پاک بھارت کرکٹ سیریز…باہمی تعلقات کے نئے دور کا آغاز

ایک کھلاڑی کی جانب سے سپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ دوسرے ملک کے عوام پر بھی بہت اچھا مجموعی تاثر چھوڑتا ہے۔


Saleem Khaliq December 22, 2012
بھارت کے خلاف قومی کرکٹرزکو میدان کے اندر اور باہر کڑے امتحان سے گزرنا ہوگا۔ فوٹو : فائل

کرکٹ کہنے کو صرف ایک کھیل ہے مگر بات جب پاک بھارت مقابلوں کی ہو تو کروڑوں افراد کے جذبات اس سے منسلک ہوجاتے ہیں۔

لوگ ان مقابلوں میں اتنی دلچسپی لیتے ہیں کہ میچز کے دوران سڑکیں سنسان نظر آنے لگتی ہیں، کسی ایک کھلاڑی کی جانب سے سپورٹس مین سپرٹ کا مظاہرہ دوسرے ملک کے عوام پر بھی بہت اچھا مجموعی تاثر چھوڑتا ہے، باہمی مقابلوں سے عوامی سطح پر رابطے بہتر اور نفرتیں کم ہوتی ہیں، ویسے بھی اب پاکستان اور بھارت اتنے مسائل میں الجھ چکے کہ جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہے، دونوں ایٹمی قوتوں میں دوستی بہترین قدم ہے اور اب کھیلوں کے میدانوں میں ہی جنگ ہونی چاہیے۔ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت میں شدید کشیدگی ہوگئی،عام لوگ بھی ایک دوسرے سے بدظن نظر آئے ماضی میں ایسی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملتی تھی۔

جب سیاسی تعلقات خراب ہوں تو کرکٹ مقابلوں کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، یہی وجہ ہے کہ کئی برس تک باہمی سیریز کا سلسلہ تعطل کا شکار رہا، اب معاملات بہترہوئے تو پی سی بی نے بھی کام کر دکھایا اور چیئرمین ذکا اشرف 5 برس بعد بھارت سے سیریز کے انعقاد میں کامیاب ہو گئے، پاکستانی ٹیم پڑوسی ملک پہنچ چکی اور اب دو روز بعد پہلے ٹوئنٹی 20سے سیریز کا آغاز بھی ہو رہا ہے،ان مقابلوں سے بھارتی کرکٹ بورڈ کو اربوں روپے کا منافع ہو گا، یہ درست ہے کہ پاکستان کو مالی فائدہ نہیں ہو رہا مگر روشن مستقبل کے لیے ایک بنیاد رکھ دی گئی جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ میچز سے سب سے اچھی بات دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آنا ہے، ماضی میں حکمرانوں نے کرکٹ ڈپلومیسی کا کامیابی سے استعمال کیا، اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے، سیاستدان جانتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام اس کھیل میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں اسی لیے وہ اس سے سیاسی فوائد بھی حاصل کریں گے۔ ویسے بھی پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی سے محروم ہے، ایسے میں بھارت کیخلاف کھیلنے سے شائقین کی تشنگی کسی حد تک دور ہو سکے گی۔

سیریز کے لیے پہلے بلندو بانگ دعوے کیے گئے کہ3ہزار پاکستانی شائقین کو ویزے جاری کیے جائیں گے مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ بھارت سامنے تو دوستی کے راگ الاپ رہا مگر دل میں بدستور بدگمانی موجود ہے، گذشتہ سیریز کے بارے میں دعویٰ کیاگیا کہ کئی پاکستانی شائقین کرکٹ کے روپ میں بھارت گئے اور پھر واپس نہ آئے،اس لیے حالیہ سیریز کے لیے اچھی طرح دیکھ بھال کے بعد ویزے جاری کیے جائیں گے، ایسا کرنے میں کوئی قباحت بھی نہیں، ہر ملک اسی پالیسی پر عمل کرتا ہے، آغاز میں کہاگیا کہ پی سی بی کی درخواست پر ابتدائی چار میچز کے لیے 500،500 جبکہ آخری ون ڈے کے لیے ایک ہزار ٹکٹیں دی جائیں گی، بھارتی ہائی کمیشن نے ویزے کے لیے ٹکٹ کا ہونا لازمی قرار دے دیا، مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی میزبانی سے بچنے کے لیے بھارت نے خود ہی تاخیری حربے استعمال کیے، اسی وجہ سے پی سی بی نے ابتدائی دو میچز کی ٹکٹیں لینے سے انکار کیا اور بقیہ دو میچز کے لیے25،25 طلب کیں کیونکہ اگر زیادہ ٹکٹیں منگوائی جاتیں تو اتنے کم وقت میں ویزے کا اجرا ہی نہیں ہو سکتا تھا۔

