عالمی دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016

اس سے پہلے بین الاقوامی پاکستان آئیڈیاز 2014 کی دفاعی نمائش کا کامیاب اور شاندار تجربہ کر چکا ہے۔


Editorial November 22, 2016
آئیڈیاز 2016 بلاشبہ ایک بامقصد اور اہم نمائش ہے جس میں 43 ممالک کے90 وفود شرکت کر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

RAWALPINDI: پاکستان کی سب بڑی چار روزہ دفاعی نمائش ''آئیڈیاز 2016'' کا آغاز منگل سے کراچی ایکسپو سینٹر میں ہو گیا جو 22 نومبر سے25 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس سے پہلے بین الاقوامی پاکستان آئیڈیاز 2014 کی دفاعی نمائش کا کامیاب اور شاندار تجربہ کر چکا ہے۔

شہر قائد کے ایکسپو سینٹر میں نمائش کا افتتاح وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کیا جب کہ تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی، وفاقی وزیر دفاع، وفاقی وزیر دفاعی پیداوار سمیت دیگر وفاقی وزراء اور غیر ملکی مندوبین، سفیروں اور ممتاز شخصیات نے نمائش میں شرکت کی۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اسلحہ برائے امن کی پالیسی پر گامزن ہے اور منافع بخش سرمایہ کاری کے لیے پاکستان میں وسیع مواقع موجود ہیں، ملکی سالمیت، دفاع اور دہشتگردی کے حوالہ سے حکومتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے مہمانوں کو بتایا کہ رواں سال سے صنعتی شعبے میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہوئی، ملکی معاشی ترقی کا سلسلہ جاری ہے، عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی ہے۔ انھوں نے معاشی پیشرفت اور اقتصادی استحکام کے ضمن میں مالیاتی اداروں کے مثبت اشاریوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہمارا جی ڈی پی آیندہ سال 5 فی صد ہو گا، اسٹیٹ بینک نے 16ء میں پہلی بار کم شرح سود کا اعلان کیا ہے، توانائی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا کو دہشتگردی کے نئے عفریت کا سامنا ہے، ترقی یافتہ ممالک بھی انتہاپسندی، گروہی و سماجی تضادات اور خود کش حملوں کے خطرات سے لرزہ براندام ہیں، ادھر دنیا کے وسائل پر تسلط اور بالادستی کی ہولناک کشمکش کے باعث ہر ملک اپنی دفاعی ٹیکنالوجی میں ترقی پر توجہ دے رہا ہے، اس تناظر میں پاکستان نے جو غیر معمولی پیشرفت کی ہے اس کا اندازہ اس چار روزہ دفاعی نمائش میں مختلف ملکوں کی شرکت سے لگایا جا سکتا ہے جنہیں ہمارے ملکی دفاعی سازو سامان کی افادیت، ساخت اور پائیداری و جدت نے اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔

ہر ملک اپنی دفاعی صنعت کی ترقی اور اسلحہ سازی میں جدت کو تقاضائے وقت سمجھتا ہے مگر پاکستان کا نیادی نقطہ اسلحہ کی تجارت سے منسلک امن کی ناگزیریت ہے، کیونکہ اسلحہ نہ ہو تو کوئی ملک کسی بدنیت طالع آزما کی خطے میں بالادستی کی مذموم مہم جوئی سے محفوظ نہیں رہ سکتا اس کی مثال پاک بھارت تعلقات کی تاریخ ہے جس میں بھارتی جارحیت کا سلسلہ آج تک جاری ہے اور وہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بجائے لائن آف کنٹرول پر مسلسل کشیدگی، اشتعال انگیزی اور بلاجواز فائرنگ کر کے معصوم شہریوں کی ہلاکت کے جرم کا ارتکاب کر رہا ہے اور ستم یہ ہے کہ عالمی برادری اسے کشمیری عوام کے حق خود ارادایت کے احترام پر آمادہ کرنے سے گریزاں ہے۔

آئیڈیاز 2016 بلاشبہ ایک بامقصد اور اہم نمائش ہے جس میں 43 ممالک کے90 وفود شرکت کر رہے ہیں، مجموعی طور پر 261 غیرملکی اور 157پاکستانی فرمز شریک ہیں جب کہ 34 ممالک کی 418 فرمزنمائش میں اپنی مصنوعات پیش کی ہیں۔ نمائش میںالخالدٹینک، بیٹل ٹینک،جے ایف 17تھنڈر طیارے، سپرمشاق، کے 18 ائیرکرافٹ اور فاسٹ اٹیک کرافٹ میزائل بوٹس بھی رکھی گئی ہیں۔ اس بار ایکسپو سینٹر کے8 ہالز میں نمائش کی جا رہی ہے کیوں کہ گزشتہ نمائش کے مقابلے میں 9 ممالک زیادہ شرکت کر رہے ہیں، نمائش میں 14ایم او یوز پر دستخط کیے جائیں گے۔

نمائش میں سی پیک کی افادیت کو بھی اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے خصوصی اسٹال قائم کیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستا ن نے اس دفعہ دفاعی نمائش آئیڈیاز 2016 میں اپنی نئی مصنوعات متعارف کرائی ہیں ۔ پاکستانی نئی دفاعی مصنوعات میں ہیوی مشین گنز، سنائپر رائفلز، بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے (ڈرونز)، ملٹری بکتربند، بکترشکن فولادی گاڑیاں اور دیگر مصنوعات شامل ہیں۔ نمائش میں پاکستان کی جانب سے بنائی جانے والی پہلی فوجی گاڑی بھی شامل ہے۔

ایکسپو سینٹر کراچی میں 43 ممالک کے 90 وفود میں سے بیشتر پاکستان پہنچ گئے ہیں، نمائش میں مجموعی طور پر 418 دفاعی کمپنیاں شرکت کر رہی ہیں، اس سلسلے میں ایکسپو سینٹر کے اطراف اور وفود کی آمد و رفت کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ڈی جی ڈیفنس ایکسپو میجر جنرل آغامسعود اکرم نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ پاکستان دفاعی سامان بنانے میں بتدریج بہتری لا رہا ہے۔

انتظامیہ کے مطابق غیر ملکی سامان حرب سے اسٹال سجائے گئے ہیں جب کہ ڈائریکٹر کوآرڈینیشن ڈیفنس بریگیڈئیر وحید ممتاز نے کہا کہ ہتھیاروں کی نمائش بھارت کو واضح پیغام ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ دفاعی شعبے میں ماہرین جدید ترین دفاعی تحقیق و پیداوار کو نئے سیکیورٹی خطرات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہمہ جہت ملکی دفاعی ضروریات اور اس کی ایکسپورٹ کوالٹی کو بہتر سے بہتر کرنے کی جستجو جاری رکھیں گے۔ یہ قومی مشن ہے۔