روئی کے سودوں کی رجسٹریشن میں تاخیربرآمدات متاثر

بھارت کومعاہدوں کے تحت ترسیل نہ ہونے اورنئے سودوں میں بھی تعطل کا خدشہ


Business Reporter July 26, 2012
بھارت کومعاہدوں کے تحت ترسیل نہ ہونے اورنئے سودوں میں بھی تعطل کا خدشہ :اے ایف پی

روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن نہ کیے جانے کے باعث پاکستان سے روئی کی برآمدی سرگرمیاں متاثر ہونے کے ساتھ اندرون ملک میں بھی روئی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے۔ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے بتایا کہ رواں ماہ پھٹی کی آمد میں غیرمعمولی آمد کے باعث توقع کی جا رہی تھی کہ اس سے روئی کی درآمدات میں کمی کے ساتھ اسکی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا

لیکن نئی برآمدی پالیسی نہ آنے کا جواز بنا کر روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن شروع نہ ہونے سے روئی کی مقامی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت میں کپاس کی نئی فصل نہ آنے کے باعث بھارتی درآمد کنندگان کی جانب سے کچھ عرصہ سے پاکستان سے روئی کی درآمد میں کافی دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اطلاعات کے مطابق ایکسپورٹرز کی جانب سے بھارت سے اب تک تقریباً ایک ہزار ٹن کے برآمدی سودے کیے جا چکے ہیں

لیکن انکی رجسٹریشن نہ ہونے سے خدشہ ہے کہ بھارت کوروئی کی ترسیل نہ ہونے کے ساتھ نئے برآمدی سودوں میں بھی تعطل آسکتا ہے۔ احسان الحق نے بتایا کہ وزارت تجارت کی جانب سے بھارت کو روئی کی برآمدات پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی

لیکن اس کے باوجود 2009 میں آنے والی برآمدی پالیسی کو اب غیر موثر بتایا جا رہا ہے جبکہ اس برآمدی پالیسی میں کہیں بھی اس پالیسی کے تین سال تک موثررہنے کے بارے میں کوئی تحریر درج نہیں ہے۔ انہوں نے وزارت تجارت سے اپیل کی ہے کہ روئی کے برآمدی سودوں کی رجسٹریشن شروع کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔

مقبول خبریں