پاک چین اقتصادی راہداری    دوسرا حصہ

کراچی لاہور موٹر وے کا دوسرا حصہ حیدرآباد سے سکھر تک 296 کلومیٹر لمبا ہے


سلمان نور صدیقی November 13, 2016

KARACHI: کراچی لاہور موٹر وے کا دوسرا حصہ حیدرآباد سے سکھر تک 296 کلومیٹر لمبا ہے۔ چھ لین پر مشتمل یہ روڈ جسے ایم 6 موٹروے کا نام دیا گیا ہے، اس منصوبے کی لاگت 7.1 ارب ڈالر ہے۔ حیدرآباد سکھر موٹر وے کی تعمیر سے اندرونِ سندھ تیز رفتار ذرائع آمدورفت کی سہولیات خاص کر مٹیاری، خیرپور، جامشورو، ٹنڈوآدم، شکارپور، مہرپور، لاڑکانہ، روہڑی اور نوابشاہ کے علاقوں کو بہت فائدہ ہوگا، اس منصوبے پر سات انٹر چینجز اور 25 پل دریائے سندھ اور نہروں پر تعمیر کیے جائیں گے۔

کراچی لاہور موٹر وے کا تیسرا حصہ 392 کلومیٹر لمبا، سکھر، ملتان موٹروے جس کی تعمیری لاگت تقریباً 2.89 ارب ڈالر آئے گی۔ 6 مئی 2016 کو اس منصوبے پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوچکا ہے۔ چھ لین کی موٹر وے کے اس حصے پر گیارہ انٹر چینجز، 492 انڈر پاسسز اور 54 پل تعمیر کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ 36 ماہ میں مکمل ہوگا جس پر 90 فیصد سرمایہ کاری چین اور 10 فیصد پاکستان کرے گا۔ اس منصوبے سے سندھ کے شہروں سکھر، پنوں عاقل، گھوٹکی اور گدو کو جب کہ پنجاب کے رحیم یار خان، احمد پور، اودھ شریف، لودھراں، شجاع آباد جیسے جنوبی پنجاب کے دور افتادہ علاقوں کو فائدہ ہوگا۔

کراچی لاہور موٹروے کا چوتھا اور آخری حصہ ملتان لاہور موٹر وے جس کی لمبائی 333 کلومیٹر ہے۔ اس پر تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ 102 کلومیٹر لمبا خانیوال عبدالحکیم روڈ کا حصہ M4 موٹر وے کہلائے گا، جس کے لیے فنڈ ایشیائی ترقیاتی بینک فراہم کرے گا۔ باقی عبدالحکیم سے لاہور کا 221 کلومیٹر حصہ سی پیک کا منصوبہ ہے، جس پر چین کی سرمایہ کاری سے کام جاری ہے۔ لاہور اسلام آباد موٹر وے پہلے سے ہی موجود ہے۔

مشرقی روٹ کا دوسرا حصہ M8 کہلاتا ہے، جو گوادر کو سکھر سے ملائے گا۔ اس طرح ایم 8 کراچی لاہور موٹر وے سے مل جائے گی۔ M8 سندھ میں سکھر رتوڈیرو سے ہوتی ہوئی بلوچستان میں خضدار آواران، ہوشاب تربت سے گزرتی ہوئی مکران کوسٹل ہائی وے سے ملے گی، جو گوادر پورٹ کے بالکل مشرق میں واقع ہے۔ M8 دریائے دشت سے گزرتی ہوئی میرانی ڈیم کے پاس سے بھی گزرے گی۔ M8 کی کل لمبائی 892 کلومیٹر ہے۔

پہلے فیز میں 2 لین کی روڈ اور دوسرے فیز میں مزید 2 لین کی روڈ بنے گی۔ اس منصوبے پر ایف ڈبلیو او 520 کلو میٹر پر کام مکمل کر چکی ہے۔ ہوشاب کے قریب کچھ پلوں کی تعمیر کا کام باقی ہے، جہاں سے یہ روٖڈ N85 (ہوشاب پنجگور بسماں ہائی وے) او ہوشاب بیلا روڈ سے ملتی ہے۔ رتو ڈیرو خضدار سیکشن پر تقریباً کام مکمل ہو چکا ہے۔ صرف کیتھر کے پہاڑوں پر روڈ کا کام باقی ہے، جو خضدار کے مشرق میں 70 کلومیٹر دور واقع ہے۔ M8 پر بلوچستان میں تربت، ہوشاب، آواران اور خضدار پر انٹرچینجز بھی تعمیر ہوں گے۔

سی پیک وسطی روٹ:سی پیک وسطی روٹ مستقبل کا منصوبہ ہے۔ گو مشرف دور میں 2006 میں گوادر کاشغر کوریڈور کے طور پر اسی منصوبے کو منظور کیا گیا تھا، اس کی کل لمبائی 2756 کلومیٹر ہے۔ یہ گوادر تربت، پنجگور، خضدار، بسماں، رتوڈیرو، سکھر، راجن پور، لیہ، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، کوہاٹ سے ہو کر قراقرم ہائی وے سے جاملے گی۔

