کراچی کے تاریخی ورثے کیلیے بلدیہ میوزیم قائم کرےمکین خان

بلدیہ عظمیٰ کے محکمہ ریسرچ کے زیراہتمام سیمینار ’’کراچی کا ورثہ‘‘ سے مقررین کا خطاب۔


Staff Reporter December 23, 2012
ریسرچ ڈپارٹمنٹ کا قیام اہم ہے،عارف حسن، تاریخی ورثے کی سرپرستی ہورہی ہے،مہرین الٰہی. فوٹو: فائل

کراچی سے وابستہ قدیم وتاریخی دستاویزات اور عمارات کے تحفظ کیلیے بلدیہ عظمیٰ کراچی عملی اقدامات اٹھارہی ہے تاہم قدیم ورثے کی حفاظت کیلیے کراچی کی سطح پر میوزیم تعمیر ہونا چاہیے اور آرٹ وکلچر کی سرکاری سرپرستی ہونی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار مقررین نے بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ریسرچ کے زیراہتمام سیمینار ''کراچی کا ورثہ'' سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی محمد حسین سید کی ہدایت پر کے ایم سی بلڈنگ میں سیمینار منعقد کیا گیا،سابق ڈائریکٹر نیشنل میوزیم آف پاکستان اور کنسلٹنٹ جاپان کلچرل سینٹر مکین خان نے کہا کہ دنیا بھر میں آثار قدیمہ کی بہت اہمیت وافادیت ہے، ا مریکا سے لیکر جاپان تک آثار قدیمہ کو فوقیت دی جاتی ہے اور اس ضمن میں بڑی تحقیق ہورہی ہے،کراچی کے حوالے سے نادر دستاویزات وتاریخی ورثے کی حفاظت کیلیے کے ایم سی کراچی کی سطح پر میوزیم قائم کرے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد نے کہاکہ این ای ڈی یونیورسٹی اور بلدیہ عظمیٰ کراچی مشترکہ طور پر کراچی کی عمارتوں، گلیوں، محلوں باالخصوص تاریخی علاقوں کے تحفظ کیلیے عرصے سے کام کررہے ہیں، محکمہ ریسرچ کے تعاون سے ہم نے کے پی ٹی بلڈنگ، ٹاور، کے ایم سی بلڈنگ، ایمپریس مارکیٹ، فرئیرہال اور دیگر تاریخی عمارات کو دوبارہ اصلی شکل دینے کی بھرپور کاوشیں کیں اور یہ تحقیقی مہم بدستور جاری ہے،ممتاز آرکیٹیکٹ و اربن ریسورس سینٹرکے سربراہ عارف حسن نے کہاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے ایک ریسرچ ڈپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لاکر اہم پیشرفت کی ہے، یہاں طلبہ وطالبات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز ملکر کراچی کے قدیم وجدید تعمیرات پر تحقیق کے علاوہ سماجی مسائل اور ان کے حل پر بات چیت کرسکتے ہیں۔

09

کنسلٹنٹ کونسل محمد ذاکر نے کہا کہ محکمہ ریسرچ افسران وعملے کی انتھک محنت سے کے ایم سی بلڈنگ کے گنبدوں میں رکھے قدیم کاغذات سے کراچی کی دہائیوں پر مبنی تاریخ کا کھوج لگایا ہے جو قابل تعریف ہے، قدیم دستاویزات کی حفاظت کیلیے لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جبکہ لائبریری تشکیل دی جائیگی،مجموعہ آرٹ گیلری کی سربراہ اور آرٹسٹ مہرین الہی نے کہاکہ ایڈمنسٹریٹر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ڈائریکٹر محکمہ ریسرچ آرٹ وکلچر کو ترقی دے رہے ہیں، یہ خوش آئند بات ہے کہ کراچی کے ورثے کی سرکاری طور پر سرپرستی ہورہی ہے،لیجنڈ اداکارہ وپروڈیوسر زیبا بختیار نے کہاکہ کراچی میں سینما گھروں کو آگ لگائی گئی، ایسے ماحول میں فلم، ٹی وی اور اسٹیج کی سرکاری سرپرستی ہونی چاہیے، انھوں نے کہاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی اور سول سوسائٹی ملکر ورکنگ گروپ بنائیں تاکہ کراچی کی روشنیاں بحال ہوسکیں۔

انھوں نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت کی فلم انڈسٹری اور ٹی وی نے اداکاری، ادائیگی، زبان، تلفظ اور ثقافتی علوم ہمارے ڈراموں سے کاپی کیے ہیں، ٹیلنٹ میں پاکستان آج بھی ان سے آگے ہے،محکمہ ریسرچ کے ڈائریکٹر عدنان قریشی نے ایڈمنسٹریٹر کراچی کی جانب سے تمام مہمانوں کی آمد کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا کہ کراچی علم دوست شہر ہے، یہاں کی تہذیب وتمدن جداگانہ ہے، اس شہر میں بلاامتیاز رنگ ونسل قومیتیں دھائیوں سے مل جل کر رہ رہی ہیں اس لیے اسے منی پاکستان کہا جاتا ہے، سیمینار کی نظامت کے فرائض نصرت علی نے انجام دیے، تقریب میں ایڈمنسٹریٹر صدر ٹائون عاصم خان، ڈائریکٹرسم شاہد سکندر، ڈائریکٹر کونسل غفران احمد، ڈائریکٹر کچی آبادی مظہرخان، این ای ڈی یونیورسٹی کی پروفیسر فریدہ، پروفیسر فاریہ، پروفیسر سیدہ نقوی اور دیگر بھی موجود تھے۔

مقبول خبریں