کنٹرول لائن کی سنگین صورتحال

پاکستان بارہا اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں


Editorial November 26, 2016
کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ فوٹو: فائل

برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے جمعرات کو دفتر خارجہ میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کا حامی ہے' حالیہ واقعات اور لائن آف کنٹرول کی دونوں اطراف صورت حال پر تشویش ہے' برطانیہ دونوں اطراف پر زور دیتا ہے کہ تشدد کا خاتمہ کریں اور صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے فوری مذاکرات کا سلسلہ شروع کریں' برطانیہ اس کا کوئی حل دے سکتا ہے اور نہ ہی خود سے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کا ذاتی معاملہ ہے اور دونوں ہی کو اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے' برطانیہ اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرے گا۔ تقسیم ہند کے وقت کشمیر کا مسئلہ برطانیہ ہی نے ایک خاص منصوبے کے تحت پیدا کیا تھا اور اب اس نے اس مسئلے میں مداخلت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکا بھی بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ کشمیر دونوں ممالک کا باہمی مسئلہ ہے جسے وہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔

پاکستان بارہا اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں سے یہ مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالیں لیکن آج تک انھوں نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا بلکہ خاموشی اختیار کیے رکھی۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان انتہائی حساس نوعیت کا حامل ہے اس کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان جنگوں کے علاوہ مذاکرات کے دور بھی ہو چکے ہیں مگر آج تک اس کا کوئی حل نہیں نکلا اور یہ جوں کا توں موجود ہے۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کے باعث لائن آف کنٹرول پر اکثر و بیشتر فائرنگ کا سلسلہ چلتا رہتا لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے اس سلسلے میں شدت آ گئی ہے اور بھارت کی جانب سے تقریباً روز ہی فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا جاتا ہے۔

کچھ عرصہ پیشتر بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر میں سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ بھی کیا گیا جس کی پاکستان نے سختی سے تردید کی۔ اب ایک بار پھر آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھارت کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعویٰ کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے سرجیکل اسٹرائیک کی تو بھارت کی نسلیں یاد رکھیں گی اور بھارتی نصاب میں پاک فوج کے قصے پڑھائے جائیں گے۔

اس صورت حال کے تناظر میں یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر کسی طرف سے بھی سرجیکل اسٹرائیک کی گئی تو خطے میں جنگ چھڑنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں ممالک اس وقت جدید ترین میزائلوں کے نظام اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور آئے روز دونوں اطراف سے میزائلوں کے تجربات بھی کیے جاتے رہتے ہیں جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ یہ صورت حال اس خطے کے لیے نقصان دہ ہے خاص طور پر عالمی طاقتوں کی جانب سے اس سلسلے میں اختیار کی گئی خاموشی کسی خفیہ منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔

کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارت کی جانب سے اشتعال انگیزیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور پاکستان کے بار بار انتباہ کے باوجود وہ اپنے جارحانہ رویے سے باز نہیں آ رہا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر جو کر رہا ہے یہ اس کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں روا رکھے گئے مظالم سے نظریں ہٹانے کے لیے ہے' پاکستان اور بھارت کے مابین تصفیہ طلب تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے حوالے سے بھارت نے ہماری پیشکش کا حوصلہ افزا جواب نہیں دیا' برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد بھی پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی' مقبوضہ کشمیر میں موجودہ خراب صورت حال چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے' ڈیڑھ سو سے زائد افراد شہید' سولہ ہزار شدید زخمی اور ایک ہزار بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا جو سلسلہ جاری کر رکھا ہے اگر ایسا کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم قوت کے خلاف ہوتا تو اقوام متحدہ اور تمام عالمی طاقتیں فوراً حرکت میں آجاتیں اور اس ملک کے خلاف پابندیاں عائد کر دی جاتیں لیکن مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر اقوام متحدہ کی خاموشی اس کے دوہرے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ بھارت خطے میں جنگی جنون کو ہوا دینے کے بجائے تصفیہ طلب تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے یہی اس کا واحد راستہ ہے۔