صدر فیڈریشن کی مدت میں 3 ماہ توسیع غیر آئینی ہے دارو خان

دسمبر میں انتخابات لازمی ہیں، نامزدگیاں بھی بھیجی گئیں مگر قابض ٹولے نے چھپا دیں، نائب صدر


Business Reporter December 20, 2012
ڈی جی ٹی او کی اجازت سے مدت بڑھائی، الیکشن مارچ میں، صدر پنجاب سے ہوگا، سینئر رکن

بلوچستان کے تاجروں نے ایف پی سی سی آئی کے صدر فضل قادر شیرانی کے عہدے کی مدت میں 3 ماہ کے اضافے کو غیرآئینی قرار دے دیا ہے۔

بلوچستان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کے صدر کی مدت میں توسیع کا فیصلہ ایگزیکٹو کمیٹی کو اعتماد میں لیے بغیر کیا گیا جس سے فیڈریشن پر مخصوص طبقے کی اجارہ داری ایک بار پھر ثابت ہوگئی ہے۔ بلوچستان سے منتخب نائب صدر انجینئر دارو خان کے مطابق صدر کی مدت میں اضافے کا اختیار آئین کی رو سے فیڈریشن کی رکن باڈیز کو حاصل ہے۔

ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل باڈی میں شامل اراکین کی آئینی مدت سمیت صدر کے عہدے کی مدت دسمبر کے آخر میں ختم ہورہی ہے اور آئینی طور پر دسمبر میں انتخابات لازمی ہیں جس کیلیے ملک بھر سے چیمبر آف کامرس اور ایسوسی ایشنز نے 2013 کی ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل باڈی کیلیے 2/2 نمائندوں کے نام بھی ایف پی سی سی آئی کو ارسال کردیے ہیں،نئے انتخابات اور نئی جنرل و ایگزیکٹو باڈیز ہی صدر کا چنائو کریں گی تاہم فیڈریشن پر قابض ٹولے نے انتخابات کا اعلان کرنے کے بجائے جنرل باڈی اور ایگزیکٹو کمیٹی کیلیے دی گئی نامزدگیاں چھپادیں جنہیں 3 ماہ کی غیرآئینی اضافی مدت کے خاتمے پر مارچ میں منظر عام پر لایا جائے گا۔

07

اصولی اور آئینی طور پر یکم جنوری 2013 سے منتخب ہونے والے جنرل باڈی اور مجلس عاملہ کے اراکین ہی صدر کی مدت کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ انجینئر داروخان نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی قیادت اور موجودہ صدر نے پورے سال بلوچستان کے تاجروں کے مسائل کے حل کیلیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، ایف پی سی سی آئی کی پاک ایران بزنس کونسل نے کوئٹہ کے تاجروں کے مشہد ایران میں پھنسے ہوئے کروڑوں روپے کے چاول کی بازیابی کیلیے کوئی قدم نہیں اٹھایا، اسی طرح ایف پی سی سی آئی کے کوئٹہ دفتر کے اخراجات کی مد میں ایک روپیہ بھی اد انہیں کیا جس سے بلوچستان کے تاجروں میں احساس محرومی شدت اختیار کرگیا ہے۔

موجودہ صدر نے پورا سال بلوچستان کے حق پر صدارت کرنے کے باوجود ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک بھی اجلاس نہیں بلایا اور ابھی تک منظور شدہ اکائونٹس کی کاپیاں بھی فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کے نئے الیکشن کیلیے موجودہ انتظامیہ نے ایگزیکٹو کمیٹی کے علم میں لائے بغیر الیکشن کمیشن بھی قائم کردیا ہے۔

ادھر ایف پی سی سی آئی کے ایک سینئر رکن نے ان الزامات رد کردیااور کہا کہ عدالتی چارہ جوئی کے سبب موجودہ صدر فضل قادر شیرانی نے 3 ماہ تاخیر سے عہدہ سنبھالا اس لیے عہدے کی ایک سال میعادپوری کرنے کیلیے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشن کی اجازت سے مدت مارچ تک بڑھائی گئی جس میں کوئی آئینی یاقانونی قباحت نہیں۔ ذرائع کے مطابق انتخابات مارچ میں ہونگے، صدارت کی باری پنجاب کی ہے جس کیلیے میاں محمد ادریس اور زبیر ملک کے نام زیرغورہیں تاہم میاں محمد ادریس کی پوزیشن مضبوط سمجھی جارہی ہے۔