کوئٹہ میں پھر دہشتگردی

بلوچستان میں دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے جہاں سرکاری اداروں کو اپنا کام زیادہ متحرک طریقے سے کرنا ہو گا


Editorial November 20, 2016
۔ فوٹو : اے ایف پی

بھارتی قیادت کھلا اعلان کر چکی ہے کہ وہ بلوچستان میں بھی وہی کھیل کھیلے گی جس کے ذریعے اس نے سن اکہتر میں مشرقی پاکستان کو بزور طاقت بنگلہ دیش میں تبدیل کر دیا تھا اور تب ہمارے حکمران اقتدار کی جنگ میں الجھے ہوئے تھے۔

اب اگر ہمارا ازلی دشمن ہمیں علی الاعلان بلوچستان کے حوالے سے دھمکیاں دے رہا ہے تو کیا ہمارے ارباب بست و کشاد پر یہ لازم نہیں کہ وہ ہمہ وقت چوکسی کا اہتمام کریں نہ کہ دہشت گردی کی کسی واردات کے وقوع پذیر ہو جانے کے بعد روایتی بیانات جاری کرنے تک رہیں گے۔ کوئٹہ کو ایک بار پھر دہشتگردی کا نشانہ بنا دیا گیا، نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 ایف سی (فرنٹیر کور) اور ایک ٹریفک اہلکار شہید ہو گیا، دوسری طرف قلات اور دشت میں فورسز کی کارروائیوں کے دوران کالعدم تنظیم کے8 دہشتگردوں کو گرفتار کر کے بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد کر لیا گیا۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنیوالے اہلکار عظیم قومی مقصد کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، ان کی بے مثل قربانیوں کو ہمیشہ انتہائی احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا، دہشتگردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، سرکاری اہلکاروں کی شہادت کوئٹہ کے گنجان آباد علاقے فاطمہ جناح روڈ پر ہوئی جہاں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے 3 ایف سی اور ایک ٹریفک اہلکار کو شہید کر دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے آتے ہی فائرنگ کر دی جس سے علاقے میں افراتفری پھیل گئی۔

بلوچستان میں چند روز پہلے شاہ نورانی کے مزار کے احاطے میں خود کش حملہ کیا گیا تھا' اس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوئے تھے' بلوچستان میں سرکاری اہلکاروں کو اکثر نشانہ بنایا جاتا ہے' دہشتگردوں کی اس حکمت عملی کا مقصد فورسز اور سرکاری ملازمین کا مورال پست کرنا ہوتا ہے' بلوچستان کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہاں انفرااسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے اور پھر سارا صوبہ قبائلی نظام میں رہ رہا ہے' دہشتگردوں کے لیے یہ صورت حال بڑی ساز گار ہے' خیبرپختونخوا اور فاٹا میں بھی دہشتگردوں کو نظام کی سہولت ملی ہے جس کی وجہ سے وہ یہاںمضبوط ہوئے اور بالآخر ان کے خلاف فوج کو آپریشن کرنا پڑا جو اب تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے' صوبائی حکومتیں بھی اتنی متحرک نہیں ہوتیں جتنا کہ ضرورت ہے۔

بلوچستان میں دہشتگردوں کا نیٹ ورک توڑنے کے لیے جہاں سرکاری اداروں کو اپنا کام زیادہ متحرک طریقے سے کرنا ہو گا' وہاں بلوچستان میں سماجی و انتظامی ڈھانچے میں بھی جوہری تبدیلی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے' سماجی اور انتظامی تبدیلیوں کے لیے بلوچستان کے منتخب نمایندوں کو وفاق کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے تا کہ بلوچستان میں امن کی راہ ہموار ہو سکے۔