ایک بات تو طے ہے کہ بھارتی حکام پاکستانی شائقین کو صرف دہلی تک محدود رکھنا چاہتے ہیں وہاں6 جنوری کو تیسرا ون ڈے شیڈول ہے، حیران کن بات یہ ہے کہ مقامی ایسوسی ایشن نے تاحال اس میچ کے ٹکٹ ہی نہیں چھپوائے، دیکھتے ہیں کہ اب کتنے خوش نصیب پڑوسی ملک جا کر اپنی ٹیم کی حوصلہ افزائی کر پاتے ہیں، ماضی کے برخلاف اس بار میڈیا کے ساتھ بھی بھارتی ہائی کمیشن کا رویہ اچھا نہیں رہا، وہ صحافی جن کے پاسپورٹس پر دنیا بھر کے ویزے موجود ہیں انھیں بھی پولیس رپورٹنگ ویزے کا اجرا کیا گیا، جس کے مطابق وہ جہاں جائیں پولیس سٹیشن پہنچ کر اپنی آمد کا اندراج کرانا ہو گا، ماضی میں میڈیا کے نمائندوں کو استثنی حاصل ہوتا تھا، اس میں پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کا بھی اہم کردار رہا، اس کا کام ہی صحافیوں کی مدد کرنا ہے مگر پہلے ہی اس معاملے سے دامن چھڑاتے ہوئے کہا کہ سب کو خود ہی اپنے ویزے کے لیے کوشش کرنا ہو گی۔ بھارت میں ویسے تو ہر پاکستان کو ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا مگر میڈیا پر خاص نظر ہوتی ہے، ماضی کے اپنے چاروں دورئہ بھارت میں مجھے اس کا بخوبی اندازہ ہوا جب کئی بار سی آئی ڈی اہلکار بھی ملاقات کے لیے آئے، ہر بار جب ہوٹل سے باہر گئے تو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی نگاہ رکھے ہوئے ہے، ایسے میں جو لوگ اس بار پولیس رپورٹنگ ویزے پر گئے ان کا خاصا وقت تو پولیس سٹیشنز کی قطاروں میں ہی گذر جائے گا، نگرانی کے عمل کی کوفت الگ ہوگی۔

پاکستانی ٹیم کے لیے یہ دورہ فیلڈ کے ساتھ آف بھی فیلڈ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، کئی ٹیلی ویژن چینلز سٹنگ آپریشنز کے لیے بجٹ پاس جبکہ بکیز کے بھی شکار کے لیے ہتھیار تیز ہو چکے ہوں گے، یہ بات ثابت ہو چکی کہ بالی ووڈ کی حسینائیں بھی سٹے بازوں کا آلہ کار ہوتی ہیں، ایسے میں ہمارے کرکٹرز کو خاصا محتاط رہنا ہو گا، آخر کوئی تو بات ہو گی جس کی وجہ سے سابق کرکٹرز بھارت کی رنگینیوں سے ٹیم کو محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں، یقیناً ان کی خواہش ہو گی کہ جو غلطیاں انھوں نے کیں وہ موجودہ پلیئرز نہیں دہرائیں، دنیا عامر خان اور شاہ رخ خان کی دیوانی ہے مگر ان دونوں سمیت بڑے بڑے بھارتی اداکار ہمارے کرکٹرز کے آگے پیچھے بھاگتے ہیں، یہ صرف ان کے کھیل ہی کی وجہ سے ہے اور انھیں بھی یہ بات یاد رکھنا ہوگی، بھارتی سرزمین پر حال ہی میں کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ، منشیات کے استعمال سمیت کئی تنازعات سامنے آئے۔

لہٰذا ہماری ٹیم کو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا چاہیے، ایک غلط حرکت نہ صرف انھیں بلکہ اہل خانہ اور تمام پاکستانیوں کے سر جھکا سکتی ہے، اگر یہ بات ذہن میں رکھی تو اچھے نتائج بھی سامنے آئیں گے اور ٹیم تنازعات سے بھی بچے گی۔ ماضی کے تجربات سے بچنے کے لیے ہی پی سی بی نے اس بار ٹیم کے لیے سخت گائیڈلائن جاری کی ہے، نجی محفلوں میں پلیئرز نہیں جا سکیں گے جبکہ شاپنگ کے لیے بھی سیریز کے اختتام پر جانے کی اجازت ہو گی، گوکہ سابق کپتان وسیم اکرم اتنی سختی سے متفق نہیں مگر انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ماضی اور اب کے دور میں زمین آسمان کا فرق ہے، اب اتنے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل آ گئے ہیں کہ اگر کسی نے بال ٹمپرنگ کی، فکسنگ میں ملوث ہوا، منشیات استعمال کرتے پکڑا گیا یا کسی اداکارہ سے دوستی کی تو میڈیا اس کی دھجیاں اڑا دے گا، ایسے میں احتیاط لازم ہے۔ منیجر نوید اکرم چیمہ کو اب ٹیم کے ساتھ منسلک ہوئے کافی عرصہ ہو چکا، وہ ''کھلائو سونے کا نوالہ اور رکھو شیر کی نظر'' کے مقولے پر عمل کرتے ہیں، ان کا انداز بڑے پیار محبت سے سمجھانے والا ہے مگر کوئی غلطی نہیں تو اسے معاف بھی نہیں کرتے، امید ہے کہ اس اہم ٹور میں بھی وہ توقعات پر پورا اتریں گے۔

