاء اللہ حکومت اللہ اللہ، ترقی واہ واہ ہاں تھوڑا قرضے کا حجم، مطلب یہ کہ مریض کا جسم اچھا خاصا ہے آنکھیں، کان، ناک، ہاتھ، پاؤں سب ٹھیک ہے بخار اتر گیا ہے زکام کی کوئی تکلیف نہیں ہے کھانسی رک چکی ہے البتہ تھوڑا سا مر گیا ہے، ویسے یہ جو مہا لکشمی آئی تھی جس کا موجودہ نام کرسٹین لاگارڈ ہے کمال کی عورت ہے اور کیسے نہیں ہو گی جب آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر بلکہ دوسرے الفاظ میں تمام ملکوں کی اصل حکمران اور ملکہ عالم ہے تو کچھ ملکہ بہت کچھ کمالات تو اس میں ہوں گے ہی، اور اس کا اظہار اس نے اپنی گفتگو میں کر بھی دیا ہے۔
ذرا اس کی کہی ہوئی دو باتوں کو آپس میں جوڑ دیجیے ایک یہ پاکستان کے قرضے کا حجم قابل تشویش ہے اور پھر اس جملے سے ذرا لاتعلق ہو کر کہہ ڈالا کہ کرپشن بڑی رکاوٹ ہے باقی سارے جملوں کو حذف کر دیجیے صرف دو الفاظ ''قرضہ اور کرپشن'' آمنے سامنے کر دیجیے ساری بات آئینے کی طرح صاف ہو جائے گی، بلکہ اگر کوئی اچھا سا مولوی مل جائے تو ان دونوں کا آپس میں نکاح بھی پڑھایا جا سکتا ہے کیونکہ تقریباً یک جان و دو قالب ہیں قرضے سے کرپشن کا وجود ہے اور کرپشن ہی قرضے کا وجود ہیں۔
مہا لکشمی نے کنایتاً کہا ہے کہ کرپشن ختم کر دیجیے تو قرضے خود بخود ختم ہو جائیں اب تو قرضہ آتا ہے اور بٹ بٹا کر چلا جاتا ہے، یوں کہئے کہ دوا دارو کے لیے جو قرضہ لیا جاتا ہے وہ شادی میں خرچ ہو جاتا ہے کرپشن نہ ہو تو ایک ارب روپے کا کام ایک ہی ارب میں ہو جائے گا، لیکن اب یہ دو بل کہ چار ارب میں ہوتا ہے، دہشتگردی پر 100 ارب خرچ ہو گئے ہیں لیکن انکم سپورٹ کی گداگری پر کتنے؟ اسمبلیوں پر کتنا؟ وزیروں پر کتنا؟ اور منتخب نمایندوں پر کتنا؟ پھر بھی پاکستان کی معیشت ترقی پر ہے شرح نمو بڑھ رہی ہے افراط زر کم ہو رہا ہے عوام کے وارے نیارے ہو رہے ہیں، آئی ایم ایف شاباشی دے رہی ہے مہا لکشمی خوش ہو رہی ہے، خوش کیوں نہیں ہو گی کہ سب کچھ اس کی مرضی اس کی خواہش اور اس کے مفاد کے لیے ہو رہا ہے۔
کی اس نے گرم سینۂ اہل ہوس میں جا
آئے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے