پاکستان کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کا افتتاح پٹرولیم کی درآمد اور قیمت میں کمی ہوگی ڈاکٹر عاصم

ملک میں ریفائننگ کی گنجائش 12.25ملین ٹن سے بڑھ کر 18ملین ٹن سالانہ تک پہنچ جائے گی


Business Reporter December 24, 2012
مشیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل نے کہا کہ پاکستان پانچ لاکھ ٹن یومیہ کی صلاحیت رکھنے والی کوسٹل کمپنی سے بھی جلد ریفائننگ شروع کر دے گا. فوٹو: فائل

KARACHI: وفاقی مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین نے پاکستان کی سب سے بڑی ریفائنری کا افتتاح کردیا ہے جو آئندہ ماہ سے کام شروع کردیگی جس کے بعد ملک میں ریفائننگ کی گنجائش 12.25ملین ٹن سے بڑھ کر 18ملین ٹن سالانہ تک پہنچ جائیگی۔

افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت پیٹرولیم مصنوعات کی 4 لاکھ 50 ہزار بیرل کی ضرورت ہے جو کہ آئندہ پانچ سالوں میں یہ ضرورت بڑھ کر دو کروڑ ٹن تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بائیو آئل ریفائننگ پاکستان کی پیداواری صلاحیت ایک لاکھ 20 ہزار بیرل روزانہ کی ہے کہ جو کہ پاکستان سب سے بڑی پیداواری صلاحیت ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ بائیو آئل ریفائننگ پاکستان کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے پر ساڑھے سات سال تک ٹیکس کی چھوٹ دی گئی اور پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی تیل کی مصنوعات کی خریداری بائیکو آئل پاکستان سے کریں۔

مشیر پیٹرولیم و قدرتی وسائل نے کہا کہ پاکستان پانچ لاکھ ٹن یومیہ کی صلاحیت رکھنے والی کوسٹل کمپنی سے بھی جلد ریفائننگ شروع کر دے گا جس کے بعد پیٹرولیم کی کمی مزید کم ہو جائے گی۔ ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ بائیکو آئل پاکستان کی پیداوار سے پیٹرول سستا ہوگا اور گردشی قرضوں میں بھی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بائیکو آئل پاکستان میں ریفائننگ لمیٹڈ یورو 3 معیار کی پیداوار ہوگی جو کہ نئی گاڑیوں کیلیے کارآمد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود دیگر ریفائننگ کمپنیوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یورو 3 اور 4 میں جدت لاتے ہوئے پیداواری صلاحیت حاصل کریں۔

مشیر پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تیل کی تلاش کرنے والی 60 رگز مشینیں کام کر رہی ہیں اگر یہ تعداد بڑھ کر 100 ہو جائے تو ملک میں بھی وافر مقدار میں تیل نکل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بھی ایک بڑی ریفائننگ قائم کی جائے گی تاکہ اس صوبے میں بھی موجود تیل کو نکال کر صاف کیا جائے گا جس سے خیبر پختونخوا کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکے گا۔ اس موقع پر بائیکو لمیٹڈ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو عامر عباس نے بتایا کہ کمپنی نے 600 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس میں نجی سرمایہ کار بھی شامل ہیں تاہم اس وقت تک کمپنی کے شیئرز اسٹاک مارکیٹ میں لے جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

01

وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں تیل و گیس کی تلاش پر توجہ دی جاتی تو اس وقت ملک کو توانائی کے بحران کا سامنا نہ ہوتا، ماضی میں نئی ریفائنریز کے قیام پر بھی توجہ نہ دی گئی اور گردشی قرضوں کے سبب ملک میں موجود ریفائنریز بھی 50فیصد کم پیداواری استعداد پر چل رہی ہیں جس سے خام تیل کا درآمدی بل بڑھ رہا ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران سرکلر ڈیٹ(گردشی قرضوں ) میں بتدریج کمی ہوئی ہے اور جلد ہی اس پر قابو پالیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت 40رگز سے تیل و گیس کی تلاش کا کام جاری ہے جبکہ ملک کو 100 رگز کی ضرورت ہے 100رگز کے ساتھ تیل وگیس تلاش کیا جائے تو تین سال کے دوران ملک کی توانائی کی طلب کو کافی حد تک مقامی وسائل سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائیکو ریفائنری کی تعمیر سے ملک میں توانائی کی طلب سے نمٹنے میں نمایاں مدد ملیگی ریفائنری آئندہ ماہ سے پیداوار شروع کردیگی بائیکو ریفائنری کی یومیہ پیداواری گنجائش ایک لاکھ بیس ہزار بیرل ہے نئی ریفائنری کے قیام کے بعد بائیکو کی مجموعی پیداواری گنجائش 35ہزار بیرل سے بڑھ کر ایک لاکھ 55ہزار بیرل ہوجائیگی ریفائنری یومیہ 350ٹن ایل پی جی بھی فراہم کرے گی بائیکو ریفائنری کے لیے خام تیل لے کر آنے والے جہاز بھی سنگل پوائنٹ مورنگ کے ذریعے خام تیل ریفائنری تک پہنچائیں گے جس سے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر دبائو کم ہوگا ۔ قبل ازیں بائیکو کے سی ای او قیصرجمال نے بریفنگ میں کہا کہ نئی ریفائنری ایک لاکھ بیس ہزار بیرل سے ایک لاکھ اسی ہزار بیرل تک پیداواری گنجائش پر کام کرسکے گی۔

اس ریفائنری کے فعال ہونے کے بعد ملک میں پٹرولیم ریفائننگ کی مجموعی گنجائش 12.25ملین ٹن سے بڑھ کر 18ملین ٹن سالانہ تک پہنچ جائیگی انہوں نے کہا کہ خام تیل لے کر آنے والا جہاز رواں ہفتے لنگر انداز ہوگا اور دو ہفتے کے دوران ریفائنری میں پیداواری عمل شروع کردیا جائے گا۔ہفتہ سے خام تیل سے پیداوار شروع کر دے گا، 26 دسمبر کو پہلا بحری جہاز خام مال لے کر آئے گا، پاکستان میں چار لاکھ 50 ہزار بیرل تیل کی ضرورت ہے، آئندہ سال کی دوسری سہ ماہی تک نئی ریفائنری کے قیام کے باعث پٹرولیم مصنوعات درآمد میں کمی واقع ہوگی۔ اس موقع پر بائیکو آئل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو عامر عباس اور قیصر جمال سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