میئر کراچی کی سندھ اسمبلی آمد

شہری مسائل سے لے کر صفائی کے معاملات تک ہر شے جوں کی توں ہے


Editorial/editorial November 19, 2016
. فوٹو: فائل

ISLAMABAD: میئر کراچی وسیم اختر کی جیل سے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ سندھ اسمبلی کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمانوں کی گیلری میں آمد اور ارکان کی جانب سے پرتپاک خیرمقدم جمہوری روایات کا قابل ذکر حسن اور رواداری کا مظہر ہے، لہٰذا یہ خوش امید کی جا سکتی ہے کہ کراچی کے مسائل حل کرنے کے لیے میئر کراچی اور حکومت سندھ دونوں شانہ بشانہ کام کریں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل قوانین میں ترمیم اور اختیارات کی ردوبدل کے بعد بیشتر اختیارات سندھ حکومت کے پاس ہیں، ایسے میں بے اختیار بلدیاتی حکومت کے پاس کرنے کے لیے بہت کچھ نہیں بچتا لیکن پھر بھی شہری و صوبائی حکومت مل کر عوام کی فلاح و بہبود کے عظیم تر مفاد میں اپنی توانائیوں کا استعمال کریں تو صوبائی حکومت کے لیے بھی کئی معنوں میں سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

نئے نوجوان وزیراعلیٰ کی آمد کے بعد ایک امید بندھ چلی تھی کہ اب وہ مسائل جلد از جلد حل ہو جائیں گے، امید تو بلدیاتی نظام کے نفاذ پر قائم ہوئی تھی لیکن پھر عوام کو آگاہی ملی کہ شہر میں صفائی ستھرائی تک کے معاملات صوبائی حکومت کے ہاتھ میں ہیں تو سب کی نگاہیں وزیراعلیٰ سندھ پر مرکوز ہو گئیں۔ یہ اور بات کہ شہری مسائل سے لے کر صفائی کے معاملات تک ہر شے جوں کی توں ہے۔

عوام صرف بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ صائب ہو گا کہ صوبائی حکومت اور میئر کراچی مل کر ٹرانسپورٹ کی فراہمی، صفائی، ڈرینج سسٹم، پانی کی کمی اور بجلی کے گنجلک مسائل کو حل کرنے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