ہوم بیسڈ خواتین ورکرز بدترین استحصال کا شکار قانون سازی کا مطالبہ

ان خواتین کو جائز مزدوری ملے اور ان کو سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ سمیت دیگر بنیادی سہولیات دی جائیں


Nama Nigar December 23, 2012
حیدرآباد کی چوڑی صنعت سے وابستہ خواتین نے اپنی تنظیم رجسٹرڈ کرادی ہے اور اسی طرح دیگر گھریلو مزدور خواتین کواپنے حقوق کیلیے اکھٹے ہونا چاھیے. فوٹو: فائل

ہوم بیسڈ ورکر اپنے حقوق سے محروم ہیں، حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کرنی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار ہوم بیسڈ ورکرز فیڈریشن پاکستان کی جنرل سیکریٹری زہرا خان نے مٹھی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ، زہرا خان نے کہا کہ گھریلو ملازم اور مزدور خواتین بد ترین استحصال کا شکار ہیں، پاکستان میں ایک کروڑ 20لاکھ سے زائد خواتین گھریلو مزدوری کرتی ہیں جنکو 12گھنٹے کام کرنے کے باوجود بھی قلیل اجرت دی جاتی ہیں، خواتین چوڑی، گارمنٹس، کھیلوں کی مصنوعات، قالین سازی، مٹی کے برتن اور دیگر شعبوں میں کام کررہی ہیں،مگر حکومت اس حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی اور انہیں اپنے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔

01

انھوں نے کہا کہ حیدرآباد کی چوڑی صنعت سے وابستہ خواتین نے اپنی تنظیم رجسٹرڈ کرادی ہے اور اسی طرح دیگر گھریلو مزدور خواتین کواپنے حقوق کیلیے اکھٹے ہونا چاھیے ، ہم ان کی بھر پور مدد کرینگے، ہم چاہتے ہیں کہ ان خواتین کو جائز مزدوری ملے اور ان کو سوشل سیکیورٹی، ہیلتھ سمیت دیگر بنیادی سہولیات دی جائیں اور حکومت سے اپیل کرتے ہیں اس حوالے سے قانون سازی کی جائے، اس موقع پر شہلا رضوان اور ساجد کوثر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جبکہ تھر پارکر کے صحافیوں ساجد مجید، ممتاز، کرش میگھواڑ،کھاٹائو، لیاقت ھڑیو نے گھریلو مزدور خواتین کی حالت زار کے حوالے سے بات چیت کی۔

مقبول خبریں