جنرل راحیل شریف کے الوداعی دوروں کا آغاز

جنرل راحیل شریف نے 27نومبر 2013ء کو چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالا


Editorial November 22, 2016
: آئی ایس پی آر

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے پیر سے الوداعی ملاقاتوں کا آغاز کر دیا' آئی ایس پی آر کے مطابق انھوں نے اپنے الوداعی دوروں کا آغاز لاہور سے کیا جہاں انھوں نے لاہور گیریژن ون میں پاک فوج اور رینجرز کے افسروں اور جوانوں کے دربار سے خطاب کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف بعدازاں کوئٹہ' پشاور اور کراچی کا بھی دورہ کریں گے۔

ان کی مدت ملازمت28نومبر کو ختم ہو رہی ہے اور29نومبر کو نئے آرمی چیف اپنی کمان سنبھالیں گے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ایک عرصے سے مختلف خبریں گردش کرتی رہی ہیں لیکن ڈی جی آئی ایس پی آر کی اس خبر کے بعد ان کی ایکسٹینشن کے حوالے سے تمام افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے لاہور گیریژن میں اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ امن و امان کا قیام اور استحکام آسان کام نہیں تھا لیکن ہماری قربانیوں اور مشترکہ قومی عزم نے ملک کے خلاف تمام مشکلات پر قابو پانے میں مدد کی۔

جنرل راحیل شریف نے 27نومبر 2013ء کو چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ سنبھالا اب وہ 28 نومبر 2016ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں' اس طرح انھوں نے تین سال تک پاک فوج کی کمان انتہائی ذمے داری' جانفشانی اور قومی جذبے سے نبھائی۔ انھوں نے اپنے جرات مندانہ فیصلوں' موقع کی مناسبت سے بروقت کارروائیوں' متحرک کردار اور دیانتدارانہ فرائض نبھانے کی بنا پر مقبولیت اور شہرت پائی۔

اپنے ایماندارانہ اور بہادرانہ کردار کے باعث وہ عوام میں ایک ہیرو کی حیثیت اختیار کر گئے' ان کی ہر دلعزیزی کا یہ عالم تھا کہ عوام کے ایک طبقے کی جانب سے یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ وہ ریٹائرمنٹ لینے کے بجائے مدت ملازمت میں توسیع لیں۔ یہ حیران کن امر تھا کہ آج تک عوام میں کسی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی آواز نہیں اٹھائی گئی مگر جنرل راحیل شریف کے بارے میں تو باقاعدہ بینرز لگائے گئے کہ وہ مدت ملازمت میں توسیع لیں۔ شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب ان کے بڑے کارناموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے قبل مختلف سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے پوری شد و مد سے کہا گیا کہ عسکری قیادت کسی ایسے آپریشن سے گریز کرے کیونکہ شمالی وزیرستان جیسے مشکل اور دشوار گزار علاقے میں فوج کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا اور یہاں دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانے ہیں جنھیں ختم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جنرل راحیل شریف نے تمام مخالفانہ آوازوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ملکی سلامتی اور بقا کے مقصد کو اولیت دی اور بھرپور قوت سے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کر دیا۔ اپنی بہترین تربیت' مہارت اور جنگی حکمت عملی کے باعث فوج کو یہاں کامیابی ملی۔

آپریشن ضرب عضب کی کامیابی نے جنرل راحیل کو شہرت بخشی اور پوری دنیا میں پاک فوج کی بہادری اور جنگی مہارت کا ڈنکا بجنے لگا۔ جہاں تک ان کے سول حکومت سے تعلقات کا معاملہ ہے تو ان کے اس کردار کی ہمیشہ توصیف کی جائے گی کہ انھوں نے سیاسی حکومت کو کبھی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگرچہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ کہا جاتا رہا کہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان تناؤ اور اختلافات پیدا ہو چکے ہیں۔ حکومت مخالف سیاستدانوں نے تو باقاعدہ مہم چلا دی کہ سول اور عسکری قیادت کے درمیان اختلافات بڑھتے بڑھتے سیاسی حکومت کے خاتمے کا باعث بنیں گے۔

کئی بار ایسے مواقع سامنے آئے جب کثرت سے یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ سیاسی حکومت کا کسی بھی وقت خاتمہ ہو سکتا اور فوج اقتدار سنبھال سکتی ہے' خاص طور پر اسلام آباد میں عمران خان اور طاہر القادری کے دھرنے کے موقع پر ہر وقت یہی باتیں سننے میں آتی رہیں کہ بس حکومت ابھی گئی کہ ابھی گئی۔ سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے کا یہ بہترین موقع تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور فوج نے کسی ایڈونچر سے گریز کیا۔ پاک بھارت تعلقات کی نوعیت کے حوالے سے بھی یہ کہا جاتا رہا کہ سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر نہیں اور دونوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔

مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ باتیں اڑائی جاتی رہیں کہ سول ملٹری تعلقات میں شدید نوعیت کے رخنے پڑ چکے ہیں جس سے فائدہ اٹھا کر فوج کسی بھی وقت اقتدار سنبھال سکتی اور ملک کے بگڑتے ہوئے سیاسی حالات کے باعث عوام کا ایک بڑا طبقہ فوج کے اس اقدام کو خوش آمدید کہے گا۔ اس تناؤ کی کیفیت نے سیاسی حکومت کے لیے مشکلات تو پیدا کیں مگر جنرل راحیل شریف نے کسی ایسے ایڈونچر سے گریز کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ وہ ایک پیشہ ور سپاہی ہیں اور وہ بڑے وقار اور باعزت طریقے سے اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوں گے۔ جنرل راحیل شریف نے اپنے جرات مندانہ کردار کے باعث پوری دنیا میں پاک فوج کے وقار کو بلند کیا اور آج دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں ملنے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے بھارتی جارحیت کے خلاف بھی جرات مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے بھرپور جواب دیا۔ پاک فوج کو اپنے اس سپاہ سالار کی جرات اور شجاعت پر ہمیشہ فخر رہے گا۔