وزارت آثار قدیمہ کو بااختیار بنا کر فنڈز جاری کیے جائیں

سندھ کی تہذیب، ثقافت اور تاریخ کو تعلیمی نصاب میں شامل کیاجائے


Nama Nigar December 21, 2012
سندھ کی تہذیب، ثقافت اور اصل تاریخ کو پرائمری سے لیکر یونیو رسٹی سطح تک نصاب میں شامل کیاجائے. فوٹو: فائل

سندھ کے شعراء، ادباء، سیاسی و سماجی شخصیات نے حکومت سندھ مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی خودمختاری کے تحت آثار قدیمہ کی وزارت وفاق سے سندھ کو منتقل کرنے کے بعد ، وزارت کو مکمل بااختیار بنا کر فنڈز جاری کیے جائیں اور سندھ کے آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کیلیے ضلعی سطح پر آفس قائم کیے جائیں۔

سندھ کے ثقافتی ہنر مند خواتین مردوں کی معاشی خودکفالت کیلیے اقدامات کیے جائیں،تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ہینڈی کرافٹس کے سرکاری ادارے قائم کیے جائیں ، سندھ کی تہذیب، ثقافت اور اصل تاریخ کو پرائمری سے لیکر یونیو رسٹی سطح تک نصاب میں شامل کیاجائے،سندھ کے لوک ورثہ عوامی شاعروں کو فنڈز جاری کیے جائیں،یہ مطالبات نوابشاہ پریس کلبمیں ایک سماجی تنظیم کی جانب سے منعقدکیے گئے سیمینار ''سندھی ثقافت کو اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار '' میں پیش کیے گئے۔

6

سیمینار سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے ضلعی میونسپل ایڈمنسٹریشن نوابشاہ کے ایڈمنسٹریٹر نواز علی ڈومکی نے کہا کہ آج کی نسل نے اپنے آبائواجداد کی روایات و اقدار کو فراموش کردیا ہے ، جسکے باعث سندھ کی اوطاقیں اجڑ گئی ہیں، مہمان خصوصی انجمن تاجران سندھ کے صدر عبدالقیوم قریشی نے کہا کہ سندھ امن ، محبت و رواداری کی دھرتی ہے صدر آصف علی زرداری نے سندھی ٹوپی پہن کر بیرونی ممالک دورے کرکر سندھ کی ثقافت کو عالمی شناخت عطا کی ہے، سید عطامحمد شاہ لکیاری نے کہا کہ کسی بھی قوم کی تکمیل و شناخت کیلیے جق اجزائو کی ضرورت ہے، سندھ ان سے مالا مال ہے۔

مقبول خبریں