طیارے کا الم ناک سانحہ

معروف سماجی اور مذہبی شخصیت جنید جمشید نے پاپ میوزک کو خیرباد کہنے کے بعد دین اسلام کی تبلیغ کاسلسلہ شروع کیا


Editorial December 08, 2016

ISLAMABAD: چترال سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی بدنصیب پرواز ایبٹ آباد میں حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگئی۔ اس اندوہ ناک فضائی سانحہ میں ملک کے معروف نعت خواں جنید جمشید، ان کی اہلیہ، ڈپٹی کمشنر چترال، ان کی اہلیہ، بیٹی اور تین غیرملکیوں اور عملے کے 6 ارکان سمیت 48 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کا مسافر طیارہ اے ٹی آر 42 شام 3 بج کر 30 منٹ پر اپنی منزل اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا اور اسے 4 بج کر 40 منٹ پر اسلام آباد پہنچنا تھا، تاہم لینڈنگ سے 20 منٹ قبل حویلیاں کے قریب پہاڑی علاقہ بانڈی عطائی خان میں گر کر تباہ ہوگیا، اس میں آگ لگ گئی اور خوفناک دھماکے سے شعلوں میں لپٹا ملبہ دور جاگرا، جہاز کے پائلٹ صالح جنجوعہ، معاون پائلٹ احمد جنجوعہ، ٹرینی پائلٹ علی اکرم، گراؤنڈ انجینئر، فضائی میزبان صدف فاروق اور عاصمہ عادل سوار تھے۔

مسافر طیارے کے الم ناک سانحہ سے اب تک ہونے والے متعدد فضائی حادثوں کی دردانگیز یادیں تازہ ہوگیئں۔ اس سال پی آئی اے کا پہلا طیارہ حادثہ کا شکار ہوا، تین سال قبل ایئر بلیو اور شاہین ایئر لائنز کے طیارے اسلام آباد میں گر کر تباہ ہوگئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملکی تاریخ میں 16 فضائی حادثات میں جنرل ضیاالحق سمیت سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ پہلا ہولناک فضائی حادثہ 1965ء میں قاہرہ میں پیش آیا جس میں دیگر مسافروں کے علاوہ ملک کے ممتاز صحافیوں کی ایک ٹیم بھی لقمہ اجل بن گئی، 1989ء میں گلگت کے قریب برف پوش پہاڑی علاقہ میں پی آئی اے کا طیارہ 54 مسافروں سمیت لاپتا ہوگیا۔ اگر گنتی کی جائے تو فضائی حادثات کی الم ناک فہرست میں مسافروں کی دلگداز اموات خون کے آنسو رلاتی ہیں۔

ایبٹ آباد سانحہ کے حوالہ سے پی آئی اے کی انتظامیہ اور سول ایوی ایشن کے حکام کی جانب سے حادثہ کی تحقیقات کی ہدایت کی جا چکی ہے، بلیک باکس مل گیا ہے، اسے ڈی کوڈ کرکے ہی پائلٹ کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو کا ریکارڈ مل سکتا ہے، لیکن تادیبی اور انتظامی کارروائی کا ایک پہلو حالیہ کولمبین طیارہ کے حادثہ سے لگایا جاسکتا ہے جس میں برازیلی فٹ بال ٹیم سمیت 71 افراد ہلاک ہوئے مگر حکومت نے اس حادثہ کے نتیجہ میں کولمبیا کے ایئر لائن چیف کو تحویل میں لے لیا ہے، اس سے پوچھ گچھ ہوگی۔ پی آئی اے نے طیارہ حادثہ میں قیمتی انسانوں کی جانوں کے ضیاع پر لواحقین سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، تین دن کے سوگ کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے، یہ خبر بھی گردش میں ہے کہ پرواز کے وقت ہی طیارے کا ایک انجن بند تھا، اگر اس خبر میں کوئی سچائی ہے تو پھر یہ پریشان کن سوال یہ ہے کہ طیارے کو پرواز کی کلیئرنس کیسے دی گئی ؟ کیا یہ طرز عمل اور ذہنیت مروجہ ملکی عمومی سائیکی کی غماز نہیں کہ ہم ہر خطرہ سے بے نیاز اور کسی بھی قسم کے ممکنہ حادثہ کے مضمرات کو چشم تصور میں لائے بغیر وہ مجرمانہ غفلت برت جاتے ہیں جس پر پچھتاوے کے سوا کچھ اور نہیں ہوتا۔

