برمی مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

(برما) کے مسلمانوں پرگزشتہ چار برس سے انسانیت سوزمظالم کا سلسلہ جاری ہے۔


Editorial December 13, 2016
(برما) کے مسلمانوں پرگزشتہ چار برس سے انسانیت سوزمظالم کا سلسلہ جاری ہے ۔ فوٹو:فائل

اس وقت عالمی سطح پرامت مسلمہ پرکڑا وقت ہے، متعدد اسلامی ملکوں میں شورش برپا ہے اور باہمی اتفاق واتحاد کی کمی کے باعث میانمار (برما) کے مسلمانوں پرگزشتہ چار برس سے انسانیت سوزمظالم کا سلسلہ جاری ہے اور فوج کے ذریعے ان کی نسل کشی بھی کی جاری ہے۔ عالمی رائے عامہ نے اس انسانی مسئلے پر چپ سادھ لی ہے۔اس سکوت کوگزشتہ روز امریکا نے توڑا ہے، واشنگٹن میں پریس بریفنگ کے دوران ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مارک ٹونزکا کہنا تھا کہ امریکا کو میانمار میں مسلمانوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتشویش ہے۔

حکومت انسانی حقوق کی تنظیموں اورمیڈیا کومتاثرہ علاقے تک رسائی دے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انتہائی کسمپرسی اور مفلسی کی زندگی بسرکرنے والے ان مسلمانوں کو تن ڈھانپے کے لیے کپڑے تک میسر نہیں،ان کی جنگلی علاقوں میں بنی گھاس پھونس کی جھونپڑیوں پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے حملہ کیا جاتا ہے اورجو بچارے بچ کر بھاگتے ہیں انھیں گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے۔ یہاں سولہویں صدی سے بسنے والے مسلمان 'شہریت' سے محروم ہیں۔دنیا میں یہ واحد قوم ہیں جن کے باعث اپنے ہی ملک کی شہریت نہیں ۔یہ بدنصیب جب مظالم سے تنگ آکر ہجرت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بنگلہ دیش کے سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں یا پھر تھائی لینڈ کے انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔

عالمی میڈیا کو رسائی حکومت نے دے رہی، یاد رہے کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اس ملک پرعائد پابندیاں اس وقت اٹھالی تھیں جب حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ انسانی حقوق کی علمبردار میانمارکی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی بھی مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش ہیں۔ امریکا، اقوام متحدہ سمیت تمام اسلامی ممالک کو اس انسانی مسئلے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے میانمارکی حکومت پر دباؤ بڑھانا چاہیے کہ وہ ان مسلمانوں کو انسانیت کے ناتے جینے کا حق دے،اگر حکومت میانمارایسا نہ کرے تو اس پرعالمی سطح پر سخت ترین پابندیاں عائد کی جائیں۔