لیاری کا مقدمہ
لیاری نے ترقی پسند اور قوم پرست تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے
لیاری نے ترقی پسند اور قوم پرست تحریکوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لطیف بلوچ کا شمار ان کارکنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے لیاری میں ترقی پسند تحریک کو جلا دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کتاب ''لیاری کا مقدمہ'' معلومات سے پُر کتاب ہے۔ لطیف بلوچ کا تعلق ایک روشن خیال خاندان سے ہے۔ ان کی دادی دُرناز خاتون نے لطیف بلوچ کی پیدائش کا سرٹیفکیٹ 6 فروری 1945ء کو کے ایم سی سے حاصل کیا۔
1945ء میں بچے کی پیدائش کا کے ایم سی سے سرٹیفکیٹ حاصل کرنا روشن خیالی کی علامت تھا۔ لطیف بلوچ کے دادا موسیٰ بلوچ کراچی پورٹ ٹرسٹ میں مزدوروں کے نگران تھے۔ ان کے والد بلدیہ کراچی میں ملازمت کرتے تھے۔ والد نے سب بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ لطیف بلوچ نے میٹرک کرتے ہی ملازمت شروع کر دی۔ وہ اپنے پرائمری اسکول میں استاد رہے اور پھر کے پی ٹی میں ملازمت کی۔
لطیف بلوچ نے انٹرکا امتحان پرائیوٹ طالب علم کی حیثیت سے پاس کیا۔ انھوں نے پہلے لیاری اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے قیام میں حصہ لیا، اس کے بعد بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (B.S.O) کو کراچی کے بلوچ علاقوں میں منظم کرنا شروع کیا۔ 1964ء میں متحدہ حزبِ اختلاف کے قومی اسمبلی کے امیدوار میر باقی بلوچ کا انتخابی جلسہ شاہ بیگ لائن میں منعقد ہوا۔ پولیس نے ریلی کو منتشر کیا۔
لطیف بلوچ کو پولیس نے شیر محمد رئیس، لعل بخش رند، یوسف نسقندی اور رحیم بخش بلوچ کے ساتھ گرفتار کر لیا۔ لطیف بلوچ کی اس وقت عمر 20 سال تھی، دوبارہ وہ 1965ء میں گرفتار ہوئے۔ بعد میں یہ گروپ بی ایس او عوامی بنا۔ اس گروپ نے پیپلز پارٹی سے سیاسی وابستگی رکھی۔ بعد میں اس گروپ کے ارکان نے یوسف نسقندی اور رحیم بخش آزاد کے ساتھ مل کر لیاری میں پارٹی کی بنیاد رکھی۔
لطیف بلوچ نے بی ایس او کے عہدیدار ہونے کے بعد بلوچستان کے رہنماؤں سے قریبی تعلقات قائم کیے۔ انھیں میر غوث بخش بزنجو، سردار عطاء اﷲ مینگل، میر گل نصیر، نواب اکبر بگٹی، نواب خیر بخش مری اور میر شیر محمد سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ لطیف بلوچ نے بی ایس او کے پلیٹ فارم سے 1968ء میں جنرل ایوب خان کی آمریت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا اور پھر گرفتار ہوئے۔
نیپ نے 1970ء کے انتخابات میں بی ایس او کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کو قلات سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ دیا اور لطیف بلوچ کو لیاری سے صوبائی اسمبلی سے امیدوار نامزد کیا گیا مگر لطیف بلوچ نے قومی قیادت کے مشورے پر انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔ یوں لیاری کو پیپلز پارٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ نیپ کی طویل جدوجہد کا ثمر پیپلز پارٹی نے حاصل کیا۔ لطیف بلوچ کو ان حالات کی نشاندہی کرنی چاہیے کہ وہ اور ان کے ساتھی کیوں انتخابات سے دستبردار ہو گئے۔
لطیف بلوچ کی بلوچ رہنماؤں سردار عطاء اﷲ مینگل اور نواب اکبر بگٹی سے کراچی جیل میں ملاقاتیں ہوئیں۔ انھیں 1965ء میں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ پھر جب ایوب آمریت کے خلاف کراچی شہر سے تحریک شروع ہوئی تو این ایس ایف اور بی ایس او کے رہنماؤں کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا۔ لطیف بلوچ کو پنجاب کی کیمل پور جیل منتقل کر دیا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ سماجی اور اقتصادی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہے۔ بالخصوص اعلیٰ تعلیم پر مگر اکثر اساتذہ مطلوبہ قابلیت کے حامل نہیں۔
