افغانستان میں اتحادی افواج کے کمانڈر کے انکشافات
افغانستان کے حکمران اور فوجی افسر امریکا، یورپ اور دیگر ممالک سے ملنے والی امداد خود ہڑپ کر رہے ہیں
افغانستان میں نیٹو فورسز کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکلسن نے امریکی محکمہ دفاع پنٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجوں کی ناکامیوں کا الزام پاکستان پر عاید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حقانی نیٹ ورک امریکا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جس کے لیے پاکستان محفوظ پناہ گاہ ہے لہذا وہ اگلے ہفتے خطے میں واپسی پر نئے پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کر کے اس موضوع پر بات چیت کریں گے۔
واضح رہے امریکا اور افغانستان کی طرف سے کافی عرصہ سے پاکستان پر اپنی ناکامیوں کا ملبہ تھوپا جا رہا ہے وہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں کو دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا نام دیتے ہوئے پاکستان سے اس سلسلہ میں کارروائی کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جو کہ آپریشن ضرب عضب کی شکل میں پاکستان نے تین سال سے شروع کر رکھا ہے اور اس کے کافی مثبت نتائج بھی برامد ہوئے ہیں جس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور کراچی کی رونقیں بھی بڑی حد تک لوٹ آئی ہیں۔
گویا شمالی علاقوں سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا قلع قمع کر دیا گیا ہے۔ لیکن جنرل جان نکلسن نے حقانی نیٹ ورک کو اب بھی افغانستان اور اتحادیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ حقانی نیٹ ورک نے پانچ امریکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے جسکی وجہ سے یہ نیٹ ورک امریکا کے لیے سخت تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ اپنی اس اہم پریس کانفرنس میں جنرل نکلسن نے اعتراف کیا کہ افغان فوج میں بدعنوانی کے ساتھ قیادت کا بحران ہے، میدان جنگ میں فوجیوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں ہو رہی ہے، بدعنوانی بھی موجود ہے جس کی وجہ سے بیرونی چوکیوں پر تعینات فوجیوں کے پاس نہ تو پانی و خوراک ہے اور نہ ہی لڑائی کے لیے درکار گولہ بارود ہے۔
جنرل نکلسن نے کہا انھوں نے افغان فوج اور افغان حکومت کے رہنماؤں کے ساتھ بات کی ہے اور ان کی توجہ ان مسائل کی طرف دلوائی ہے، موسم سرما کی مہم کے دوران بدعنوان (فوجی) رہنماؤں کی تبدیلی بھی ممکن ہے۔ جنرل نکلسن نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز کا اب بھی ملک کی دوتہائی آبادی پر کنٹرول ہے تاہم ستمبر سے یہ تعداد 68 فیصد سے کم ہو کر64 فیصد ہو گئی ہے لیکن اس کمی کا یہ مطلب نہیں کہ طالبان نے زیادہ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔
جنرل نکلسن کی باتوں پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ افغانستان کی انتظامی مشینری اور فوجی افسر امریکی اور نیٹو فورسز کے ساتھ پورا تعاون نہیں کر رہے اور انھیں حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے غلط اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ افغانستان میں کرپشن بہت زیادہ ہے۔ افغانستان کے حکمران اور فوجی افسر امریکا، یورپ اور دیگر ممالک سے ملنے والی امداد خود ہڑپ کر رہے ہیں۔ یہی وہ معاملات ہیں جن پر امریکا کے پالیسی سازوں کو توجہ دینی چاہیے۔