اس طیارے کے حادثے کی وجوہات قوم کے سامنے آنی چاہیں۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حویلیاں کے قریب حادثہ کا شکار ہونے والے طیارہ کو فضا میں قلابازیاں کھاتے اور پھر پہاڑیوں میں گرتے ہوئے دیکھا، پائلٹ کی طرف سے اسے شہری آبادی پر گرنے سے بچانے کی کوشش بھی نظر آئی، طیارہ شہری آبادی پر گرتا تو بڑی تباہی آسکتی تھی، پائلٹ کی طرف سے ریڈار پر بتایا گیا کہ انجن فیل ہوجانے کی وجہ سے ہم ہنگامی لینڈنگ کرنے جارہے ہیں۔

ذرایع کے مطابق ریسکیو کاموں میں پاک فوج کے جوانوں سمیت علاقے کے مکینوں نے جان کی بازی لگادی اور ملبہ سے لاشوں کی تلاش میں ہاتھ بٹھایا۔ ایک اطلاع کے مطابق چترال سے اسلام آباد جانے والے جہاز ATR 72 کی پرواز نمبر 661 بدھ کو سہ پہر 3 بجکر 45 منٹ پر چترال سے اڑان بھرنے کے بعد لواری ٹاپ عبور کرتے ہی ہنگامی حالت کا اعلان ہوا تھا، جب کہ چترال ایئرپورٹ سے ذمے دار ذرایع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جہاز کے کپتان نے جس وقت ہنگامی حالت کا اعلان کیا تو جہاز لواری ٹاپ عبور کر رہا تھا۔ پی آئی اے کے طیارہ کے حادثہ کے بعد چترال، پشاور اور اسلام آباد کے لیے تمام پروازیں عارضی طور پر منسوخ کر دی گئیں ہیں جب کہ پشاور میں مقیم چترال کے باشندوں نے اپنے پیاروں کی معلومات کے لیے باچا خان ایئرپورٹ کا رخ کرلیا، ایئر پورٹ حکام نے بے نظیر انٹرنیشل اسلام آباد، باچا خان پشاور اور چترال ایئر پورٹ پرایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے طیارے کے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ پوری قوم حادثہ پر غمزدہ ہے، انھوں نے متعلقہ حکام کو متاثرین کی ہر ممکن مدد کی بھی ہدایت کی۔ گورنر و وزرائے اعلیٰ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے حویلیاں کے قریب پی آئی اے کے طیارہ کے حادثہ اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پردلی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حادثہ بہت افسوسناک ہے جس نے پوری قوم کو سوگوار کردیا ہے، صدر مملکت ممنون حسین اور سیاسی رہنماؤں نے طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے، انھوں نے جاں بحق ہونے والے افراد کی مغفرت، بلندی درجات اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ صدر ممنون حسین نے ریسکیو ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو حکام کو جائے حادثہ پر فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایت اور سرکاری مشینری کو جائے حادثہ پر پہنچنے کا حکم دیا ہے۔ ملک بھر کی سماجی، مذہبی اور فلاحی تنظیموں نے حادثہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور المناک حادثہ میں شہید ہونیوالے تمام افراد کے سوگوار لواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں صبر کی تلقین کی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

فضائی حادثہ میں معروف نعت خواں جنید جمشید اپنی اہلیہ سمیت اپنے مالک حقیقی سے جا ملے، وہ کراچی میں پیدا ہوئے، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور چلے گئے، وہ کچھ عرصہ پاکستان ایئر فورس میں بھی کام کرتے رہے، دوران تعلیم انھوں نے گلوکاری میں بڑا نام پیدا کیا، ان کا گیت ''دل دل پاکستان'' نے مقبولیت کے تمام ریکارڈز توڑ دیے، اس کے بعد انھوں نے باقاعدہ ''وائٹل سائنز'' کے نام سے اپنا بینڈ تیار کیا، 2003ء میں ان کی دینی و مذہبی قلب ماہیت ہوئی اور دم آخر ان کے لبوں پر ''محمدؐ کا روضہ قریب آرہا ہے'' کی نعت مبارکہ تھی، یہی ان کی پہلی اور آخری نعت تھی۔

