مردم شماری پر حکومتی رپورٹ پھر مسترد
سپریم کورٹ نے مردم شماری کرانے کے بارے میں حکومتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے واضح اور غیر مشروط ٹائم فریم طلب کر لیا
سپریم کورٹ نے مردم شماری کرانے کے بارے میں حکومتی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے واضح اور غیر مشروط ٹائم فریم طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے آبزرویشن دی ہے کہ مردم شماری کرانا حکومت کی آئینی ذمے داری ہے، اگر حکومت اپنی آئینی ذمے داری ادا کرنے سے قاصر ہے تو لکھ کر دیا جائے۔
سپریم کورٹ نے مردم شماری کے معاملے پر جو سوالات اٹھائے ہیں ان پر عوامی حلقے بھی حیران ہیں کہ یہ کیسی جمہوری حکومتیں ہیں جو سپریم کورٹ کے احکامات کی مسلسل روگردانی کرتے ہوئے مردم شماری کے معاملے پر ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں۔ اس معاملے پر جن تاخیری حربوں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ بھی لایعنی ہیں۔ یاحیرت، کہاں تو وفاقی حکومت کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ ملک میں مردم شماری کے لیے مالی معاملات سمیت دیگر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں لیکن فوج کی عدم دستیابی کا جو 'بہانہ' تراشا گیا ہے کیا وہ صائب حیثیت رکھتا ہے؟
معزز عدالت نے یہ سوال بالکل درست اٹھایا ہے کہ کہاں پر لکھا ہے کہ مردم شماری کے لیے فوج کی نگرانی لازمی ہے؟ اکثریتی علاقوں میں سیکیورٹی کا ایشو نہیں ہے، امن و امان قائم رکھنے کے لیے پولیس اور دیگرے ادارے موجود ہیں، وہ اپنا کام کیوں نہیں کرتے؟ چیف جسٹس کا یہ کہنا بھی صائب ہے کہ اگر سیکیورٹی مسائل کے باوجود الیکشن ہو سکتے ہیں تو مردم شماری کیوں نہیں ہو سکتی؟
آئین کے تقاضوں کے مطابق ہر دس سال بعد مردم شماری کا انعقاد لازم ہے لیکن گزشتہ مردم شماری کو بھی 18 سال گزر چکے ہیں۔ اس دورانیے میں ملک کی آبادی کہاں پہنچ چکی ہے، عوامی مسائل کس قدر گنجلک ہو گئے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے اپنے ترقیاتی منصوبے بنانے اور وفاقی محاصل کی تقسیم کے لیے اس کی آبادکاری کا درست تخمینہ انتہائی ضروری ہے۔ اندازہ ہے کہ پاکستان کی آبادی 18 سے 20 کروڑ ہے لیکن کیا محض اندازوں پر کوئی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے؟
حکومت کی جانب سے عدالت کو اگلے سال مارچ اپریل میں مردم شماری ممکن ہونے کا تحریری جواب داخل کرایا گیا ہے لیکن اس میں بھی ابہام ہے۔ واضح رہے سال رواں بھی ان ہی مہینوں میں مردم شماری کے انعقاد کا کہہ کر فوج کی عدم دستیابی کا بہانہ کر کے التوا کیا گیا تھا۔ مردم شماری میں شفافیت اور سیکیورٹی قائم رکھنے کے لیے فوج کی زیر نگرانی یہ عمل سر انجام دینے کی جو بات کی جا رہی ہے اس کے لیے 2 لاکھ 88 ہزار فوجی اہلکار درکار ہونگے۔
موجودہ صورتحال میں اتنی بڑی تعداد میں فوج کا میسر ہونا ممکن نہیں رہے گا، تو کیا یہ معاملہ یونہی ٹلتا رہے گا۔ سپریم کورٹ کی آبزرویشن کی روشنی میں اس ابہام کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ مردم شماری سے دانستہ پہلو تہی کے پیچھے ذاتی سیاسی مقاصد کارفرما ہیں۔
شنید ہے کہ مردم شماری کی صورت میں انتخابی فہرستیں ازسرنو تیار کرنا پڑیں گی۔ انتخابی حلقوں کے حدود اربع میں تبدیلیوں کے بعد جو جھگڑے فساد برپا ہوئے وہ بھی سب کے سامنے ہیں لیکن کیا سیاسی جماعتوں کے مفادات کی خاطر ملک کے مفاد کو داؤ پر لگایا جا سکتا ہے؟ صائب ہو گا کہ پاکستان کے مفاد میں جلد از جلد مردم شماری کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