کچھ ماہرین کا خیال یہ بھی ہے کہ وسطی راہداری کی جگہ مشرقی اور مغربی راہداری کے بیچ میں خضدار، رتوڈیرو، سکھر لنک، کوئٹہ، قلع سیف اللہ، ملتان لنک اور ڈی آئی جی خان ، سرگودھا، لاہور لنک اگر تعمیر کردیا جائے تو یہ تین لنک روڈ مغربی کوریڈور کو مشرقی کوریڈور سے ملا دیں گے۔ اس طرح یہ تین لنک روڈ وسطی راہداری کا متبادل بن سکتے ہیں۔

قراقرم ہائی وے:سی پیک کے منصوبوں میں سے ایک اہم ترین قراقرم ہائی وے کا منصوبہ ہے۔ قراقرم ہائی وے جسے N-35 بھی کہتے ہیں، حسن ابدال کے قریب برہان انٹر چینج سے خنجراب پاس (پاک چین بارڈر) تک اس قراقرم ہائی وے کی کل لمبائی 887 کلومیٹر ہے۔ برہان انٹر چینج پر ہی مشرقی اور مغربی روٹ آکر مل رہے ہیں۔

برہان سے رائیکوٹ تک 487 کلومیٹر طویل شاہراہ کو اپ گریڈ کیا جارہا ہے، جسے شاہراہ قراقرم فیز 2 بھی کہتے ہیں۔ جنوب کی طرف برہان، حویلیاں، مانسہرہ تک E-35 ایکسپریس وے کی تعمیر کا کام جاری ہے، جس کا سنگ بنیاد وزیرِاعظم نومبر 2016 میں کرچکے ہیں۔ اس منصوبے کو ہزارہ موٹر وے بھی کہا جاتا ہے۔ ہزارہ میں ڈرائی پورٹ بھی تعمیر کیا جارہا ہے جس سے ہزارہ ڈویژن کے ایبٹ آباد، حویلیاں اور مانسہرہ کے لوگوں کو روزگار اور کاروبار کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔

حویلیاں سے شنکاری تک 66 کلومیٹر طویل 4 لین کی روڈ کا سنگ بنیاد اپریل 2016 میں رکھا جاچکا ہے۔ شنکاری کے شمال سے رائیکوٹ جو کہ چیلاس کے قریب واقع ہے 354 کلومیٹر دو لین کی روڈ تعمیر کی جارہی ہے۔ اپریل 2016 میں اس منصوبے کے فیز ون شنکاری تھاکوٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا ہے۔

حویلیاں شنکاری اور شنکاری تھاکوٹ کا منصوبہ 24 ماہ میں مکمل ہوگا اور اس کی لاگت 1.26 ارب ڈالر آئے گی۔ تھاکوٹ سے رائیکوٹ تک کے روٹ کے درمیان حکومت پاکستان چھوٹے بڑے کئی ڈیم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں سے کچھ پر کام جاری ہے، مثلاً دیامیر بھاشا ڈیم اور داسو ڈیم وغیرہ۔ ڈیم بننے تک 72 ملین ڈالر کی لاگت سے تھاکوٹ، رائیکوٹ روڈ کو حکومت اپ گریڈ کر رہی ہے۔ جنوری 2018 تک یہ منصوبہ بھی مکمل ہوجائے گا۔

رائیکوٹ سے پاک چین سرحد تک 335 کلومیٹر باقی ماندہ قراقرم ہائی وے 2010 کے سیلاب میں بری طرح تباہ ہوگیا تھا۔ شاہراہ قراقرم کے اس حصہ کی تعمیر کا زیادہ تر کام ستمبر 2012 میں 510 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کرلیا تھا۔ 2010 کے زلزلہ کی وجہ سے قراقرم ہائی وے کا 19 کلو میٹر کا حصہ زلزلہ کی وجہ سے بننے والی عطا آباد جھیل میں ڈوب گیا۔

اس جھیل کی گہرائی 100 میٹر سے زیادہ ہے۔ ڈوب جانے والی قراقرم ہائی وے پر عطاآباد جھیل بائی پاس 275 ملین ڈالر کی لاگت سے ستمبر 2015 میں مکمل کرلیا گیا ہے، 29 کلومیٹر لمبے اس بائی پاس پر 2 بڑے پل اور 7 کلومیٹر طویل 5 سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ عطا آباد بائی پاس مکمل ہونے کے بعد پاک چین زمینی تجارت پھر سے زوروشور سے قراقرم ہائی وے کے ذریعے شروع ہوگئی ہے۔

گلگت اور اسکردو کے درمیان بھی روڈ کو اپ گریڈ کرکے 4 لین کا بنایا جارہا ہے، تاکہ اسکردو کو براہِ راست N-35 یا شاہراہِ قراقرم سے ملادیا جائے۔ اس منصوبے کی لاگت 475 ملین ڈالر ہے۔

سی پیک ریلوے منصوبہ:اس منصوبے کے تحت پاکستان کے پرانے اور بوسیدہ ریلوے نظام کو جدید بنایا جائے گا۔ ریلوے لائنز کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور نئی ریلوے لائنز بھی بچھائی جائیں گی۔ سی پیک منصوبے کے تحت مین ریلوے لائن 1 جو کراچی سے پشاور تک جاتی ہے، پاکستان کا 70 فیصد ریلوے ٹریفک اسی ریلوے لائن سے گزرتا ہے، اس کی لمبائی 1687 کلومیٹر ہے۔

(جاری ہے)