درگاہ حضرت شاہ نورانی میں خود کش دھماکا
بلوچستان کا مسئلہ ہے کہ یہاں دشوار گزار پہاڑی علاقے ہونے کے باعث سرحد پار سے دراندازی آسانی سے ہو جاتی ہے
بلوچستان کے علاقے حب میں درگاہ حضرت شاہ نورانی میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں عورتوں اوربچوں سمیت تقریباً64 زائرین جاں بحق اور100 سے زائد زخمی ہوگئے، ہفتہ کو دھماکا مغرب کے وقت اس وقت ہوا جب درگاہ کے احاطے میں دھمال ڈالی جا رہی تھی،دھماکے سے افراتفری مچ گئی اور ہر طرف خون اور انسانی اعضاء بکھر گئے ۔ ہفتے اور اتوار کو چھٹی کے باعث درگاہ میں سندھ ،بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والے 500 سے زائد زائرین موجود تھے۔
صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نوازشریف نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں جاں بحق و زخمی ہونے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعظم کا مذمتی بیان میں کہنا تھا کہ دھماکے کے ذمے داروں کو کٹہرے میں لایا جائے،انھوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
اس سانحہ کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت ہنگامی اجلاس ہوا جس میں دھماکے سے پیدا شدہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ملک دشمن قوتیں سی پیک اور بلوچستان کی ترقی کے دیگر منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیاں کروا رہی ہیں، بزدل دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے کمزور اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، اس عزم کا اظہار کیا گیاکہ دہشت گردوں کے خلاف نتیجہ خیز کارروائی کی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے آئی جی ایف سی بلوچستان سے اس واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے،گورنر و وزیراعلیٰ سندھ، سابق صدر آصف زرداری اور دیگرسیاسی و مذہبی شخصیات نے بھی دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے جانی نقصان پر افسوس کا اظہارکیا۔
اس سانحے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے' بزرگان دین کے مزارات زائرین کے لیے روحانی سکون اور قلبی تسکین کا باعث ہوتے ہیں'ان کی کسی سے بھلا کیا دشمنی، دہشت گردوں نے بے گناہ زائرین کو نشانہ بنا کر سفاکیت کا ثبوت دیا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچستان میں پولیس کے ٹریننگ سینٹر پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کیا' اس سے پیشتر وکلاء کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تھا' پے در پے رونما ہونے والے ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کو اپنی آماجگاہ بنا لیا اور جب بھی انھیں موقع ملتا ہے وہ اپنی کارروائی کر ڈالتے ہیں۔ بزرگان دین کے مزارات چونکہ آسان ہدف ہوتے ہیں اس لیے دہشت گرد انھیں نشانہ بنا لیتے ہیں۔
امریکا میں نائن الیون کے واقعہ کے بعد وہاں کے سیکیورٹی اداروں' انٹیلی جنس ایجنسیوں اور دیگر اداروں نے ایسے حفاظتی اقدامات کیے کہ اس کے بعد وہاں ایسا کوئی بڑا سانحہ رونما نہ ہو سکا۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے سیکیورٹی ادارے اور انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کر رہی ہیں اور انھوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر دہشت گردی کی کئی کارروائیوں کو ناکام بنایا اور دہشت گردوں کی ایک تعداد کو گرفتار بھی کیا۔ لیکن بلوچستان میں پے در پے رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہت سنگین اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک بہت مضبوط اور وسیع ہے جسے توڑنے کے لیے پہلے سے بڑھ کر جانفشانی اور عرق ریزی کی ضرورت ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ ہے کہ یہاں دشوار گزار پہاڑی علاقے ہونے کے باعث سرحد پار سے دراندازی آسانی سے ہو جاتی ہے' ایک جانب غیرملکی ایجنسیاں دہشت گردوں سے معاونت کر رہی ہیں تو دوسری جانب داخلی سطح پر بھی ایسے گروہ موجود ہیں جو ان غیرملکی دشمنوں کے ایجنڈے پر کھیل رہے ہیں۔ ان حالات کے تناظر میں سیکیورٹی ادارے ایک جانب سرحدوں کی نگرانی کر رہے تو دوسری جانب اندرون ملک چھپے ہوئے دشمنوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ یہ نامعلوم دشمن محفوظ پناہ گاہوں میں چھپا ہوا اور اسے مقامی سطح پر سہولت کاروں کا تعاون بھی حاصل ہے' اس لیے اس بے چہرہ دشمن کی پناہ گاہوں کو ڈھونڈنے اور ان کے سہولت کاروں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے انٹیلی جنس اداروں کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوں گی۔
اس کے لیے ناگزیر ہے کہ گراس روٹ لیول پر عوام کی حمایت حاصل کی جائے' بلدیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ متحرک کیا جائے چونکہ بلدیاتی اداروں میں منتخب نمایندے گلی محلے کی سطح پر عوام کے زیادہ قریب ہوتے ہیں اس لیے وہ دہشت گردی کے خاتمے میں سیکیورٹی اداروں کی بھرپور معاونت کر سکتے ہیں۔ جہاں حکومت کا فرض ہے کہ وہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سول اداروں کو متحرک کرے وہاں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور عوام میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے شعور پیدا کریں' اس سلسلے میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