مسئلہ کشمیر پر قیادت متفق ہے نظرانداز نہیں کرسکتے پرویزاشرف

کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کیلیے کوششیں جاری رکھیں گے، وفد سے ملاقات


News Agencies/Numainda Express December 18, 2012
اسلام آباد: وزیراعظم راجا پرویز اشرف سے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں کشمیری وفد ملاقات کررہا ہے۔ فوٹو : پی پی آئی

وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر نظر انداز نہیں کرسکتا، اس پر تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود ہے، کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کیلیے کوششیں جاری رکھیں گے، مسئلے کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل چاہتے ہیں۔

انھوں نے یہ بات کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں7 رکنی وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کہی ، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کوکشمیری عوام کی اپنے جائز حق خود ارادیت کیلیے جدوجہد پر فخر ہے، حریت کانفرنس کیساتھ رابطہ ایک مثبت پیشرفت اور کشمیرکے عوام کے جائزنصب العین کا اعتراف ہے۔ انھوں نے کشمیری قیادت کویقین دلایاکہ پاکستان مکمل طور پران کیساتھ ہے۔

میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ کشمیر کے عوام پاکستان کی غیر مشروط حمایت کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وفد کے ارکان میں مولانا عباس انصاری، عبدالغنی بھٹ، بلال غنی لون، مختار احمد ، آغا سید حسن الموسوی اور مصدق عادل شامل تھے۔ حریت وفد نے اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی سے بھی ملاقات کی ، اسفندیارولی نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات کی کامیابی کیلیے مسئلہ کشمیرکا حل ضروری ہے۔

1

قبل ازیں مظفرآباد میں میڈیاسے گفتگومیں میرواعظ عمرفاروق نے کہا کہ ہم پاک بھارت مذاکرات کیخلاف نہیں تاہم ان مذاکرات میں کشمیریوںکوبھی شامل کیاجائے،وزیراعظم آزادکشمیرنے حریت وفد کے اعزازمیں عشائیہ دیا۔علاوہ ازیں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وزیراعلٰی بلوچستان اسلم رئیسانی سے ملاقات میں کہا کہ بلوچستان کی ترقی اور اس کے مسائل کا حل وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے بالخصوص ناراض بھائیوں کو قومی دھارے میں لانے اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقعوں کی فراہمی کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔وزیراعظم نے یقین دلایا کہ صوبے میں امن وامان کے قیام اور صوبے کی مجموعی ترقی کیلئے وفاقی حکومت بھرپور معاونت کرے گی۔وزیراعظم سے برونائی دارالسلام کے سبکدوش ہونے والے ہائی کمشنر حاجی عبدالجلیل نے الوداعی ملاقات کی۔