خطے میں نئی صف بندی تقاضائے وقت
بھارت میں مودی کے ہندوتوا فلسفہ اور افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان کے خلاف مخاصمت سوالیہ نشان ہے
عالمگیریت (گلوبلائزیشن)کے اثرات و مضمرات عالمی سیاست میں تبدیلیوں کے جن نئے پیراڈائم کی نشاندہی کرتے ہیں ان میں ہمارے خطے میں ان کی نو حرکیاتی پیش رفت چشم کشا ہے۔اس لیے سیاسی ، سفارتی اور اسٹرٹیجیکل صف بندیوں کی جو شکل سامنے آرہی ہے اسے سرد جنگ کے امریکی و روسی بلاک کی کشمکش اور آج کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔
مبصرین کے مطابق اس نئی صف صف بندی کی نظریاتی و عملی پیش قدمی پاک ، چین ، روس مذاکرات کی شکل میں سامنے آئی ہے جس کا مقصد مستقبل کے تشکیلی بلاک اور مربوط لائحہ عمل کے افق پر افغانستان کے مسئلہ کا ایک ایسا حل نکالاجائے جو ان تین ملکوں کے ''اجماع'' کا نتیجہ ہو۔ میڈیا کے مطابق خطے میں بھارت کے بغیر نئی صف بندی تازہ ترین مظہر ہے جب کہ آیندہ ماہ ماسکومیں ہونے والا پاکستان ،چین اور روس کا مشترکہ اجلاس خطے کو لاحق ممکنہ خطرات کے سبدباب کے لیے ایک ٹھوس حکمت عملی اور ناقابل شکست میکنزم کی داغ بیل ڈالے گا۔
ذرایع جو اس پیش رفت کو ظاہر کرنے کے مجاز نہیں تاہم بالواسطہ ان مخصوص علاقائی اور بین الاقوامی طاقتوں کے سیاسی و تزویراتی اتحاد اور ملی بھگت کو پیش نظر ضرور رکھتے ہیں جن سے پاکستان ، روس اور چین تینوں کو خطرات لاحق ہیں۔ واضح رہے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نیویارک میں افغانستان ، بھارت اور امریکا نے پہلے سہ فریقی اجلاس کی یاددہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پیشرفت (مجوزہ سہ ملکی ماسکو اجلاس) کو اس سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ روس پہلی مرتبہ ایک ایسے سہ فریقی مذاکرات کی میزبانی کرنیوالا ہے جن میں روس ، پاکستان اور چین شریک ہوں گے ، یہ مذاکرات رواں ماہ ہی ہوں گے جن کا مقصد یہ ہے کہ افغانستان کی پہیلی کو کسی طرح سے سلجھایا جا سکے۔
گزشتہ ماہ روس اور پاکستان نے تاریخ میں پہلی مرتبہ فوجی مشقیں کی تھیں۔ ماسکو نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد پاکستان سے مشترکہ فوجی مشقیں نہ کرنے کی بھارتی درخواست مسترد کر دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ تین ملکی مذاکرات میں اس امر پر بات کی جائے گی کہ افغانستان میں طویل عرصے سے جاری تنازع کو ختم کیسے کیا جائے کہ داعش جیسے گروہوں کو جنگ سے تباہ حال اس ملک میں پاؤں جمانے سے روکا جا سکے ، ادھر اندیشہ اس بات کا بھی ہے افغانستان کی صورتحال کو خطے میں متذکرہ سہ فریقی اتحاد اپنے بڑے مقاصد کے لیے استعمال کرے گا ۔
یہ مقصد کیا ہوگا ،اس سے کوئی بھی صاحب ہوش مبصر یا خطے کی سیمابیت سے آگاہ مورخ بھارتی ، امریکی اور افغان عزائم سے غافل یا لاعلم نہیں ہے ،کیونکہ امریکا میں ٹرمپ ایڈمنسٹریشن، بھارت میں مودی کے ہندوتوا فلسفہ اور افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان کے خلاف مخاصمت سوالیہ نشان ہے جس کا جواب نئی صف بندی ہے۔