نوجوان نسل میں تعلیم کے بجائے منفی سماجی رجحان بڑھتا جا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ بلوچ معاشرے میں جدید سماجی ترقی کا تصور دھندلا ہوتا جا رہا ہے اور منفی رجحانات بڑھ رہے ہیں۔ ان رجحانات کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد کی ضرورت ہے ورنہ یہ رجحان صرف جرائم پیشہ گروہوں کے درمیان جنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ جنگ لیاری میں خانہ جنگی کی صورت اختیار کر جائے گی۔
پہلی دفعہ نیپ کی حکومت 1972ء میں قائم ہوئی تھی۔ غالباً لطیف صاحب وزیر اعلیٰ عطاء اﷲ مینگل کے پی آر او تھے۔ انھیں نیپ حکومت کے مختصر اقتدار کے سیاسی واقعات کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔ لطیف بلوچ نے حیدرآباد سازش کیس کی بناء پر کئی سال جیل میں گزارے۔ ان کا علیحدہ باب میں ذکر ہونا چاہیے۔ اس کتاب کا اہم باب لیاری کی تاریخ ہے۔ یہ انتہائی معلوماتی باب ہے۔
مصنف نے لیاری کا ارتقائی دور کے موضوع پر لکھتے ہیں کہ لیاری ندی کا قدیم ترین سراغ یونانی ملاحوں کے لیے 325-326ق م (قبل مسیح) میں تیار کیے گئے نقشوں میں نظر آتا ہے۔ میراں پور کا وجود انھیں 1730ء میں ملتا ہے۔ اسی طرح 1889-90ء میں ترتیب دیے جانے والے ایک نقشہ میں چاکیواڑہ وغیرہ کا وجود نظر آتا ہے۔ یہ تاریخی معلومات ہیں ۔ انھوں نے سندھ کے تاریخی کردار سیٹھ ناؤمل کے حوالے سے جامع پیراگراف تحریر کیے ہیں اور مستند حوالے دیے ہیں۔
مصنف نے بلوچ قومی تحریک کے باب کا آغاز اس جملے سے کیا کہ بلوچستان میں شروع ہونے والی ہر سیاسی تحریک کے اثرات لیاری کی سیاست پر دوررس مرتب ہوتے ہیں۔ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان اور اس کے بعد بھی لیاری مختلف تحریکوں کا مرکز رہا ہے۔ یہ انتہائی اہم نکتہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ لیاری میں 60ء کی دہائی میں یہاں کے محنت کشوں اور طلبہ نے ملک کی ہر سیاسی اور جمہوری تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ یہاں دیگر علاقوں کے برخلاف 80ء کی دہائی تک کبھی بھی نسلی اور فرقہ وارانہ فسادات نہیں ہوئے۔
نیشنل عوامی پارٹی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کا ذکر ہے مگر یہ 1960ء سے 1970ء تک کے واقعات میں مصنف نے پی پی کے عروج کا ذکر کیا ہے اور یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ پی پی پی کے قیام سے جہاں بائیں بازو کی سیاست میں دراڑ پید اہوئی وہیں بلوچ قومی تحریک بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں نیپ کی صوبائی حکومت کے بعد بلوچ قومی قیادت کی ترجیحات بدل گئیں۔ انھیں لیاری کی سیاسی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا اور لیاری کو پی پی کے حوالے کر دیا گیا۔ لیاری میں پی پی پی کی سیاست منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ انتخابات میں پی پی اس قدر بے بس تھی کہ لیاری سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امیدواروں کا انتخاب بھی گینگ وار کے لیڈروں نے کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ لیاری کا کلچر اس وقت تبدیل ہو گا جب خودساختہ کلچر مافیا، ایجوکیشن مافیا اور کرائم مافیا کے خلاف تحریک چلائی جائے۔ لطیف بلوچ کو خودساختہ کلچر مافیا اور ایجوکیشن مافیا کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ان مافیاز کا پہلی دفعہ ذکر ہوا ہے۔ ان کے ارتقاء اور اثرات کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
کراچی کے ملاح اور بلوچ کے عنوان سے لکھتے ہیں کہ کلہوڑہ دور حکومت میں کراچی کی سرزمین پر مچھیروں کی جھونپڑیاں تھیں، یہاں اس وقت کی قدیم آبادی بھیل اور جوکھیہ قائل پر مشتمل تھی جو سامان کی تجارت پر چنگی وصول کرتے تھے۔ اس وقت جوکھیوں کے سردار جام دریا خان جوکھیو تھے۔ جب شاہ بندر بند ہوا تو وہاں کے باشندے بھی کولاچی (کراچی) میں آکر آباد ہوئے۔ اس دوران ایران سے بلوچوں کی اکثریت گڈاپ، منگھو پیر، ہاکس بے اور دیگر علاقوں میں آ کر آباد ہوئی جنہوں نے کراچی میں آ کر زمینیں خرید کر زمین داری کا پیشہ اختیار کیا۔
