دہشتگردوں کی باقیات کے خاتمے کا حکم

سیاسی مصلحتوں کے تحت اور عدالتی نظام میں موجود سقم کے باعث دہشتگرد دوبارہ سرگرم ہو گئے


Editorial December 16, 2016

لاہور: کراچی میں مزار قائد پر حاضری کے بعد آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے کہا کہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے کراچی میں دہشتگردوں کی باقیات اور غیرسرگرم دہشتگرد عناصرکو بلاتفریق ختم کریں۔ بلاشبہ ایک واضح اور دوٹوک پیغام ہے دہشتگردوں کے لیے۔ اب کوئی نہیں بچے گا، سب کا نہ صرف خاتمہ کیا جائے گا بلکہ ان کی کمین گاہیں بھی ختم کی جائیں گی۔

پاکستان کے سب سے بڑے گنجان آباد شہرکی کچی بستیوں اور گردونواح کے علاقوں کو جرائم پیشہ عناصر نے اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا لیا تھا، ان میں طالبان اور دیگر جہادی گروپس کے افراد بھی شامل تھے جو آپریشن ضرب عضب کے باعث فرار ہو کرکراچی پہنچے، گینگ وار کے کارندے بھی تھے جنھوں نے لیاری جیسی پرامن بستی کے مکینوں کو یرغمال بنایا اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ بھی شامل تھے، را اور موساد کے ایجنٹ بھی اپنی مذموم کارروائیاں کر رہے تھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان سب نے کراچی کو ہشت پا آکٹوپس کی طرح جکڑرکھا تھا۔

عام آدمی کا جینا دوبھرہو گیا تھا اور سول انتظامیہ تقریباً بے بس اور لاچار ہو چکی تھی۔ ایسے میں کراچی آپریشن شروع کیا گیا جس نے شہر میں دہشتگردوں کے راج کو ختم کیا، بہت سے ہلاک اورسیکڑوں ہزاروں گرفتار ہوئے، تاحال یہ عمل جاری ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں رینجرز کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہیں، کراچی کی رونقیں بحال ہو رہی ہیں، عام آدمی نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن اب بھی دہشتگردوں کی باقیات سرگرم عمل ہیں۔

تازہ ترین واقعے میں روہڑی کے نزدیک دھماکا ہوا جہاں پاک چین راہداری منصوبے پرکام کرنیوالے چینی انجینئرز کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکا سے اڑا دیا گیا جس کے نتیجے میں ایک چینی سمیت 3 افراد معمولی زخمی ہوئے، گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا، ایک سائیکل کے پیچھے پانچ سوگرام دھماکاخیزمواد نصب کیا گیا تھا جسے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلاسٹ کیا گیا۔

قانون نافذ کرنیوالے اداروں کواس صورتحال کوآرمی چیف کی ہدایت میں دیکھنا چاہیے کیونکہ اس طرح واقعات رونما ہونے سے مورال ڈاؤن ہوتا ہے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا یہ کہنا انتہائی صائب ہے کہ کوشش کی جائے کہ آپریشن میں حاصل کی گئی کامیابیاں ضایع نہ ہوں۔ ماضی کی متعدد مثالیں موجود ہیں جب سول انتظامیہ اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بھرپورآپریشن کر کے کراچی میں امن بحال کیا لیکن سیاسی مصلحتوں کے تحت اور عدالتی نظام میں موجود سقم کے باعث دہشتگرد دوبارہ سرگرم ہو گئے اورکراچی سے امن رخصت ہوا لہٰذا اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ شہر میں وقتی طور پر تو امن بحال ہو جائے اور پھر دوبارہ دہشتگرد عناصرسر اٹھا لیں۔ امید ہے یہ آپریشن حقیقی اور دیرپا امن بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