ہر میچ یو اے ای میں نہیں ہوگا

ایک اچھی گیند کام تمام کر دیتی ہے۔


Saleem Khaliq November 21, 2016
ایک اچھی گیند کام تمام کر دیتی ہے۔ فوٹو: فائل

RAJANPUR: شاید پھر بارش ہو گئی، میں نے اسکور چیک کیا جو زیادہ آگے بڑھتا ہوا محسوس نہیں ہو رہا تھااور پھر سو گیا، تھوڑی دیر بعد دوبارہ اٹھا تو بھی پاکستان کے مجموعے میں بہت زیادہ فرق نہیں لگا، البتہ اوورز ضرور بڑھ چکے تھے، اب نیند کے اثر سے نکل کر میں سمجھ گیا کہ ٹیم نے کچھوے کی چال اپنا لی ہے، یہ دفاعی انداز خطرناک لگا کیونکہ آپ جتنا بھی سست کھیلیں پانچ روز بیٹنگ نہیں کر سکتے، ایک اچھی گیند کام تمام کر دیتی ہے۔

البتہ مثبت سوچ اپنانے سے رنز بنتے رہتے اور حریف ٹیم بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے، تمام بڑی ٹیمیں ایسا ہی کرتی ہیں، چوکے چھکے نہ لگائیں کم ازکم سنگل، ڈبلز تو لیں،بدقسمتی سے کیویز سے پہلے ٹیسٹ میں ہماری ٹیم نے بہت غلطیاں کیں جس کا خمیازہ بدترین شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا، ان میں سے ایک سنگین غلطی دفاعی خول سے باہر نہ آنا تھی، یو اے ای میں ویسٹ انڈیز کیخلاف کامیابی کے بعد پلیئرز حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہو گئے، سابقہ ریکارڈز کے سبب نیوزی لینڈ کو تر نوالہ سمجھا جس کا نقصان اٹھانا پڑا،میزبان کو بخوبی علم تھا کہ تیز پچز پر ہمارے بیٹسمین جدوجہد کرنے لگتے ہیں اسی لیے باؤنسی ٹریک بنا دیا، سونے پہ سہاگہ بارش اور ٹاس ہارنے سے ہوا، سب کچھ گرین کیپس کے خلاف گیا۔

افسوس کی بات ہے کہ پہلے دن کھیل نہ ہونے کے باوجود ٹیسٹ چوتھے روز ختم ہو گیا، بیٹسمینوں نے غلط شاٹ سلیکشن سے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری،باہر جاتی گیندوں سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑی، مصباح الحق دونوں اننگز میں غیرذمہ دارانہ شاٹس کھیل کر آؤٹ ہوئے، یونس خان دوسری اننگز میں باؤنسر سے جس طرح اچھل کر بچنے کی کوشش میں پویلین لوٹے لگتا ہے اس غلطی کو سدھارنے کیلیے اظہر الدین کو دوبارہ انھیں کال کرنا پڑے گی، سمیع اسلم اور بابر اعظم باصلاحیت نوجوان ہیں، انھیں اس دورے میں اپنی تکنیک بہتر بنانے میں خاصی مدد ملے گی، غلطیاں سدھار کر وہ ہرقسم کی کنڈیشنز میں بیٹنگ کے قابل ہو سکیں گے، اظہر علی کو دفاعی انداز میں تھوڑی تبدیلی لانا ہوگی۔

بعض اوقات وہ سست بیٹنگ سے خود کو دباؤ کا شکار کر لیتے ہیں اور نقصان وکٹ گنوانے کی صورت میں اٹھانا پڑتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کیخلاف شارجہ ٹیسٹ میں پیئر کے بعد اسد شفیق مسلسل دوسرے میچ میں ناکام رہے،سرفراز احمد بھی صلاحیتوں کا اظہار نہ کر پائے، پیسرز محمد عامر، سہیل خان اور راحت علی نے خصوصاً دوسری اننگز میں بہتر بولنگ کی، البتہ پہلی باری میں بعض مواقع پر سوئنگ کے بجائے رفتار پر توجہ دیتے نظر آئے جس سے کامیابی کے حصول میں دشواری ہوئی، یاسر شاہ کے مطلب کی تو یہ پچ ہی نہیں تھی، اس لیے انھیں بہت کم گیند تھامنے کا موقع ملا، بدقسمتی سے سیریز کا پاکستان کیلیے اچھا آغاز نہیں ہوا، اب کپتان مصباح الحق بھی نجی وجوہات کی بنا پر واپس جا رہے ہیں۔

