ہماری سیاسی مڈل کلاس

دنیا کے انقلابی رہنماؤں نے مڈل کلاس کی بہت تعریف کی ہے


Zaheer Akhter Bedari November 14, 2016
[email protected]

دنیا کے انقلابی رہنماؤں نے مڈل کلاس کی بہت تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ انقلابات میں مڈل کلاس عوام کی نمایندگی کرتی ہے۔ اب چونکہ ساری دنیا سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں آگئی ہے، لہٰذا مڈل کلاس کا کردار بھی مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی کرپشن نے مڈل کلاس کو بھی کرپٹ کرکے رکھ دیا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان نہ سرمایہ دارانہ نظام کا حامل رہا ہے نہ مکمل طور پر جاگیردارانہ نظام ہمارے ملک میں موجود ہے، بلکہ صورت حال اس قدر دلچسپ ہے کہ پاکستانی سیاست اور اقتدار سلطانی اقتدار میں بدل کر رہ گیا ہے۔ ملک کی بڑی جماعتیں ہی نہیں بلکہ مڈل کلاس کی جماعتیں اور مذہبی جماعتوں میں بھی ولی عہدی نظام مستحکم ہو رہا ہے۔ اس چوں چوں کے مربے نظام میں ہماری مڈل کلاس سلاطین کی تابعدار بن کر رہ گئی ہے، ہماری مڈل کلاس ہماری سیاست میں وہی کردار ادا کر رہی ہے جو بادشاہتوں میں جاگیردار اور امرا ادا کرتے تھے۔

اس ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ 69 سال سے اس ملک میں جو لوگ برسر اقتدار آتے رہے ان کی پہلی ترجیح عوامی دولت کی لوٹ مار رہی ہے، چونکہ ملک کے سربراہ اپنے اوپر لگائے ہوئے الزامات کا جواب دینے کے لیے میڈیا میں آنا اپنے لیے تضحیک اور توہین سمجھتے ہیں لہٰذا وزرا، مشیروں اور ایم این ایز اور ایم پی ایز کی فوج میڈیا پر آکر اپنے سلاطین کی بدعنوانیوں کی بڑے ماہرانہ انداز میں تردید کرتی نظر آتی ہے۔

اس کام میں اسے اس قدر مہارت حاصل ہے کہ وہ چینلوں کے ٹاک شوز میں جمہوری بادشاہوں پر لگائے جانے والوں کا اس ڈھٹائی سے جواب دیتی ہے کہ سوالی حیران رہ جاتے ہیں۔ ان مڈل کلاسوں کی ذمے داری صرف حکمرانوں کے گناہوں کی تردید اور پردہ پوشی ہی نہیں بلکہ حکمرانوں کے جلسے جلوسوں کا انتظام کرنا اور ان جلسے جلوسوں میں حکمرانوں کی تعریفوں اور کارناموں کو مدلل انداز میں پیش کرکے عوام کو مرعوب کرنا بھی ہے۔

یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ سیاسی پارٹیوں میں خدمات انجام دینے والے اور قربانیاں پیش کرنے والے جن کے بال سفید اور کمر خمیدہ ہوجاتی ہیں، وہ نوعمر سیاسی تجربات سے محروم سیاست سے نابلد شہزادوں اور شہزادیوں کے آگے اس طرح سر جھکا کر کھڑے رہتے ہیں کہ ان پر غلاموں کا گمان ہونے لگتا ہے۔ احساس کمتری اور ذاتی مفادات کے مارے ہوئے یہ مڈل کلاس مراعات کے حصول کی خاطر اپنے ضمیر بیچ دیتے ہیں۔

