شامی بحران کا حل ابھی دور ہے

شام کی خانہ جنگی چھٹے سال میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے


Editorial November 19, 2016
۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

شام کی خانہ جنگی چھٹے سال میں داخل ہو گئی ہے اور اس کے ختم ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے' اس بحران کے ختم نہ ہونے کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ اس میں علاقائی اور عالمی طاقتیں بھی ملوث ہو چکی ہیں۔

بشار حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے امریکا اور مغربی طاقتیں متحد ہوئیں اور انھوں نے باغیوں کی حمایت کی' بشار کی حمایت میں روس اور ایران آ گئے' یوں یہ علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ اب روس نے شام میں ایک بڑا حملہ شروع کر دیا ہے جس کے بارے میں روس کا کہنا ہے کہ 'دہشتگردوں کے ٹھکانوں' کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا دوبارہ آغاز اپنی ٹائمنگ اس لحاظ سے اہم ہے کہ امریکا میں ایک نیا صدر اقتدار سنبھالنے جا رہا ہے جس کی شام کے بارے میں حکمتِ عملی بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔

ستمبر 2015ء میں روس نے اچانک فیصلہ کیا تھا کہ وہ شام میں جنگی مداخلت کرنے جا رہا ہے۔ روس بشارالاسد حکومت کی حمایت اس لیے کر رہا ہے کہ روس طویل عرصے سے شام کا اتحادی رہا ہے، اور بہت سے شامی فوجی افسروں کی تربیت روس میں ہوئی ہے، جب کہ اسے اسلحہ بھی روس ہی سے ملتا ہے۔ روس کی جانب سے شامی حکومت کی فوجی، سیاسی اور اخلاقی مدد ہی کے سہارے پسپا ہوتی ہوئی شامی فوج کو تقویت ملی۔ روس جنگ میں جدید ترین میزائل نظام بھی استعمال کر رہا ہے۔

روسی حکام اکثر کہتے ہیں کہ ان کی مداخلت نے دولتِ اسلامیہ کے سیاہ پرچموں کی پیش قدمی روک دی، ورنہ قریب تھا کہ وہ دمشق پر اپنا جھنڈا لہرا رہے ہوتے۔ روس شامی اسٹیج پر ایک چھوٹے سے کردار سے بڑھ کر مرکزی کردار بن گیا ہے۔ امریکی حکام نے ایک سال قبل خبردار کیا تھا کہ روس کی یہ چال اسے ایک اور افغانستان کی دلدل میں پھنسا سکتی ہے، جس کا نتیجہ سرد جنگ کی طرح شرمندگی کی صورت میں برآمد ہو گا۔

اکتوبر میں روسی پارلیمان نے ایک معاہدے کی منظوری دی جو اس سے پہلے خفیہ رکھا گیا تھا۔ اس کے تحت روس کو شام میں فوجی اور سامان بھیجنے اور نکالنے کی کھلی چھوٹ مل گئی۔ پچھلے برس جدید میزائل نظام سمیت فوجی اور گولہ باردو شام بھیجے گئے۔ شام میں خصوصی روسی فورسز سرگرم ہیں جب کہ ہزاروں روسی شہری وہاں فوجی کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ روس اور شام کی مشترکہ کوششیں دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں موثر ثابت ہوئی ہیں۔

گزشتہ مارچ میں پیلمائرا شہر کی بازیابی اس کا ثبوت ہے، جہاں اب روس نے جنگی چوکی قائم کر رکھی ہے۔ تاہم مغربی حکومتیں الزام لگاتی ہیں کہ روس ان باغیوں پر بھی حملے کر رہا ہے جنھیں مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے۔ روس کے لیے شام کا محاذ انتہائی اہمیت کا حامل ہے' یہ ایک بڑی جیو پولیٹیکل جنگ کا ایک اور محاذ ہے جس کے تحت وہ دنیا میں امریکا کے برابر مرتبہ اور طاقت حاصل کرنا چاہتا ہے۔

وہ عالمی سیاست میں اپنے کردار کے حوالے سے نیا نقشہ تخلیق کرنا چاہتا ہے' ایران بھی شامی حکومت کی حمایت کر رہا ہے لیکن عالمی اور علاقائی طاقتوں کی رسہ کشی نے شام کو تباہی سے دوچارکر دیا ہے' شام کے شہر تباہ ہو گئے ہیں اور اس کے باشندے دنیا بھر میں پناہ گزینوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں' اس جنگ کے اثرات عراق پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور یمن بھی متاثر ہو رہا ہے' اگر شامی حکومت' اس کے خلاف لڑنے والے باغی اور ہمسایہ ممالک اپنے مفادات میں توازن قائم کر لیتے تو یہ ملک تباہ نہ ہوتا۔