نئے صوبے بنانے کیلیے کوئی عملی پیشرفت نہیں ہو سکی بی بی سی

پارلیمانی کمیشن کا جنوبی پنجاب میں ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں۔


Net News December 21, 2012
پارلیمانی کمیشن کا جنوبی پنجاب میں ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں. فوٹو: فائل

کیا موجودہ حکومت نئے صوبے بنانے کیلیے مخلص ہے؟

مسلم لیگ ن نئے صوبوں کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟ کیا ملک میں کوئی نیا صوبہ بنے گا بھی یا نہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل پاکستان اور خاص طور پر جنوبی پنجاب کے عوام کے ذہنوں میں گردش کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق نئے صوبوں کی تشکیل پر بحث تو طویل عرصے سے جاری ہے اور بظاہر تمام اہم سیاسی جماعتیں اس پر متفق بھی نظر آتی ہیں تاہم اس کے باوجود نئے صوبے بنانے کے لیے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

سیاسیات کے پروفیسر اور تجزیہ کار رسول بخش رئیس کے مطابق جب تک تمام سیاسی جماعتوں میں چاروں صوبوں کو دوبارہ سے ترتیب دینے پر اتفاق رائے نہیں ہو گا اس وقت تک اس طرح کی تجاویز آگے نہیں بڑھ سکتیں اس سے کچھ لوگ سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش تو ضرور کرینگے تاہم اس طرح سے نئے صوبے بننا ممکن ہے۔ الگ صوبے کا مطالبہ صرف پنجاب میں ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں بھی کیا جا رہا ہے۔

04

بی بی سی کے مطابق پیپلز پارٹی یہ جانتی ہے کہ اس کے پاس نئے صوبے کی تشکیل دینے کیلیے عددی اکثریت موجود نہیں تو پھر وہ اس سارے قضیے سے کیا حاصل کرنا چاہتی ہے اس سوال پر رسول بخش رئیس نے کہا پارلیمانی کمیشن کی کارروائی سے جنوبی پنجاب میں یہ تاثر تو پیدا کیا جاسکتا ہے کہ نواز لیگ پنجاب کی تقیسم کی مخالف ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور دوسری جماعتیں نئے صوبوں کے حق میں ہیں اور اس سے آئندہ انتخابات میں پیپلزپارٹی کیلیے ووٹرز کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے اسکے علاوہ اسکا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔

مقبول خبریں