پراپرٹی ٹیکس بلڈرز اور ڈیولپرز نے منظور شدہ انکم ٹیکس ترمیمی بل پر اعتراض کردیا

خریدار اور سیلر سے ڈی سی اورایف بی آر قیمتوں کے فرق پر3فیصدٹیکس لگاناطے معاملات سے انحراف ہے


Ehtisham Mufti December 07, 2016
دوبارہ بیچنے پرسی جی ٹی 3تا 6یا فیئرویلیو کا 1فیصداورباقی ٹیکسزایڈجسٹ ایبل قراردینے پراتفاق ہوا تھا،آباد۔ فوٹو: فائل

جائیدادوں کی خریدوفروخت سے متعلق انکم ٹیکس آرڈیننس کے منظور شدہ ترمیمی بل پر ایسوسی ایشن آف بلڈرزاینڈ ڈیولپرز (آباد) نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے اسٹیک ہولڈرز اور ذیلی کمیٹی کے درمیان طے ہونے والے اقدامات اور ذیلی کمیٹی کی ارسال کردہ سفارشات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے یک طرفہ بنیادوں پر معمولی نوعیت کی ترمیم کرکے قومی اسمبلی سے ترمیمی بل منظورکرادیا ہے جو مستقبل میں مسائل اورپیچیدگیوں کا باعث بنے گا اور ممکن ہے کہ اس قانون کو عدالتوں میں چیلنج بھی کردیا جائے، پاکستان میں 1کروڑ20 لاکھ گھروں کی قلت کے تناظر میں ملکی ہاؤسنگ انڈسٹری کی مالیت 180 ارب ڈالر ہے جس پراگر حکومتی سطح پر خصوصی توجہ مرکوز اور ترغیبات کا اعلان کیا جائے تو یہ شعبہ ملکی معیشت کی ترقی میں سی پیک منصوبے سے کئی گنازیادہ کردار ادا کر سکتا ہے۔

آباد کے چیئرمین محسن شیخانی نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ آباد ودیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ہونے والے اجلاسوں میں طے پایا تھا کہ پراپرٹی کے خریدار وفروخت کنندہ سے 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس وصول کیا جائے گا، ایف بی آر اپنے ویلیوایشن ٹیبل کے مطابق پراپرٹی کی دوبارہ فروخت پرکیپٹل گین ٹیکس کی مد میں3 سے6 فیصدیا پھر فیئرمارکیٹ ویلیوکا1 فیصد چارج کرے گا، ذیلی کمیٹی کے ساتھ یہ طے ہوا تھا کہ وصول ہونے والے مذکورہ ٹیکس کی ادائیگیوں کے بعد تمام ٹیکسز ایڈجسٹمنٹ (موافقت) کے حامل ہوں گے، یہ بھی طے ہوا تھا کہ جن کی ویلتھ ری کنسائل نہیں ہوگی ان سے ایف بی آر3 فیصد ایڈیشنل ٹیکس چارج کرے گا لیکن قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے ساتھ طے ہونے والے ان تمام معاملات کے برعکس قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے ترمیمی بل میں صرف پراپرٹی کے خریداراور فروخت کنندہ سے ڈی سی ویلیواور ایف بی آر کے مقررہ ویلیوایشن کے درمیان فرق پر3 فیصد ٹیکس عائد کردیا گیا ہے جو تعجب خیز امر ہے۔

محسن شیخانی نے بتایا کہ وفاقی حکومت47 ارب ڈالر مالیت کے سی پیک منصوبے کے لیے ڈیوٹی فری، ٹیکس فری ودیگر ان گنت ترغیبات وتحفظات تو فراہم کررہی ہے لیکن اس سے 3 گنا زائد 180 ارب ڈالر مالیت کی ہاؤسنگ انڈسٹری کو نت نئی پالیسیوں میں جکڑکرسرمایہ کاری کے لیے غیرپرکشش بنارہی ہے، آباد سی پیک منصوبے کی مخالف نہیں کیونکہ سی پیک منصوبہ پاکستان کی اہم ضرورت ہے، آباد کی خواہش ہے کہ وفاقی حکومت سی پیک طرز کی سوچ تیزرفتارترقی کی استعداد رکھنے والے ملک کے دیگرشعبوں کے لیے اختیار کرے، وفاقی حکومت اگر مذکورہ کمیٹی کی سفارشات پر قانون میں من وعن ترامیم کرے تو مقامی بینکنگ انڈسٹری سے اس شعبے کے لیے قرضوں کا حصول بڑھ جائے گا۔

بینک فنانسنگ حاصل کرنے کے بعد پراپرٹی کے خریدوفروخت کنندہ ازخود کارپوریٹ سیکٹر میں داخل ہو جائیں گے، شفاف انداز میں نظام چلنے سے اس شعبے میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہو جائیں گے اور جوائنٹ وینچر کے وسیع مواقع پیدا ہوسکیں گے، اسی طرح حکومت کی جانب سے تعمیراتی شعبے کے لیے اراضیوں کی نیلامی سے حکومتی آمدنی بھی بڑھے گی، حکومت اگر نئے تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے 5 سال تک ذرائع آمدن کے بارے میں استفسار کی چھوٹ دے تو ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کا حجم بڑھ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں اگر حتمی فکسڈ ٹیکس نافذ ہوجائے تو کاروبار کے نئے وسیع مواقع پیدا ہوسکیں گے، غیرملکی کمپنیاں بھی اس سیکٹر میں شمولیت اختیار کریں گی اور نئی نسل کی ہاؤسنگ وریئل اسٹیٹ سیکٹر میں شمولیت بڑھ جائے گی۔

مقبول خبریں