قومی کرکٹ سلیکشن کمیٹی نے ون ڈے سیریز کے لیے شاہدآفریدی کو اسکواڈ میں شامل نہیں کیا، اگر ان کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ فیصلہ درست لگتا ہے لیکن بھارت کے اہم ٹور کو ذہن میں رکھیں تو یہ خیال آتا ہے کہ جہاں اتنے مواقع دیے وہیں مزید3 میچز کھلانے میں کیا حرج تھا، آفریدی طویل عرصے سے ملکی کرکٹ کی خدمت کر رہے ہیں، یہ درست ہے کہ ان کی کارکردگی میں تسلسل نہیں مگر وہ جب کامیاب رہے ٹیم بھی میچ جیت جاتی ہے، ایسے ٹاپ پرفارمرز کی پاکستان میں کمی ہے، وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا وہی آفریدی جو گذشتہ سال ٹیم کے کپتان تھے اور ورلڈ کپ سیمی فائنل تک پہنچایا،آج انہی کے بارے میں مصباح الحق کا یہ بیان سامنے آتا ہے کہ ''آفریدی نے ٹی ٹوئنٹی میں اچھا پرفارم کیا تو ون ڈے ٹیم میں شامل کرنے کا سوچیں گے'' شائد اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں، آفریدی کو بھی ٹیم سے اخراج کو مثبت انداز میں قبول کرتے ہوئے بہترین کارکردگی سے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ان میں اب بھی دم خم باقی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے گذشتہ دنوں لاہور میں دورئہ بھارت کی تیاریاں کیں،اس دوران ایک حیران کن واقعہ یہ پیش آیا کہ شعیب ملک دو دن کی چھٹی لے کر ڈانس شو میں شرکت کے لیے ممبئی چلے گئے، اس سے دنیا بھر میں پاکستان کا اچھا تاثر نہیں گیا ہو گا، بورڈ نے بھی اجازت دے کر اپنی کمزوری دکھائی، اگر ایسا کہیں اور ہوا ہوتا تو سخت ایکشن لیا جاتا ۔

بھارت کیخلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں پاکستان کی سابقہ کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی، اس بار بھی کپتان محمد حفیظ کے لیے یہ سخت چیلنج ہو گا کہ وہ بھارتی سرزمین پر اپنے پلیئرز کی عمدہ کارکردگی سامنے لائیں، حفیظ کے بارے میں ایک بار وسیم اکرم نے کہا تھا کہ وہ سوچتے بہت ہیں اور اسی کا بعض اوقات نقصان اٹھانا پڑتا ہے، دراصل اس میں بھی ہم جیسے میڈیا والوں کا کردار ہے، حفیظ کو اتنا پروفیسر کہا گیا کہ اب ایسا لگتا ہے کہ وہ خود کرکٹ چھوڑنے کے بعد کہیں پڑھانے کے لیے درخواست دے دیں گے، وہ ہر بات میں اپنی قابلیت جھاڑنے کی کوشش کرتے ہیں، کرکٹ کے میدان میں پرفارم کرنا پڑتا ہے ،ماضی کی ایک مثال بتاتا ہوں پاکستانی ٹیم کے ایک سابق کپتان نے ایک واقعہ سنایا کہ جب وہ جونیئر تھے تو ٹیم میٹنگ میں دیکھتے کہ کاغذ قلم لے کر چند سینئرز اور مینجمنٹ بیٹھ جاتی، پھر یہ کہا جاتا فلاں بیٹسمین کو یہ آئوٹ کر لے گا اس کو میں، وہ اتنے رنز بنالے گا اور یہ اتنے اور ٹیم میچ جیت جائے گی، مگر جب میدان میں جاتے تو سب الٹ ہو جاتا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمت عملی بنانا ضروری ہے مگر میدان میں صورتحال کے لحاظ سے تبدیلیاں اس سے زیادہ اہم ہوتی ہیں، ایک سابق کپتان جیب میں پرچی رکھتے تھے کہ انھیں فلاں بولرز سے اتنے اوورز اس وقت کرانے ہیں پھر چاہے جو ہو جائے وہ اپنی بات پر ڈٹے رہتے، اب ویسا وقت نہیں رہا، ٹیکنالوجی کے آنے سے ہر ٹیم مخالف کی خوبیوں اور خامیوں سے بخوبی واقف ہوتی ہے، ایسے میں جس نے اپنے ذہن کا صحیح استعمال کرتے ہوئے بروقت فیصلے کیے وہ فاتح قرار پائے گا۔