یوسف نسکندی کے مطابق کراچی میں بلوچ کمیونٹی نے آباد ہونے کے ساتھ ہی سب سے پہلے زمین داری، ماہی گیری اور مال مویشیوں کی تجارت کا پیشہ اختیار کیا اور جو منافع ہوا اس سے کراچی کی تقریباً 60 فیصد زمینوں کے مالک بن گئے۔ لالو کھیت، ناظم آباد، گلشن اقبال، ملیر، گڈاپ، لانڈھی، کورنگی انڈسٹریل ایریا، منگھو پیر، شرافی گوٹھ، ایئر پورٹ، ڈرگ کالونی، ہاکس بے اور ماری پور سمیت کئی گوٹھوں کی زمینوں کی ملکیت بلوچ کمیونٹی کے پاس تھی۔
اس کتاب کا اہم باب لیاری کے لینن گراڈ حلقے کی یادیں ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ بائیں بازو کے ایک معروف کارکن اکبر بارکزئی جن کی عمر اب 80 سال کے قریب ہے 1950-60ء کے عشرے کے سنہری ایام کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ لیاری کے لینن گراڈ حلقے بانی اراکین میں شامل ہیں۔ لالا لعل بخش، محمد بیگ، یوسف نسقندی نے لینن گراڈ لیاری کی بنیاد لعل بخش رند کی رہائش گاہ کے بالمقابل ہشت (آٹھ) چوک پر رکھی۔ اس حلقے میں لطیف بلوچ سمیت کئی نامور کارکن شامل ہوئے۔ وہ یوسف مستی خان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ 1960ء میں انھوں نے ایک نوجوان کی حیثیت سے لینن گراڈ حلقے میں شمولیت اختیار کی۔
لینن گراڈ حلقہ وہ پہلا سیاسی گروپ تھا جس نے 1962ء میں ایوبی آمریت کے خلاف تحریک چلائی اور ایوب خان کے دور میں ذوالفقار علی بھٹو کا ایک جلسہ منعقد کیا۔ لینن گراڈ قلعے کے رہنماؤں نے بلوچ طالب علموں کے لیے ایک سیاسی گروپ تشکیل دیا جس نے لیاری اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی بعد میں بی ایس او کی تشکیل ہوئی۔ بی ایس او اب بھی بلوچستان کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
لطیف بلوچ نے لیاری گینگ وار میں ذوالفقار مرزا کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ انھوں نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی اس پریس کانفرنس کا ذکر کیا ہے جس میں انھوں نے الطاف حسین اور ایم کیو ایم پر الزامات لگائے تھے۔ اسی طرح انھوں نے جاوید چوہدری کے ایک کالم کا حوالہ دیا ہے اور لیاری گینگ وار کا ان سے تعلق کا بھی ذکر ہوا ہے مگر میرا خیال ہے کہ لطیف بلوچ کو اپنے مشاہدات تحریر کرنے چاہئیں۔ خود لکھتے ہیں کہ لیاری ہمیشہ بلوچستان میں چلنے والی سیاسی تحریکوں کا حصہ رہا ہے مگر نئی صدی کے بعد سے صورتحال مختلف ہے۔ اس کی وجہ لیاری میں ہونے والی گینگ وار ہے۔
ان کے مشاہدات سے مجھ جیسے قاری کے لیے زیادہ معلومات حامل ہونگی، اسی طرح لیاری کے نامور صحافیوں نسیم تلوی، نادر شاہ عادل اور صدیق جنگیان بلوچ کے بارے میں بہترین معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اسی طرح لیاری کی زبوں حالی کرداروں قادو مکرانی، شیرو دادل اور بلاول بیلجیم بنجو نواز کے بارے میں ایک معلومات باب اس کتاب کی شان دوبالا کرتا ہے۔ شیرودادل کے ذکر کے ساتھ 1963ء میں ایوب خان کی کنونشن لیگ کے پہلے جلسہ کا ذکر ہے۔
این ایس ایف کے رہنماؤں معراج محمد خان، علی مختار رضوی، سید سعید حسن اور فتحیاب علی خان نے شیرودادل کی مدد سے اس جلسہ میں ہنگامہ کیا تھا۔ بعد میں معراج محمد خان اور کے ساتھیوں کو قیدوبند کی صہوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ لطیف بلوچ نے لیاری کے کھلاڑی کے عنوان سے ہمارے ساتھی اسحاق بلوچ کا خوبصورتی سے ذکر کیا ہے۔ اسحاق بلوچ 90ء کی دہائی سے اسپورٹس رپورٹنگ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ یوں انھوں نے لیاری میں فٹبال کی تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔
کتاب کے آخری صفحات اور زیادہ معلوماتی ہیں۔ وہ لیاری کی بیٹی مدیحہ غفورکا ذکر کرتے ہیں۔ مدیحہ غفور نے ریو اولمپکس 2016ء میں ہالینڈ کے دستے میں ایتھلیٹ کے طور پر شرکت کی۔ انھوں نے 50ء کی دہائی سے اولمپک کھیلوں میں حصہ لینے والے لیاری کے کھلاڑیوں کا ذکر کیا ہے۔ اس کتاب کی اہم خصوصیت رمضان بلوچ اور نادر شاہ عادل کے مضامین ہیں جو قاری کو نئی معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لطیف بلوچ کی یہ کتاب لیاری کے بارے میں بنیادی معلومات فراہم کرتی ہے۔