ویلکم پرویز رشید

وزارت سے استعفیٰ کے بعد پرویز رشید صاحب نے ایک چپ کا روزہ بھی رکھ لیا تھا


مزمل سہروردی December 11, 2016
[email protected]

KARACHI: وزارت سے استعفیٰ کے بعد پرویز رشید صاحب نے ایک چپ کا روزہ بھی رکھ لیا تھا۔ میرے لیے ان کا وزارت سے استعفیٰ دینا کوئی بڑی بات نہیں تھی لیکن چپ کا روزہ ایک تشویشناک بات تھی۔ پرویز رشید ایک حقیقی درویش ہے۔ اپنی چالیس سال سے زائد سیاسی جدو جہد میں پرویز رشید پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں۔ وہ حکومتوں میں رہے بھی ہیں اور نکالے بھی گئے ہیں لیکن ان کے دشمن بھی ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں لگا سکے۔

چالیس سال سے زائد طویل سیاسی جدو جہد میں پرویز رشید نے کبھی کسی آمر کے بوٹ بھی نہیں پالش کیے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ہر آمر نے انھیں جمہوریت سے محبت کی پاداش میں قیدو بند کی صعوبتوں سے ہی نوازا ہے۔ انھوں نے کبھی کوئی کنگز پارٹی بھی جوائن نہیں کی بلکہ گھر بیٹھنے اور جلا وطنی کاٹنے کو ترجیح دی ہے۔

لوگوں کے نزدیک ان کا وزارت سے استعفیٰ کوئی بڑی بات تھی لیکن جو لوگ پرویز رشید کو جانتے ہیں انھیں علم ہے کہ وہ وزیر ہوتے ہوئے بھی اپنی گاڑی خود ہی چلاتے ہیں۔ کسی پروٹوکول کو پسند نہیں کرتے۔ اور ذاتی نمبر بھی خود ہی اٹینڈ کرتے تھے۔ کرائے کے گھر میں رہنے والے پرویز رشید اپنی پرانی گاڑی میں خوش و خرم نظرا ٓتے۔ایسے میں ان کو وزارت کی کیا چاہ ہو سکتی تھی۔ اس لیے میرے نزدیک ان کا وزارت سے استعفیٰ دینا ان کے ساتھ کوئی ظلم و زیادتی نہیں تھا۔ البتہ پرویز رشید ایک سیاسی کارکن ہے۔ اس کی رائے اس کی آواز پاکستان میں جمہوریت کی آواز ہے۔ ایسے میں اس کی زباں بندی یقینا ایک ظلم ہے۔

شکر ہے کہ پرویز رشید نے اپنی زباں بندی توڑ دی اور واپس فارم میں آگئے۔ میں حیران اس لیے بھی تھا کہ جب آمریت کی سختیاں ان کی آواز کو دبا اور کمزور نہیں کر سکیں تو وہ اب کیوں خاموش ہو گئے ہیں۔ جب جیل کی سختیاں اور جسمانی تشدد کی انتہا انھیں آمریت کے خلاف بولنے سے نہیںر و ک سکی تو آج کیا ہو گیا ہے۔

شاید بہت کم لوگ جانتے ہوںگے کہ مشرف کے مارشل لا ء کے بعد پرویز رشید ان چند لوگوں میں تھے جنھیں بے پناہ جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔مارشل لا کے اس تشدد کے نشان اب بھی ان کے جسم پر موجود ہیں لیکن وہ یہ نشان کسی میڈل کے طور پر استعمال نہیں کرتے اس لیے انھیں چھپا کر رکھتے ہیں۔ سخت سردیوں میں جب ان کے جسم پر ہر جگہ تشدد کے نشان تھے تو انھیں جیل کے ننگے فرش پر سونے پر مجبور کیا جا تا تھا۔ میں اس دور میںا ن سے جیل میں ملتا رہا ہوں ۔

تا ہم چوہدری پرویز الٰہی خود بتاتے ہیں کہ جب مشرف کے مارشل لا کے ابتدائی دن گزر گئے اور ان کی مشرف حکومت سے سیٹلمنٹ ہو گئی تو وہ اور چوہدری شجاعت حسین لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں پرویز رشید سے ملنے گئے تو وہ نہایت بری حالت میں تھے۔

ایسا تشدد انھوں نے کسی پر نہیں دیکھا تھا جو پرویز رشید پر کیا گیا تھا۔ چوہدری پرویز الہیٰ بتاتے ہیں کہ انھوں نے پرویز رشید کی جب ان کے اہل خانہ سے فون پر بات کروائی تو وہ کئی ماہ بعد پرویز رشید کا اپنے اہل خانہ سے پہلا رابطہ تھا۔ تا ہم اس کے باجود پرویز رشید نے کنگز پارٹی جوائن نہیں کی اور جیل کو ہی ترجیح دی۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کے دشمن ان کوراء کا ایجنٹ بھی لکھتے رہے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ وہ ایک محب وطن پاکستانی تھا ہے اور رہے گا ۔ جس نے پاکستان میں اسٹبلشنٹ کے اثر و رسوخ سے پاک جمہوریت کا خواب دیکھا ہے۔ اور اسی کے لیے جدو جہد کر رہا ہے۔

لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا پرویز رشید دوبارہ وزیر بنے گا۔ میں ہنستا ہوں۔ وہ وزیر بن کر بھی وزیر نہیں تھا ۔ اور آج وزیر نہ ہو کر بھی وزیر ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ پرویز رشید کی دوبارہ انٹری کیا اشارہ دے رہی ہے۔ کیا وہ واپس آرہے ہیں۔ کیا ان کے معاملات طے ہو گئے ہیں۔

کیا سول و ملٹری تعلقات ایک پیج پر آگئے ہیں۔ ایک دانشور نے اپنے کالم میں یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ وہ جنرل (ر) راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے برملا خلاف تھے اور اپنی اس رائے کا کھل کا اظہار کرتے تھے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ پرویز رشید کی رائے ان کے نظریات اور ان کا انداز سیاست کوئی نیا نہیں۔ وہ چالیس سال سے یہی بات کر رہے ہیں۔ انھوں نے کل بھی اپنے نظریات کی بھاری قیمت چکائی تھی اور آج بھی چکا رہے ہیں۔ شاید انھیں اپنے خواب کی تکمیل کے لیے یہ قیمت مسلسل چکانی ہے۔

لوگ پرویز رشید کے مستقبل کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ بہت سی قیاس آرئیاں ہیں۔ تھیوریاں ہیں۔ لیکن شاید جو لوگ ان کے اور میاں نواز شریف کے رشتہ کو نہیں جاتنے وہی ان کے مستقبل کے حوالہ سے پریشان ہیں۔ کہانی سنانے والے کہانی سناتے ہیں کہ میاں صاحب نے پرویز صاحب کو استعفیٰ کے لیے کہا لیکن شاید جو لوگ دونوں کا رشتہ جانتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ پرویز رشید نے کہنے سے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا ہو گا۔

پرویز رشید وہ سیاستدان ہے جو استعفیٰ جیب میں لے کر گھومتا تھا۔ میاں نواز شریف کو بھی علم تھا کہ وزارت پرویز رشید کی مجبوری نہیں ہے۔ وہ ایک سیاسی کارکن ہے اور سیاسی کام کرنے میں اسے زیادہ مزہ آتا ہے۔ وہ مسلم لیگ (ن) کا ایک تھنک ٹینک ہے۔ جو سیاسی حکمت عملی اور سیاسی میدان میں اپنے مخالفین کو ٹف تائم دینے پر یقین رکھتا ہے۔

ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل رہا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ بدلتے منظر نامہ کو ہمارے چند دوست ہضم نہیں کر رہے۔ جمہوریت کے آسمان پر خطرات کے بادل چھٹ رہے ہیں۔ اور ایک دفعہ پھر آسمان صاف نظر آرہا ہے۔ الیکشن کا سال آرہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) بھی الیکشن کی تیاریاں شروع کر رہی ہے۔ میدان سجنے لگا ہے۔ امیدوار حلقوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ 1997 کے انتخابات کے وقت پرویز رشید مسلم لیگ (ن) لاہور کے جنرل سیکریٹری تھے۔ انھوں نے لاہور کے حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالہ سے میاں نواز شریف کو ایک رپورٹ دی ۔

حیرانگی کی بات تھی کہ اس رپورٹ میں انھوں نے اپنے لیے کسی بھی ٹکٹ کی کوئی سفارش نہیں کی تھی۔ میاں نواز شریف نے پرویز رشید کو بلا یا اور کہا کہ پرویز صاحب آپ نے خود کہیں سے الیکشن نہیں لڑنا۔ تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے میاں صاحب اگر سب الیکشن لڑنے لگ گئے تو پارٹی کاکام کون کرے گا۔ میں پارٹی کا کام کرونگا اور سب کو الیکشن لڑاؤںگا۔ میں نے ان سے تب پوچھا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں تو کہنے لگا کہ میرے پاس تو الیکشن لڑنے کے پیسے بھی نہیں ہیں اور میں نے ا لیکشن لڑ کر کیا کرنا ہے۔ اور انھوں نے الیکشن نہیں لڑا۔ یہ الگ بات ہے کہ میاں نواز شریف نے بعد میں انھیں سنیٹر بنایا۔

مجھے اس بات میں دلچسپی نہیں کہ پرویز رشید دوبارہ وزیر بنیں گے کہ نہیں۔ کیونکہ ان کے وزیر ہونے کا جب ان کی اپنی ذات کو کوئی فائدہ نہیں تو دوستوں کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔لیکن گزارش یہی ہے کہ وہ اپنی سیاسی جدو جہد جاری رکھیں ۔ وہ بولتے رہیں۔ بات کرتے رہیں۔ کیونکہ وہ سیاست کے میدان کا ایک خوبصورت رنگ ہیں۔

مقبول خبریں