وزیراعظم ہاؤس کرپشن میں ملوث افسر بحال نہ کرنے پر چیئرمین این ایچ اے کی ڈی بریفنگ

عمران یوسف زئی پر کرپشن کے الزامات ہیں، بری ہونے تک بحال نہیں ہو سکتے، چیئرمین کا جواب


Numainda Express December 21, 2012
بطور وزیر کبھی عمران یوسف زئی کی بحالی کیلیے دبائو نہیں ڈالا، ارباب عالمگیر، ریکارڈ وفاقی وزیرکے کردار کا گواہ ہے، جاوید اقبال اعوان. فوٹو این این آئی

کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے افسرکو بحال نہ کرنے پر وزیر اعظم ہائوس میں گریڈ 22 کے افسر کی کئی گھنٹے ڈی بریفنگ کی گئی۔

این ایچ اے کے چیئرمین جاوید اقبال اعوان کی اس بنا پر وزیر اعظم ہائوس میں کئی گھنٹے ڈی بریفنگ کی گئی کہ انھوں نے مواصلات کے وفاقی وزیر ارباب عالمگیر کے حکم پر اپنے ادارے کے گریڈ20کے ایک افسر عمران خان یوسف زئی کو ان کے عہدے پر بحال کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایکسپریس انویسٹی گیشن سیل کو قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ این ایچ اے کے گریڈ بیس کے افسر اور بلوچستان کے ڈائریکٹر جنرل کو اربوں روپے کے ٹھیکوں میں بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات کے تحت چند ماہ قبل ان کے عہدے سے معطل کیا گیا تھا جس پر وفاقی وزیر کمیونی کیشن اور این ایچ اے کے چیئرمین کے درمیان محاذ آرائی شروع ہو گئی۔

یہ محاذآرائی ایسے وقت میں منظر عام پر آئی جب اعلی عدالتیں سرکاری افسروں کو حکومت کے غیر قانونی فیصلے نہ مانے کے احکامات جاری کر چکی ہیں۔ ارباب عالمگیر وفاقی کابینہ کے ایک طاقتور وزیر ہیں حکومت شاید اس لیے ان کے غیر قانونی احکامات پر بھی ایک اعلی سرکاری افسر سے عملدرآمد کرانا چاہتی ہے جس نے ساری زندگی قانونی اور ضابطے کے اندر رہ کر سرکاری نوکری کی ہے۔ وفاقی وزیر کمیونی کیشن کا این ایچ اے کے چیئرمین سے یہ مطالبہ کہ وہ ہرصورت عمران یوسف زئی کو فوری بحال کریں زمینی حقائق کا عکاس ہے۔

این ایچ اے کے چیئرمین نے وفاقی وزیر کے عمران خان یوسف زئی کو بحالی کے احکامات یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا کہ متعلقہ افسر کرپشن کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، جب تک وہ اپنے خلاف لگے الزامات سے بری نہ ہو جائیں ان کی بحالی نہیں ہو سکتی۔ چیئرمین کے بار بار انکار پر بھی وفاقی وزیر نے عمران خان یوسف زئی کو بحال کرانے کیلیے اپنی کوششوں کو ختم نہ کیا اور پھر وہ دن آ گیا جب وفاقی وزیر ارباب عالمگیر اور چیئرمین جاوید اقبال اعوان کے درمیان اسلام آباد میں چینی سفیرکی موجودگی میں تلخ کلامی ہوئی۔ چینی سفیر این ایچ اے اور ایک چینی فرم کے درمیان ایک ٹھیکے کیلیے دستخط کی تقریب میں شرکت کیلیے این ایچ اے ہائوس آئے تھے۔

11

وفاقی وزیر نے موقع کو آخری سمجھ کر معاہدے کیلیے دستخط کی تقریب میں شرکت عمران خان یوسف زئی کی بحالی سے مشروط کر دی۔ چیرمین این ایچ اے کے اس جواب پر کہ عمران خان یوسف زئی کی بحالی اور چینی کمپنی سے ٹھیکے کی تقریب سے کوئی تعلق ہے نہ اس طرح وہ کسی بلیک میلنگ میں آ سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر این ایچ اے ہائوس سے سیدھے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف سے ملاقات کیلیے وزیراعظم ہائوس پہنچ گئے۔ اس ملاقات کے بعد چیئرمین جاوید اقبال اعوان کو وزیر اعظم ہائوس طلب کیا گیا اور ان سے وضاحت طلب کی گئی کہ وہ وفاقی وزیر کمیونیکیشن کے احکامات کیوں نہیں مان رہے۔ اس کے جواب میں جاوید اقبال نے ایک بار پھر اپنا موقف دوٹوک الفاظ میں بیان کیا کہ وہ چیئرمین این ایچ اے کے طور پر کوئی غیر قانونی حکم نہیں مانیں گے۔

اس پر وزیر اعظم ہائوس کے ایک سینئر افسر نے جاوید اقبال اعوان کو کہا کہ ان کو وفاقی وزیر کمیونی کیشن سے لڑائی نہ صرف نوکری سے فارغ کرا سکتی ہے بلکہ ان کیلیے آنے والے دنوں میں مشکلات کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ وزیر اعظم ہائوس کے سینئر افسرکی سنگین نوعیت کی دھمکیاں بھی جاوید اقبال اعوان کو اپنا موقف تبدیل کرنے کیلیے کارگر نہ ہوئیں تو ان کو مجبور کیا گیا کہ وہ وزیر اعظم ہائوس چھوڑنے سے قبل ایک ماہ کیلیے جبری رخصت کی درخواست پر دستخط کریں۔ وزیر اعظم ہائوس میں جاوید اقبال اعوان کے ساتھ ہونے والے سلوک کو خفیہ رکھنے کیلیے اسی شام وزیراعظم کا ایک بیان جاری کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت اعلی عدالتوں کے تمام احکامات پر من وعن عمل کرے گی۔

اس بارے میں موقف جاننے کیلیے ارباب عالمگیر سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ وزیرکی حیثیت سے انھوں نے کبھی این ایچ اے کے چیئرمین کو عمران خان یوسف زئی کو بحال کرنے کیلیے دبائو نہیں ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ این ایچ اے کے چیئرمین ان کے این ایچ اے میں بعض افسروں کے تبادلوں کے احکامات نہیں مان رہے تھے جس پر ان کا اختلاف شروع ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں اس لیے وہ افسروں کے تبادلے کرانے کیلیے سفارش کر سکتے ہیں۔ جاوید اقبال اعوان نے اس بارے میں اپنے مختصر ردعمل میں کہا کہ این ایچ اے کا ریکارڈ وفاقی وزیر کے کردار کا گواہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایک ذمے دار افسر ہیں اس لیے وہ وفاقی وزیر سے اختلاف کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرینگے۔

مقبول خبریں