ترکی کی یورپی یونین میں رکنیت پر مذاکرات منجمد

جنگ عظیم اول سے قبل ترکی کی خلافت عثمانیہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک وحدت کی علامت کی حیثیت رکھتی تھی


Editorial November 26, 2016
ترکی کے خلاف ووٹ دینے والے یورپی پارلیمنٹ کے قانون سازوں نے کہا ہے کہ ترکی نے اپنی تعمیر و ترقی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔ فوٹو: فائل

ترکی کی طرف سے بہت طویل عرصہ سے یورپی یونین میں شامل ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے ترکی نے اپنا اسلامی تشخص سیکولرزم کے لبادے میں مخفی کر لیا تاہم یورپ والوں کو اعتبار نہ آیا اور وہ بہانے بہانے سے ترکی کی یورپی یونین کے لیے رکنیت کی درخواست کو معطل اور موخر کرتے رہے جب کہ ترکی کی طرف سے کوششیں جاری رہیں تاآنکہ اب یورپی پارلیمنٹ نے ترکی کی رکنیت کے مذاکرات کو منجمد کرنے کے ووٹ کی منظوری دیدی ہے۔

واضح رہے جنگ عظیم اول سے قبل ترکی کی خلافت عثمانیہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک وحدت کی علامت کی حیثیت رکھتی تھی تاہم یورپی ممالک نے خلافت عثمانیہ کو تحلیل کر کے ترکی کو ایک سیکولر ریاست قرار دلوا دیا۔ ترکی کا محل وقوع ایسا ہے کہ اس کا آدھا حصہ براعظم ایشیا میں جب کہ آدھا حصہ یورپ میں ہے اس وجہ سے وہ یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کا متمنی ہے مگر دوسری طرف سے اس پر طرح طرح کی شرائط عاید کر کے اس کی درخواست کو زیر التوا رکھا جا رہا ہے۔ اب گزشتہ روز اسٹراسبرگ (فرانس) میں ہونے والے یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں ترکی کی رکنیت کی بات چیت کو آیندہ غیر معینہ عرصے تک کے لیے منجمد کرنے کی قرار داد منظور کر لی گئی۔

اس مرتبہ ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کا بہانہ تراشہ گیا ہے جب کہ صدر رجب طیب اردوان نے اس فیصلے کو بے وقعت قرار دیا ہے۔ ترکی کے خلاف ووٹ دینے والے یورپی پارلیمنٹ کے قانون سازوں نے کہا ہے کہ ترکی نے اپنی تعمیر و ترقی کے لیے جو اقدامات کیے ہیں وہ کافی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ ترکی کی رکنیت کی حامی ہے مگر کچھ عرصہ تک بوجوہ ان مذاکرات کو منجمد رکھا جائے گا۔ اس قرار داد کی حمایت میں 37 کے مقابلے میں 107 ووٹ آئے جب کہ پارلیمنٹ کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 479 ہے۔ اجلاس میں ترکی کے وزیراعظم بینالی یلدرم بھی موجود تھے جنہوں نے مخالفانہ ووٹ کو مایوسی کا اظہار قرار دیا۔