جنید جمشید نے حادثہ سے دو گھنٹے قبل اپنی نماز کی تصویر فیس بک پر شیئر کی۔ وہ تبلیغی دورے کے سلسلہ میں چترال گئے تھے، جنید نے تین شادیاں کیں، تیسری بیگم موت کی وادی میں ان کی ہم سفر تھیں، چار بچے سوگوار چھوڑے، بیٹے کی کچھ عرصہ قبل شادی کی تھی، 13 بار حج کیا، مفتی نعیم اور مولانا حمداللہ جان کا کہنا تھا کہ جنید جمشید کو اللہ نے عروج بخشا اور شہادت کا رتبہ پایا۔ چیئرمین علمائے پاکستان کونسل طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ میں نے جنید جمشید کو چترال جانے سے روکنے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے کہا کہ اس کے ساتھی تیار ہیں، اس لیے وہ وہاں ضرور جائے گا۔ معروف سماجی اور مذہبی شخصیت جنید جمشید نے پاپ میوزک کو خیرباد کہنے کے بعد جہاں دین اسلام کی تبلیغ کاسلسلہ شروع کیا، وہیں انھوں نے ''جنید جمشید'' کے نام سے ملبوسات کا ایک برانڈ متعارف کروایا۔ چترال کے ڈپٹی کمشنر اسامہ وڑائچ نے بھی علاقے میں بے پناہ خدمات انجام دیں، اس دردناک حادثہ نے جن مسافروں کو ان کے پیارون سے چھین لیا وہ وطن کا قیمتی اثاثہ تھے، ان کی زندگیوں کے چراغ تو بجھ گئے لیکن ان کی یادوں کے چراغ صرف اسی صورت تاحیات جلتے رہیں گے اگر اس حادثہ کی تہہ تک حکام پہنچ جائیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ فضا میں بلند ہونے والا طیارہ مشینی پراسیس کا مرہون منت ہوتا ہے، تاہم اس کی پرواز سے پہلے مکمل چیکنگ، اس کے انجنوں، پروں اور بریک و فیول ٹینکس سمیت دیگر انجینئرنگ تفصیل و آلات اور مکینیکل لوازمات کے فالٹ فری ہونے کی یقینی ضمانت لازم تھی۔ اس لیے حویلیاں کے قریب گرنے والے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کا باب بند نہیں ہونا چاہیے، بلکہ کسی نتیجہ خیز تفتیش تک پہنچنا ناگزیر ہے۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام جاں بحق ہونے والے مسافروں کو اپنی جوار رحمت میں جگہ دے، انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا ہو، اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

حقیقت یہ ہے کہ ایبٹ آباد کے قریب پی آئی اے کے مسافر طیارے کو پیش آنیوالے حادثے کے بعد مسافروں کے رشتہ دار بے نظیر ایئرپورٹ پہنچ کر اور ٹیلی فون کے ذریعے معلومات حاصل کرتے ہوئے اشکبار نظر آئے۔ بینظیر ایئرپورٹ پر ہر طرف انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ بدقسمت طیارے کے ایک مسافر نعمان شفیق کو لینے آنے والے اس کے ماموں زاد بھائی قمر محمود نے بتایا کہ نعمان نے کامسیٹس سے انجینئرنگ کی تھی اور چترال میں الیکٹریکل انجینئرنگ کی نوکری کر رہا تھا۔ انھوںنے بتایا نعمان کی پانچ بہنیں اور دو بھائی ہیں۔ ان کے بھائی کویت سے گزشتہ روز پہنچے تھے۔ چترال سے روانگی سے پہلے اس نے فون کرکے بتایا تھا کہ گھر آرہا ہے۔ اسی طرح راولپنڈی کے رہائشی ریاض حسین قریشی بھی اپنے ہم زلف عابد قیصر کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے بینظیر ایئرپورٹ پہنچے تھے۔

انھوں نے بتایا عابد قیصر واپڈا سے چیف انجینئر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے اور ان دنوں چترال میں پرائیویٹ ملازمت کر رہے تھے۔ اسی طرح طیارے میں سوار چینی باشندے کی معلومات حاصل کرنے کے لیے چینی حکام بھی ایئرپورٹ پہنچے اور معلومات حاصل کیں۔ طیارے کے مسافروں میں دو آسٹریلین باشندے بھی تھے جو اسلام آباد کے ایک معروف ہوٹل میں رہائش پذیر تھے۔ ان دونوں کو لینے ہوٹل انتظامیہ کا نمایندہ موجود تھا تاہم طیارہ لینڈ کرنے سے پہلے حادثے کا شکار ہوگیا۔ وقت آ گیا ہے کہ اس حادثے کی تحقیقات وفاقی حکومت کی نگرانی میں جلد مکمل کرائی جائے اور حادثے کی وجوہات سے قوم کو آگاہ کیا جائے۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو معاوضہ کی فوری ادائیگی ہو، اور ذمے داروں کے خلاف کسی رو رعایت کے بغیر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