بظاہر ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے دونوں کے پاکستانی سکواڈز متوازن دکھائی دیتے ہیں مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ فیلڈ میں کھلاڑی کیسا پرفارم کرتے ہیں، چیف سلیکٹر اقبال قاسم کی یہ خوبی ہے کہ وہ تمام نمایاں پلیئرز کو منتخب کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے کسی کو تنقید کا موقع نہیں ملتا، گوکہ اس بار انھوں نے شاہدآفریدی کو ڈراپ کیا لیکن یقین مانیے آل رائونڈر کو منتخب کرنے پر انھیں بعض حلقوں کی جانب سے اتنی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا کہ وہ پریشان ہو جاتے۔ ایک بات جو سامنے آئی وہ یہ ہے کہ ہر جانب سے سعید اجمل کو ٹرمپ کارڈ قرار دیا جانے لگا، بے شک آف سپنر نے حالیہ عرصے میں بہترین کھیل پیش کر کے ٹیم کو کئی کامیابیاں دلائیں مگر اس طرح کی باتوں سے ان پر دبائو بڑھ جائے گا، سعید کو پُرسکون رہتے ہوئے کارکردگی پر توجہ دینے کا موقع فراہم کرنا چاہیے، پاکستانی پیس اٹیک اور بیٹنگ لائن بھی متوازن نظر آتی ہے، سب سے بڑھ کر بھارت کی کنڈیشنز اور پچز اپنے وطن جیسی ہی ہیں، ایسے میں کھلاڑیوں کے پاس عمدہ کارکردگی دکھانے کا بہترین موقع ہو گا۔

ان دنوں پی سی بی اپنی ٹوئنٹی 20سپرلیگ پر تیزی سے کام میں مصروف ہے، جاوید میانداد کو اس پروجیکٹ میں اہم ذمہ داری سونپی گئی لیکن بعض معاملات میں اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، گوکہ بورڈ اس سے انکاری مگر دال میں کچھ کالا ضرور ہے، میانداد کئی برس تک بطور کاغذی ڈائریکٹر جنرل تنخواہ وصول کرتے رہے، موجودہ چیئرمین ذکا اشرف نے جب انھیں فعال کیا تو اسی وقت کسی نے ان سے کہا تھا کہ ''سابق کپتان کی عادت ہے کہ انھیں انگلی تھمائو تو وہ ہاتھ پکڑ لیتے ہیں'' لگتا ہے اب ایسا ہی ہو گیا یا ہونے والا ہے، ایک بات طے ہے کہ اگر پاکستان کو لیگ کا انعقاد کرنا ہے تو پروفیشنلز کا تقررکرنا ہو گا۔

بنگلہ دیش نے اب ایک پھر ٹیم کو جنوری میں پاکستان بھیجنے کے سبز باغ دکھائے ہیں، اس کی وجہ پی سی بی کی جانب سے پریمیئر لیگ کے لیے کھلاڑیوں کو این او سی نہ دینا بنی، پہلے ایڈیشن میں معاوضوں کی عدم ادائیگی کا معاملہ اب تک ٹھنڈا نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ کئی سٹار غیرملکی کرکٹرز اب بنگلہ دیش جانے میں دلچسپی نہیں رکھتے، ایسے میں اگر پاکستانی پلیئرز بھی نہیں گئے تو لیگ تباہ ہو جائے گی، اسی وجہ سے بغیر این او سی کے بھی کھلاڑیوں کو نیلامی میں فروخت کیا گیا، یہ خاصی دلچسپ بات ہے کہ جس دن چیئرمین پی سی بی ذکا اشرف نے ایک انٹرویو میں یقین ظاہر کیا کہ بنگال ٹائیگرز آئندہ ماہ ٹور کریں گے، اسی روز سلہٹ میں ٹور کیخلاف ایک احتجاجی مظاہرے میں انسانی زنجیر بنا کر ٹیم کو نہ بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا، پہلے عدالتی فیصلے کی آڑ لے کر دورے سے جان چھڑائی گئی دیکھتے ہیں اس بار کیا ہوتا ہے، مگر ایک بات طے ہے کہ اب اگر ایسا ہوا تو پاکستان بھی سخت ایکشن لے گا، پلیئرز کو لیگ کے لیے نہ بھیجنے کا آپشن اب بھی اس کے پاس موجود ہے، مگر معاملے کی یہ نوبت نہ ہی آئے تو بہتر ہے۔

[email protected]