دوسرے ٹیسٹ میں مزید مشکلات ٹیم کی منتظر ہوں گی، ادھر آسٹریلیا بھی جنوبی افریقہ کا غصہ گرین کیپس پر نکالنے کیلیے تیار بیٹھا ہو گا، آگے مزید دشواریاں ہو سکتی ہیں، سلیکشن کمیٹی کا ہنی مون پیریڈ بھی اب ختم ہو چکا، پہلی بار چیف سلیکٹر انضمام الحق بھی پریشان دکھائی دیے، چیئرمین شہریارخان ایکشن کلیئر نہ کرنے کی صورت میں محمد حفیظ کا کیریئر ختم ہونے کا اشارہ دے چکے مگر چیف سلیکٹر نے شکست سے پہلے ہی انگلینڈ میں بطور بیٹسمین ناکام رہنے والے سینئر کرکٹر کو واپسی کی نوید سنا دی تھی،اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی ایک پیج پر موجود نہیں ہیں، خدانخواستہ آگے اگر نتائج مزید خراب آئے تو ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا۔

ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ہر میچ یو اے ای میں نہیں ہو سکتا، دیگر مقامات پر بھی کھیلنے کیلیے تیار رہنا ہوگا، انگلینڈ میں گوکہ سیریز برابر کی مگر دوسرے اور تیسرے ٹیسٹ میں شکستوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے، جہاں گیند سوئنگ ہو ہمارے بیٹسمینوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں،ویسٹ انڈیز سے شارجہ ٹیسٹ میں بھی مشکلات ہوئیں، دبئی کی اسپن پچ پر بشو نے 8 وکٹیں لے کر بیٹنگ لائن تباہ کر دی تھی، انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز سے ٹیسٹ میچز میں یاسر شاہ نے فتوحات میں اہم کردار نبھایا جہاں وہ کامیاب نہ رہے ٹیم بھی ہار گئی، مگر اسپن پچز کی نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں توقع نہیں رکھنی چاہیے، وہاں پیسرز کو زیادہ اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

پی سی بی جو کوچز کی فوج پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے اسے ان باتوں پرتوجہ دینا ہوگی،خود بورڈ حکام کیا کر رہے تھے؟ انھیں پتا تھا کہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں کیسی پچز ہوں گی تو اس لحاظ سے تیاری کیوں نہ کرائی؟ سیریز سے چند دن قبل کیویز کے دیس بھیج کر بس سمجھ لیا کہ فرض پورا ہو گیا،وارم اپ میچ بھی صرف ایک رکھا جو بارش کی نذر ہو گیا، اتنے دنوں میں کم ازکم دو ٹور میچز تو ہونے چاہیے تھے، پاکستانی ٹیم کو اگر نمبر ون بننا ہے تو دنیا کے ہر حصے میں اچھا پرفارم کرنا ہوگا صرف یو اے ای میں جیت کر یہ اعزاز نہیں مل سکتا، اسی طرح اکیڈمی میں بیٹھ کر لاکھوں روپے کمانے والے آفیشلز کا بھی فرض ہے کہ وہ نوجوانوں کو باؤنسی پچز پر کھیلنے کا طریقہ سکھائیں،جو زیادہ اچھے بیٹسمین نظر آئیں انھیں صلاحیتیں نکھارنے کیلیے آسٹریلیا وغیرہ بھی بھیجا جا سکتا ہے تاکہ وہ دنیا بھر میں کہیں بھی عمدہ کھیل سکیں۔

بورڈ کو ڈومیسٹک کرکٹ کیلیے بھی سپورٹنگ پچز بنانی ہوں گی،اسی سے نئے بیٹسمین ہر قسم کی کنڈیشنز میں اچھا کھیل سکیںگے،ابھی حکام سکون سے بیٹھے ہیں، پی ایس ایل کمپنی بنانے کے بعد میڈیا میں آنے سے گریز کیا جا رہا ہے،البتہ اب شکست کے بعد دباؤ بڑھنا شروع ہو گا تو انھیں بہت سے سوالات کے جواب دینا ہوں گے،تیز پچز پربیٹسمینوں کو اچھا کھیلنے کے قابل کیسے بنانا ہے اس پر غور حالیہ ٹورز سے قبل ہونا چاہیے تھا، بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا تو اب مستقبل کیلیے ہی کچھ سوچ لیں تاکہ آئندہ ٹیم کے میچز دیکھتے ہوئے ایسا محسوس نہ ہو کہ جھلکیاں دیکھ رہے ہیں۔