آج پانامہ لیکس کے اسکینڈل کے حوالے سے میڈیا میں جو طوفان اٹھا ہوا ہے اس کا رخ موڑنے اور حکمران خاندان کو معصوم اور بے گناہ ثابت کرنے میں شاہی امرا جس مہارت اور دیدہ دلیری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس کا مشاہدہ ملک کے 20 کروڑ غریب عوام ہر روز چینلوں پر کر رہے ہیں۔ سیاسی حکمرانوں کے خاندانوں کو عوام میں متعارف کرانے اور ان کی خدمات گنوانے کے لیے سرکاری خزانے سے اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، شاہی خاندانوں کی بڑی بڑی تصاویر کے ساتھ ان کے کارناموں کی پبلسٹی پر اربوں روپیہ خرچ ہوتا ہے۔

ہمارا ملک بدقسمتی سے 69 سال گزرنے کے بعد بھی اب تک قبائلی اور جاگیردارانہ نظام میں جکڑا ہوا ہے اور شخصیت پرستی اس نظام کا لازمہ ہے، ہماری سرکاری مڈل کلاس پوری تندہی سے شخصیت پرستی کو مضبوط اور مستحکم کر رہی ہے، سیاسی حکمران پارٹیوں میں اپنی عمر کا دو تہائی حصہ گزارنے اور قربانیاں دینے والی مڈل کلاس ایسی کلاسی کی احساس کمتری میں مبتلا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی صدارت اور ملک کی سربراہی سوچ بھی نہیں سکتی، حالانکہ طویل خدمات، تجربات اور سیاسی تدبر کے حوالے سے مڈل کلاس کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنی سیاسی جماعتوں کی سربراہی کریں اور وزارت عظمیٰ کے عہدوں پر متمکن ہوں لیکن مڈل کلاس کے امرا کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں آسکتا کہ بحیثیت سینئر رہنما اور تجربہ کار سیاستدان پارٹی کی سربراہی اور ملک کی سربراہی ان کا حق ہے۔ مڈل کلاس کے اس احساس کمتری کے نتیجے میں ہمارے ملک میں شاہی نظام مضبوط اور مستحکم ہو رہا ہے اور اشرافیہ کی گرفت پارٹیوں اور اقتدار پر اور مضبوط ہو رہی ہے۔

آج کی دنیا میں میڈیا کا دائرہ کار ملک کے گوشے گوشے تک پھیل گیا ہے، چونکہ ٹی وی عوام کی دسترس میں ہے سو ٹی وی کے پروگرام عام آدمی دیکھتا ہے اور ان پروگراموں کے حوالے سے اثر قبول کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ٹاک شوز کے پروگراموں کے مہمانوں میں حکومت پر سخت تنقید کرنے والے بھی ہوتے ہیں لیکن اکثریت ایسے مہمانوں کی ہوتی ہے جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہوتے ہیں اور اس مہارت سے حکمرانوں کے کارنامے گنواتے اور ان کے گناہ چھپاتے ہیں کہ عوام کا متاثر ہونا یا کنفیوژڈ ہونا ایک فطری بات ہوجاتی ہے۔

ہمارا ملک 69 سال سے اشرافیائی جمہوریت کے جس شکنجے میں جکڑا ہوا ہے اس کی بڑی ذمے داری بھی سیاسی مڈل کلاس ہی پر عائد ہوتی ہے۔ جب تک اس مضبوط شکنجے کو توڑ کر سیاست اور اقتدار پر سے اشرافیہ کا قبضہ ختم نہیں کیا جاتا حکمرانی کا مطلب قومی دولت کی لوٹ مار کے علاوہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ اس تبدیلی میں میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

بدقسمتی سے مڈل کلاس کا ایک بڑا حصہ جس کی پیشانی پر دانشوری کی چمک موجود ہوتی ہے ہماری اشرافیائی جمہوریت کا ایسا شیدائی بن گیا ہے کہ اس اندھے پن میں وہ جمہوری بادشاہتوں کو ملک کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ اسے یہ کھلی ہوئی حقیقت نظر نہیں آتی کہ ہماری نام نہاد جمہوریت اب تیزی سے خاندانی حکمرانی میں بدل رہی ہے، اسے اس بات کا بھی احساس نہیں کہ وہ اپنی طویل خدمات کے حوالے سے اپنی پارٹیوں کا سربراہ اور ملک کا وزیراعظم بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں