گوادر پورٹ حفاظت کے لیے خصوصی ٹاسک فورس تشکیل
ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب نے دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں محدود کردی ہیں
RAWALPINDI:
گوادر میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے منعقد کی جانے والی 'انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس' میں پاک بحریہ کی خصوصی ٹاسک فورس 88 کو باضابطہ طور پر گوادر اور بندرگاہ کے اطراف کے سمندری راستوں کی حفاظت کی ذمے داری سونپی گئی۔ سی پیک کی اہمیت اور شرپسند عناصر کی جانب سے کسی بھی تخریب کاری کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹاسک فورس کے قیام کی یہ اطلاع خوش آیند ہے، جس کے تناظر میں وطن دشمن عناصر کو یہ واضح پیغام پہنچے گا کہ وطن عزیز میں امن و سلامتی کے قیام اور ترقی کے ضامن منصوبوں کی حفاظت کے لیے پاک افواج پوری طرح چاک و چوبند ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں میں گٹھ جوڑ ہر صورت ختم کریں گے۔ ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب نے دہشت گرد عناصر کی سرگرمیاں محدود کردی ہیں لیکن پاکستان کی ترقی کا ضامن سی پیک منصوبہ حریف ممالک کی آنکھوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔ پاک بحریہ کی خصوصی ٹاسک فورس کے قیام کے بعد مخالفین کسی بھی شرانگیزی سے باز رہیں گے۔ ٹاسک فورس 88 بغیر پائلٹ جاسوس اور جنگی طیاروں، جدید ہتھیاروں، فری گیٹس، فاسٹ اٹیک کرافٹس اور نگرانی کے جدید ترین آلات سے لیس ہوگی، اس کے علاوہ بحری راہدری میں پاک بحریہ کے میرینز تعینات ہوں گے۔
ماضی میں دہشت گرد عناصر کی جانب سے غیر ملکی انجینئرز اور ماہرین کا اغوا اور قتل کے واقعات کی سرکوبی کے بعد ان واقعات کا سدباب ہوچکا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اقدامات کے نتیجے میں چینی انجینئرز اور سرمایہ کار مکمل تحفظ محسوس کررہے ہیں، جس کے لیے پاک فوج، پولیس، لیویز، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اﷲ زہری نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی سرگرم کاوشوں، بلوچستان کے عوام کے بھرپور تعاون اور حکومت کی بہترین پالیسیوں کے باعث آج بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری نظر آرہی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امن اور ترقی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، پاک افواج کی کاوشوں، حکومت کی کوششوں اور عوام کی بھرپور شرکت سے سی پیک منصوبہ ناصرف صوبے اور ملک کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا بلکہ پورے خطے میں غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں مشرقی دنیا میں ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