گڈانی کا خوفناک سانحہ

پاکستان میں شپ بریکنگ کا کام ایک باضابطہ انڈسٹری کی شکل اختیارکر گیا تھا


Zaheer Akhter Bedari November 19, 2016
[email protected]

پاکستان میں شپ بریکنگ کا کام ایک باضابطہ انڈسٹری کی شکل اختیارکر گیا تھا، جہاں دنیا کے مختلف ملکوں سے ناکارہ بحری جہاز بریکنگ کے لیے لائے جاتے تھے۔ اس صنعت سے ہزاروں مزدوروں کا روزگار وابستہ تھا اور لاکھوں متعلقین اس صنعت سے بالواسطہ طور پر وابستہ تھے۔ اتنی بڑی صنعت میں مزدوروں کے تحفظ کی کیا صورت حال تھی، اس کا اندازہ گڈانی میں توڑے جانے والے بحری جہاز ایم ٹی ایس کے المیے سے ہو سکتا ہے۔

اس بحری جہاز میں آگ لگنے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد ابھی ابہام کا شکار ہے۔ پولیس ذرایع کے مطابق اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی تعداد 26 اور زخمیوں کی تعداد 50 ہے جب کہ حکومت بلوچستان کے ایک مشیر جان اچکزئی کے مطابق اس المناک سانحے میں مرنے والوں کی تعداد 70 ہے اور زخمیوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے اور کوئی 90 سے زیادہ مزدور لاپتہ ہیں۔

کہا جا رہاہے کہ اس حجم کے بحری جہاز کو توڑنے میں 400 مزدوروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قیاس کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ حادثے کے وقت بحری جہاز پر 400 مزدورکام کر رہے ہوںگے ایم پی اے ثناء اﷲ کے مطابق لاپتہ افراد میں ایک بڑی تعداد بنگالی مزدوروں کی تھی، گڈانی پر حادثے کا شکار جہاز پلاٹ نمبر 54 پر توڑا جا رہا تھا، پلاٹ نمبر17،18 اور 19 کے مالک نذیر خان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے جہازکو توڑنے کے لیے 600 مزدور درکار ہوتے ہیں۔

نذیر خان کا خیال ہے کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 250 ہے۔ ایم پی اے ثناء اﷲ کے مطابق زخمی ہونے والے 53 مزدوروں کا تعلق پختونخوا سے ہے۔ رکن صوبائی اسمبلی پرنس احد علی احمد زئی نے بتایا ہے کہ اس حادثے میں 100 سے زیادہ لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ احمد علی وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ گڈانی کا دورہ کر چکے ہیں۔

ایس ایچ او گڈانی کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کبھی پتہ نہ چل سکے کہ جہاز پر کتنے مزدور کام کر رہے تھے کیونکہ ٹھیکیدار گل زمین جو مزدوروں کا ریکارڈ رکھتا تھا اس سانحے میں ہلاک ہو چکا ہے۔ یوں اس حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں اور لاپتہ ہونے والوں کی تعداد ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔

گڈانی کی شپ بریکنگ انڈسٹری کا شمار دنیا کی بڑی انڈسٹریوں میں ہوتا ہے جہاں ہر روز کئی ناکارہ بحری جہازوں کو توڑنے کے لیے ہزاروں مزدور کام کرتے ہیں۔ اتنی بڑی اور خطرناک انڈسٹری میں حفاظتی انتظامات کا کیا حال ہے اس کا اندازہ اس جہاز پر لگی آگ کو بجھانے کے لیے لگنے والے دنوں سے ہو سکتا ہے۔ ایک جہازکو خواہ وہ کتناہی بڑا کیوں نہ ہو اگر حفاظتی انتظامات خاص طور پر آگ بجانے کے انتظامات موثر ہوں تو آگ بجھنے میں چار پانچ دن لگ سکتے ہیں نہ اتنا بڑا جانی نقصان ہو سکتا ہے۔

بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری میں لگنے والی آگ اور اس آگ سے ہونے والے جانی نقصان کے بعد ٹریڈ یونینوں کی طرف سے مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کراچی کے صنعتی اداروں میں حفاظتی اقدامات کو سخت بنایا جائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس اہم ترین مسئلے کی طرف ابھی تک وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت ہے۔

گڈانی کی شپ بریکنگ ایک باضابطہ حقیقت کی حیثیت رکھتی ہے کہا جا رہا ہے کہ گڈانی پر بریکنگ کے لیے لائے جانے والے بحری جہازوں میں آئل کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔ گڈانی میں حادثے کا شکار ہونے والے ناکارہ بحری جہاز ایم ٹی ایس پر بھی بتایا جاتا ہے کہ آئل کی بڑی تعداد (14 لاکھ بیرل ڈیزل) موجود تھی اور آگ کے پھیلاؤ میں اس آئل کا بہت بڑا دخل ہے۔ کیا متعلقہ اداروں کو اس بات کا علم نہیں کہ توڑے جانے والے بحری جہازوں میں بڑی تعداد میں آئل موجود ہوتا ہے۔

پچھلے دنوں سپریم کورٹ نے ایک کیس کے دوران ریمارکس میں کہاکہ حکومت ایڈہاک بنیادوں پر ادارے چلانا چاہتی ہے حکومتی اداروں کی ناکامی کی وجہ حکومتوں کا یہی رویہ ہے وہ ادارے جو خطرناک صنعتوں میں شمار ہوتے ہیں ان اداروں یا صنعتوں میں حفاظتی انتظامات سخت سے سخت ہونے چاہئیں۔

ہم نے بلدیہ کی گارمنٹ فیکٹری کے المناک سانحے کا حوالے اس لیے ہی دیا تھا کہ اس گارمنٹ فیکٹری میں ہونے والا تاریخی جانی نقصان، حفاظتی انتظامات کے فقدان ہی کا نتیجہ تھا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شپ بریکنگ ایک صنعت کا درجہ رکھتی ہے تو کیا اس صنعت میں وہ حفاظتی انتظامات موجود ہیں جو ایسی خطرناک اور رسکی صنعتوں میں ہونا چاہئیں، المیہ یہ ہے کہ گڈانی میں حادثے کا شکار ہونے والے مزدوروں کی تعداد کا اب تک درست اندازہ نہیں ہو سکا خود سرکاری ادارے اس حوالے سے ابہام اور تضادات کا شکار ہیں۔

بلدیہ اور گڈانی جیسے المیے اس لیے جنم لیتے ہیں کہ ہمارے استحصالی طبقاتی نظام میں مزدوروں کی حیثیت ایک خام مال سے زیادہ نہیں، مزدوروں کو نہ انسان سمجھا جاتا ہے۔ نہ اس حوالے سے انھیں انسانی حقوق حاصل ہوتے ہیں ہمارے سرمایہ دارانہ جمہوری نظام میں انسانی حقوق کا خوب پروپیگنڈا کیا جاتا ہے انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر انسانی حقوق کی بے شمار تنظیمیں موجود ہیں۔

انسانی حقوق میں جان انسان کا سب سے بڑا حق ہے جس کے تحفظ کو اولیت حاصل ہونا چاہیے لیکن ہمارے اس وحشیانہ نظام میں غریب کی جان کی حیثیت کیڑے مکوڑوں کی جانوں سے زیادہ نہیں، سانحہ بلدیہ کو ہوئے برسوں گزر گئے اب تک اس کے مجرموں کا تعین نہیں ہو سکا۔ گڈانی کا المیہ یہ ہے کہ اس حادثے میں کس قدر جانی نقصان ہوا اس کا بھی پتہ نہیں اور نہ پتہ چلنے کا امکان ہے کہ مزدوروں کی حاضری کا حساب رکھنے والا ہی اس حادثے کا شکار ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں